جبر عربی زبان کا لفظ ہے، گرامر کے قواعد کی رو سے اسم مذکر ہے۔ اردو میں معنی زبردستی، دباؤ اور ظلم کے ہیں۔ مردانہ، پدر شاہی، پدرسری، جاگیردارانہ معاشرے میں یہ لفظ واقعی زیادتی، دباؤ، جفا اور ستم کی مکمل تفسیر بن گیا ہے۔ گھریلو معاملات میں جبر، تعلیم کے حصول میں جبر، کاروبار میں جبر، سیاست میں جبر اور اب فنکاروں و قلم کاروں پر بھی جبر کی صورت سامنے آگئی ہے۔
اس برس اگست میں عمر عزیز کے چالیس برس مکمل ہو جائیں گے۔ دس برس کی عمر میں اخبار پڑھ کر دادا کو سنانا شروع کیا تھا، کیونکہ دادا کی آنکھوں کا آپریشن ہوا تھا، اخبار بینی کی عادت ایسی پختہ ہوئی کہ ابھی تک جاری ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے چار اقسام کی خبروں نے ہمیشہ بے چین رکھا۔
لڑکی گھر سے بھاگ گئی۔ یہ سوال سب سے پوچھا کہ لڑکا بھی تو بھاگا، اکیلی تو نہیں بھاگتی۔ لیکن ساری لعن طعن لڑکی کو۔ آخر کیوں؟
وقت کے ساتھ خدا خدا کرکے بھاگنے کی وجوہات پر بات ہونا شروع ہوئی۔
دوسری خبر بہو کو جلا دینا، مار دینا، سوال یہ ہے کہ شوہر جو اس کو سسرال میں لانے کا باعث ہے وہ اس وقت کہاں تھا؟
اس پر بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے آواز اٹھانا شروع کی تو کمی آئی ہے۔ ختم بالکل نہیں ہوا ہے، جبر کی دوسری صورتیں رائج ہو چکی ہیں۔
تیسری خبر جو مستقل آ رہی ہے وہ ہے غیرت کے نام پر قتل، سندھ و بلوچستان میں کاروکاری اور پنجاب و کے پی میں غیرت کے نام پر عورت کا قتل۔
چوتھی خبر عورت کا جبری تبدیلی مذہب پنجاب میں عیسائی خواتین اس جبر کا نشانہ بنتی ہیں اور سندھ میں ہندو مذہب کی خواتین۔
ریاست کی نصابی کتب میں پڑھایا جاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ہے، اسلامی اقدار ہیں۔ گزشتہ دنوں اپنے تھیسز کے سلسلے میں چند نصابی کتب ایسی گزری جن میں واضح طور پر درج ہے کہ ملک میں تعلیم کا حصول خواتین کے لئے مشکل ہے، ملک میں نوجوانوں کو خاص طور پر نوجوان خواتین کو مساوی حقوق و مواقع میسر نہیں ہیں۔
جہیز ایک لعنت ہے۔
لیکن یہ سب درسی کتب میں پڑھنے کے باوجود عوام میں جبر کے خلاف کھڑے ہونے کا شعور نہیں ہے۔ بلکہ بیانیہ ایسا بنا دیا گیا ہے جو جبر کے خلاف آواز بلند کرے گا اسے غدار و بے حیا کے القابات سے نوازا جائے گا اور اس بیانیے کے دھوکے میں اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد بھی آ جاتے ہیں۔
جاگیرداری و قبائلی نظام میں مقابل کو زیر کرنے کے لئے مخالفین کی خواتین کو اٹھانا، ریپ کرنا ایک ہتھیار کے طور پر ہے چونکہ ملک کی اسمبلیوں اور با اختیار عہدوں پر بھی جاگیرداری سوچ کے حامل افراد موجود ہیں اس لیے سیاست میں بھی یہی حربہ استعمال کیا گیا، ماضی میں کراچی کی سیاسی جماعت کو دباؤ میں لانے اور اختیارات غضب کرنے کے لئے سیاسی کارکنان کے گھروں میں بنا وارنٹ تلاشی کے بہانے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔
ملک کے ایک نامور صحافی نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ صحافیوں سے اپنی بات منوانے کے لئے ان کے گھروں کی خواتین کو اٹھایا گیا۔
عورتوں پر جبر کی ان بد صورتیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے سن دو ہزار اٹھارہ میں عالمی یوم خواتین پر دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی "عورت مارچ" کا آغاز ہوا، ان گنت مخالفین کی لمبی زبانوں کی گالم گلوچ، طعن و تشنیع کے بعد اب جب عوام اور خود خواتین بھی سمجھنے لگیں، کہ ہاں عورتوں کو اس مردانہ سماج میں مسائل ہیں، رزق کے حصول کی محتاجی سے لے کر اپنی زندگی کی ضمانت سمیت تو ریاست کی طرف سے "عورت مارچ" کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ آٹھ مارچ دو ہزار چھبیس کو اسلام آباد میں عورت مارچ کے منتظمین اور شرکاء کو گرفتار کیا گیا، مرد شرکاء پر ڈنڈے برسائے گئے جب کہ شرکاء میں سینئر سٹیزن بھی شامل تھے۔
گزشتہ جمعے اکادمی ادبیات اسلام آباد جانا ہوا تو ایک سینئر صحافی خاتون سے ملاقات ہوئی، ان کا ہاتھ ابھی تک ٹھیک سے کام نہیں کر رہا ہے، کیونکہ وہ عورت مارچ کی میڈیا کوریج کے لئے وہاں موجود تھیں اور ان کو اپنے فرض کی انجام دہی پر یہ سزا دی گئی کہ کیمرا و فون ان کے ہاتھ پر ڈنڈے مار کر چھینے گئے۔ تھانے میں بند کیا گیا، نہ صرف ان کو بلکہ دیگر خواتین صحافیوں، منتظمین و شریک خواتین کو بھی۔
کراچی میں رمضان المبارک کے باعث عورت مارچ کا انعقاد نہیں کیا گیا، لیکن مئی کے پہلے ہفتے میں "ماؤں کے عالمی دن" پر تمام خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے عورت مارچ کے منتظمین نے جب "این او سی" کے لئے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنی چاہی تو دنیا بھر میں پاکستان کے سافٹ امیج کی علامت فنکار و ثقافتی شخصیت "شیما کرمانی" اور دیگر خواتین ارکان کو پریس کلب میں داخلے سے روکنے کے لئے باوردی تشدد کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔
پچھتر برس کی بزرگ شیما کرمانی صاحبہ کو سڑک پر گھسیٹا گیا اور نازیبا کلمات کہے گئے۔ چند گھنٹوں کے بعد ان کو رہا کر دیا گیا اور انہوں نے پریس کانفرنس کی۔ لیکن جبر کی اس صورت کو کیا نام دیا جائے؟
وہ ریاست جو ہمہ وقت محب الوطنی، اعلی اخلاقی اقدار، عورت کی عزت وغیرہ وغیرہ کا پرچار کرتی ہے وہ عورت مارچ کے بے ضرر پوسٹرز، قلم کار و فنکار خواتین سے آخر کیا خطرہ محسوس کرتی ہے جو عورت مارچ کرنے پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے؟
ہم اس ریاستی جبر کی مذمت کرتے ہیں اور کراچی کی باشعور خواتین کو دس مئی 2026 کو عورت مارچ میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔