سانحات پر سیاست کرنا گھٹیا ترین عمل ہے خواہ عوام کریں یا سیاسی جماعتیں۔ سانحہ گل پلازہ ایک اہم سبق ہے اہل کراچی کے لئے جو اربوں روپے عمارات کی مینٹینس، پارکنگ کی فیس کی مد میں شہر میں موجود "مختلف یونیز" کو دیتے ہیں۔
سب سے اہم سوال ریاست سے بنتا ہے جس نے کراچی کو تباہ کرنے میں پورا کردار ادا کیا ہے۔ ہر جماعت کے سیاسی کارکنان کو غنڈے بنا کر کراچی میں چھوڑ دیا گیا۔
دنیا کے ہر صنعتی شہر میں ایسی عمارات ہوتی ہیں لیکن ریاست ذمہ داری نبھاتی ہے، باقاعدگی سے چیکنگ اور حفاظتی اقدامات۔
یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ایک کلاس فیلو کی والدہ کا انتقال ہوگیا، ہم تین کلاس فیلو لڑکیاں گلشن اقبال کے ایک بڑے پروجیکٹ کے اپارٹمنٹس میں کلاس فیلو کے گھر تعزیت کے لئے پہنچے۔ پانچویں منزل پر جانا تھا لیکن لفٹ خراب تھی، جوانی کی طاقت میں ہم نے سوچا کہ سیڑھیاں چڑھتے ہیں۔ لیکن تیسرے زینے پر گھپ اندھیرا، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے۔ ہم بوکھلا کر واپس اترے۔ کلاس فیلو کے بھائی نیچے آئے اور کسی طرح ملگجے بلب آن کروا کر ہم کو اوپر اپارٹمنٹ میں لے گئے۔
اس وقت بھی آٹھ ہزار مینٹینس کی مد میں دیئے جاتے تھے۔ لیکن کوئی انتظام نہیں تھا، روفی، صائمہ، ارم، ڈیسنٹ، کیسل، سارے بڑے بڑے پروجیکٹس اور نام لیکن کوئی حفاظتی انتظامات نہیں۔ صرف پیسے اینٹھے جاتے ہیں۔ باشعور عوام دیتے رہتے ہیں اور بدلے میں سانحات جھیلتے ہیں۔ گل پلازہ کی بھی یونین ہوگی کہاں ہے وہ؟ ریاست کا کیا قانون ہے اس کے متعلق۔ کسی کو معلوم ہے؟
امتیاز سپر اسٹور میں بھی زینوں پر سامان کے کارٹن رکھے رہتے ہیں۔ جب بھی گئی مینیجر کو کہا، زینہ خالی کیجئے۔ ناہید سپر مارکیٹ میں بھی کہا ایک لفٹ سامان کے لئے اور ایک کسٹمر کے لئے رکھیں۔ لوگ ہم جیسے باشعور افراد کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں، نخرے باز و لڑاکا سمجھتے ہیں، اپنے حقوق کا خیال ہی نہیں ہے کہ اتنا ٹیکس، اتنے بلز اور زرعی ملک میں چھ سو روپے کلو میں دالیں خریدنے والے۔ کس قدر بے وقوف ہیں ہم۔
جن کے کاروبار برباد ہو گئے ان کا کیا ہوگا؟ ریاست فوٹو سیشن سے فارغ ہو تو کچھ دیکھے، ریاست تو صرف پنجاب میں ہے۔ باقی سب بلاوجہ اور خواہ مخواہ ہیں۔ سندھ حکومت اس ضمن میں کیا کرے گی؟ ابھی بیانات گول مول و سیاسی ہونگے، جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
خدا ہمیں ہدایت و صبر جمیل عطا فرمائے۔