اکثر سوچتا ہوں کہ ہم انسان بھی کتنے بےبس، لاچار اور مجبور ہیں کہ اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا پاتے۔ ماضی کے مریض اور کچھ کریں نہ کریں گھٹ گھٹ کے مرتے ضرور ہیں، آخر کیوں؟ کیا دنیا کے سائنس دانوں اور ڈاکٹروں نے ایسی کوئی دوائی دریافت نہیں کی کہ جس کے کھاتے ہی انسان اپنے ماضی سے بے نیاز ہو جائے؟ کیا طبیبوں نے کوئی نسخہ اب تک تخلیق نہیں کیا کے جس کے سبب ماضی فراموش ہو سکے۔ کیا کسی روحانی پیر، فقیر کا کوئی دم ایسا ہے کہ جس کے سبب ہم ماضی کی قید سے رہائی پا جائیں؟
مجھے رہ رہ کر مولا امیرِ کائنات کا فرمان یاد آتا ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ تلواروں کے زخم بھر جاتے ہیں، زبان کی دھار کے لگے زخم نہیں بھرتے۔ جیسے زبان کی دھار کے لگے زخم کبھی نہیں پھر پاتے ویسے ہی کچھ رشتے اور لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جنکی جدائی کے زخم ہر سال ہرے ہوجاتے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ شاید یہ صرف میرے ساتھ ہی ہے یا اکثر کے ساتھ یہ معاملہ ہے۔
وقت کی گرد تہہ در تہہ ایسی جمتی ہے حالات و واقعات کی دبیز پرتیں ایسا پردہ بن جاتی ہیں کہ جنکے آر پار آپ کچھ نہیں دیکھ پاتے۔ لیکن کیا کیجئے ہم ماضی کے مریض جب جب وہ مخصوص وقت آتا ہے یاد کی آندھی سب کچھ اڑا کے رکھ دیتی ہے اور پھر دبیر تہہوں کے نیچے سے برآمد ہوتا ہے وہی سدا بہار زخم کو یادوں کے مریض کو ادھ موا کر دیتا ہے۔
آپ جتنا بھی جان چھڑا لیں، خود کو دنیاداری میں مشغول کر لیں، یاروں میں خود کو مصروف کر لیں، لیکن جب وہ خاص وقت آتا ہے تب آپ کی تمام مصروفیتیں یک لخت ختم ہوجاتی ہیں، آپ اکیلے، بالکل اکیلے اور وہ یاد اور آپ، یعنی ماضی کے مریض۔
کتنی ہی مرتبہ کوشش کر لی کہ نہیں، اب اور نہیں۔ اب میں مضبوط ہوگیا ہوں، اب مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔ اب میرا ضبط مثالی ہوگیا ہے۔ لیکن کیا کیجئے اس دل کا جب بھی ان کا تذکرہ ہوا، دل کچھ ایسا مچلا کہ ان آنکھوں نے آنسوؤں کی صورت انہیں خراج پیش کیا۔ پھر یہ خراج پیش کرنے کا سلسلہ کب تک رہے کچھ پتہ نہیں۔
تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے
ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
جلنا دو طرح کا ہوتا ہے، ایک تو تک جب آپ کے اندر آگ کا بھانبھڑ ہو، ایسا جلنا قدرے سہل ہوتا ہے، دوسرے جلنے میں الٹ ہوتا ہے، جہاں بھانبڑ کی جلن ہو وہاں دور سے پتہ چل جاتا ہے کہ آگ جل رہی ہے، لیکن دوسرا جلنا سلگھنا کہلاتا ہے، یعنی ایسا جلنا جس کا کسی کو پتہ بھی نہ چلے اور آپ جلتے جلتے ختم ہو جائیں۔ پہلی قسم کا جلنا قدرے آسان اس لئے ہوتا ہے کہ آگ پوری طاقت سے جلی اور پھر فوراََ بجھ گئی، لیکن دوسری صورت قدرے دقیق۔ مسلسل جلتے رہو، جانے کب تک۔۔
آج پھر 16 مئی ہے، آج پھر اسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پھر وہی کرب، پھر اُسی یتیمی کا سامنا کروں گا۔ آج جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو ابا جی کی سانسیں بحال تھیں، اب سے چند ساعتوں بعد یتیمی دروازے پہ دستک دے گی۔ آج گویا پھر اپنی آنکھوں سے ابا جی کو وداع کہنا پڑے گا، پھر خود پہ ضبط رکھنے کا ظلم کرنا پڑے گا، پھر غسل و کفن دینا پڑے گا، پھر قبر تیار ہوگی، آج پھر مجھے ہی جنازہ پڑھانا پڑے گا۔
کاش اے کاش یہ سب کرنے کے بعد قرار آجاتا۔ کاش رب اکبر کوئی ایسا "ری سیٹ" کا بٹن رکھ دیتا کہ جس کے دبانے سے انسان اپنی یادوں سے جان چھڑا پاتا۔ زندگی سہل ہو جاتی۔ لیکن کیا کیجے شاید انسان اسی لئے اشرف المخلوقات ہے کہ اسے محبت کا جزبہ دیا گیا ہے وہ بھی بدرجہ اتم۔ محبت کا لازمہ ہے جدائی۔ شاید یہ امتحان ہماری آخری سانس تک جاری رہے۔
یادوں کی اسی صلیب پہ ہر سال مصلوب ہو کر حیات کا دیا جلنا ہے تو چلیں پھر یوں ہی سہی۔ ایک مرتبہ اور مصلوب ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔۔
اکثر سوچتا ہوں کہ ہم انسان بھی کتنے بےبس، لاچار اور مجبور ہیں کہ اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا پاتے۔ ماضی کے مریض اور کچھ کریں نہ کریں گھٹ گھٹ کے مرتے ضرور ہیں، آخر کیوں؟