1. ہوم
  2. مزاحیات
  3. علی رضا احمد
  4. جہاں کہیں رکھ دوں یہ وہاں نہیں ملتا

جہاں کہیں رکھ دوں یہ وہاں نہیں ملتا

جہاں کہیں رکھ دوں یہ وہاں نہیں ملتا
جہاں بھی رکھ بھولوں پھر جہاں نہیں ملتا

کہاں چراغ جلائیں کہاں دیا رکھ دیں
اٹھا لے چور جو پھر تو دھواں نہیں ملتا

ہوا کیا خاموشی ہے چپ ہو گم سم ہو
کبھی بھی گونگے کو ہم زباں نہیں ملتا

یہ سادگی ہی ہے کیا کس کو کہہ رہا ہوں میں
اے جانِ من مجھ کو جانِ جاں نہیں ملتا

میں اس لئے ہر جاتا ہوں ریس گھوڑوں کی
کوچ تو ملتا ہے کوچواں نہیں ملتا

کہیں سے چاک گریباں لا دیں دو اک شاعر
مشاعرے کے لئے غل فغاں نہیں ملتا

یہ مٹھی شرما کے بند ہونے لگتی ہے
جو ہاتھ پر شادی کا نشاں نہیں ملتا

تم ایک توپ ہی امریکیو دے دو مجھ کو اب
عدو ڈرانے کو کچھ یہاں نہیں ملتا

مجھے جگہ ملی احمد جو دل میں رہنے کو
وکیل کو تو گھر میں مکاں نہیں ملتا