گنبدِ خضریٰ معطر سا نظر آتا ہے
شاہِ کونین کا یہ گھر سا نظر آتا ہے
جب بھی کی آلِ محمد کے وسیلے سے دعا
اس میں جبرئیل کا اک پر سا نظر آتا ہے
آپ کے دستِ مبارک سے جو ہو جائے عطا
مجھ کو وہ قطرہ سمندر سا نظر آتا ہے
دیجئے مجھ کو پنہ سایہء رحمت میں شفیع
حشر سے مجھ کو تو اک ڈر سا نظر آتا ہے
شاہ رگ سے بھی جو نزدیک وہ دے اس کا پتہ
دل مرے کس کا بتا گھر سا نظر آتا ہے
آپ کے پاؤں کی برکت سے شہِ بلدِ اَمیں
آبِ زمزم بھی تو کوثر سا نظر آتا ہے
خاکِ طیبہ کو مَلا تھا میں نے آنکھوں پر
اب مجھے خلد کا منظر سا نظر آتا ہے
روضہء احمدِ مختار کے سونے کا کلس
بخت بیدار کا اختر سا نظر آتا ہے