1. ہوم
  2. کالمز
  3. سید تنزیل اشفاق
  4. خوشی کی پوٹلیاں

خوشی کی پوٹلیاں

عرصہ دراز سے ہم تین دوستوں کا یہ معمول تھا کہ ہفتہ میں ایک دن ہم نے ملاقات ضرور کرنی ہے۔ یہ ملاقات عموماََ جمعہ کے دن ہوتی۔ اس ملاقات کا وقت اکثر دفتری اوقات کے بعد طے پاتا۔ ہمارا یہ معمول ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک دھائی پہ محیط ہے۔ اس سب میں میرا کردار "امی" کا تھا، جس نے کان سے پکڑ کر باقی دونوں دوستوں کو آمادہ کرنے سے لیکر ملنے کے مقام اور کیا کھانا ہے یہ تک طے کرنا ہوتا۔

ان تین دوستوں کی سنگت میں دو شادی شدہ اور ایک غیر شادی شدہ۔ عموماََ ہر ملاقات کے بعد جب بھی فراغت ہوتی، جیسے ہی الوداع کا نعرہ بلند ہوتا، غیر شادی شدہ دوست یوں طعنے مارتا جیسے سوتن طعنے مارتی ہے۔ ان طعنوں کی نوعیت یہ ثابت کرنا ہوتی کہ دونوں شادی شدہ دوست رن مرید ہیں اور جلدی گھر جا کر گھریلوں امور میں ہاتھ بٹانا ہے۔ ان طعنوں کا ماحصل یہ ہوتا کہ کچھ اور وقت گزارا جائے۔

پھر کچھ یوں ہوا کہ ایک دوست نے نوکری سے استعفیٰ دے دیا، غیر شادی شدہ دوست شادی کے بندھن میں بندھ گیا اور تیسرے کے والد کا انتقال ہوگیا۔ یہ تینوں عوامل ایسے ملے کہ ملاقات مفقود ہوگئی۔ چوتھا امر یہ تھا کہ "امی" کا کردار غائب ہوگیا۔ اب ملاقات تو چھوڑیئے فون پہ بات ہوئے چھ چھ ماہ لگ جاتے۔

جس دوست نے استعفیٰ دیا اس کا روٹ ملاقات والے روٹ سے ہٹ گیا، اب اسے 180 ڈگری دور سے آنا پڑتا۔ جس دوست کے والد کا انتقال ہوا اسے اس بات کی جلدی ہوتی کہ جلد از جلد گھر پہنچا جائے۔ تیسرا دوست تو ظاہر ہے کہ اپنی دلہن کو وقت دے رہا تھا، یہ وقت ضرورت سے کچھ ذیادہ ہی تھا۔

اس دوران جب کبھی ملاقات ہوئی اس بات کا اظہار ضرور ہوتا کہ تم ہمیں کہتے تھے کہ رن مرید ہو، گھر کے کام کرتے ہو، لیکن تم تو رن مریدی کی سپر لیٹیو ڈگری بھی کراس کر بیٹھے ہو۔ لگتا ہے کہ ہمیں ملنے کے لئے بھابھی سے اجازت طلب کرنے پڑتی ہے۔ موصوف ایسے شرم پروف کہ بجائے ندامت کے ہنس کے کہتے "بس یار کی کرییئے"۔

یہ عرصہ بس اسی تگ و دو میں گزرا کہ ہاں ملتے ہیں کچھ کرتے ہیں، جی ضرور ملنا چاہئے۔

پھر ایک دن یوں ہوا کہ ایک دوست نے گروپ کی "امی" کو فون کیا، فون کیا تھا ویک آپ کال تھی۔ سوئی ہوئی امی جسے بے ہوش امی کہنا ذیادہ مناسب ہوگا، خوابِ غفلت سے جاگی۔ اس فون سے امی کو یوں لگا کہ اس کا بچا نہ جانے کتنا تڑپ رہا ہے ملنے کے لئے۔ سو ماں کی مامتا جاگی اور نئے شادی شدہ دوست کو فون کیا، فون کیا کیا، آرڈر کیا کہ کل ملنا ہے۔

اگلے دن ملاقات کا مقام فائنل ہوا، سب دوست اکٹھے ہوئے، یوں لگا جانے کب کے بچھڑے ہوئے ہیں۔ گلے ملنے سے سینے میں ٹھنڈک پہنچی۔ جیسے پہ ملاقات اپنے عروج کی طرف مائل تھی، ایسا لگا ہی نہیں دوستی میں کہیں رخنہ یا تعطل آیا۔ وہ ہی مزاق، وہ ہی نوک جھونک، وہ ہی قہقہے لوٹ آئے۔ یادِ ماضی کریدتے رہے اور اچھا بیتا وقت یاد کرتے رہے۔

دوران ملاقات اس بات کا اندازہ ہوا کہ ہم تینوں اپنی زندگی کے مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، وہ یوں کہ تینوں اپنی زندگی کی چالیسویں دہائی میں قدم رکھ چکے ہیں۔ بچے جوان ہو رہے ہیں، اخراجات بڑھ رہے ہیں، صحت کے گوں نہ گوں مسائل کا سامنا ہے۔ ایک دوست کو نوکری سے رخصت کر دیا گیا، دوسرے دوست کے دفتری معاملات بھی درست نہ تھے، اتنے خراب کہ بے چارہ ڈپریشن کا شکار ہوگیا۔

اس ملاقات نے سب پہ مثبت اثر ڈالا۔ پریشانیوں کی حدت کو کسی حد تک کم کیا، اندر پکتا ہوا لاوا باہر نکلا اور جب واپس ہوئے تو بالکل ہلکے پھلکے۔ دورانِ ملاقات یہ تجویز سامنے آئی کہ ذیادہ نہیں تو ایک ماہ میں ایک دن ضرور اکٹھے گزارنا ہے، جو دوست بھی میسر ہوگا لازمی شرکت کرے گا۔ دوسرے یہ کی امی کا عہدہ بحال ہوچکا ہے اور امی ویسے ہی سب کو مقناطیس کی مانند اکٹھا کرے گی۔

اتنے عرصے میں شاید یہ واحد ملاقات تھی کہ جس میں تینوں دوستوں میں سے کسی کو جانے کی جلدی نہ تھی۔ کھانے کی فراغت کے بعد امی نے چائے کی پیش کش کی، جسے سب سے قبول کیا۔ چائے پی اور واپسی کا ارادہ ہوا۔ اس ملاقات کی ابتداء رات 8 بجے ہوئی اور اختتام رات 12:30 بجے۔

آپ سب سے یہی التجاء ہے کہ اپنے دوستوں کو ضرور ملتے رہیں، ایسا دوست کہ جس کے کندھے پہ سر رکھ کر آپ اپنے اندر کا لاوا باہر نکال سکیں، یوں آپ بعدِ ملاقات ہلکے پھلکے ہو جائیں گے اور دنیا کے مزید امتحانات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ یہ خوشی کی وہ پوٹلیاں ہیں جو ہر کسی کو میسر نہیں، جنہیں ہیں فقط وہ ہی ان کی قدر جانتے ہیں۔ ان خوشی کی پوٹلیوں سے جتنی خوشیاں کشید کر سکتے ہیں کر لیجئے کہ وقت اور یہ خوشی کی پوٹلیاں پھر نصیب ہوں نہ ہوں۔

اللہ کریم آپ کو آسانیاں عطاء فرمائیں اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطاء فرمائیں۔

سید تنزیل اشفاق

Syed Tanzeel Ashfaq

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔