معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور ہر فرد اپنی سوچ، عمل، کردار اور رویے سے معاشرے کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم بطور فرد اس معاشرے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم صرف شکایت کرنے والے بن چکے ہیں یا ہم نے بہتری کے لیے کوئی مثبت قدم بھی اٹھایا ہے؟ ہم اکثر صرف شکوہ کرتے ہیں۔ ہم نظام، حالات، ادارے، سیاستدان، نصاب، معیشت، اخلاقیات، غرض ہر چیز پر تنقید تو کرتے ہیں، لیکن خود اپنا کردار ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم انتظار کرتے ہیں کہ کوئی اور آئے گا، حالات بدلے گا، اصلاح کرے گا۔ مگر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ معاشرے کی بہتری کا سفر فرد سے شروع ہوتا ہے۔
آج ہم بے شمار مسائل کا شکار ہیں: بدعنوانی، عدم برداشت، مہنگائی، تعلیم کی کمی اور سماجی ناانصافی۔ ہر شخص ان مسائل پر بات کرتا ہے، تنقید کرتا ہے، سوشل میڈیا پر پوسٹس کرتا ہے، مگر عملی کردار ادا کرنے سے کتراتا ہے۔ معاشرتی اصلاح صرف حکومت یا ریاست کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ماحول بہتر ہو، تو ہمیں خود کو بہتر بنانا ہوگا۔ -کیا ہم نے کبھی کسی غریب بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھایا؟ کیا ہم نے کسی بیمار کا علاج کروانے میں مدد دی؟ کیا ہم نے اپنے رویے سے کسی کو تکلیف دینے کے بجائے سہارا دیا؟ کیا ہم نے اپنے اردگرد پھیلے تعصب، نفرت اور جھوٹ کے خلاف آواز بلند کی؟
ہم دوسروں سے توقعات باندھتے ہیں، مگر خود کو تبدیل نہیں کرتے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ چھوٹے چھوٹے مثبت کام بھی بڑے معاشرتی انقلاب کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔ ایک خوبصورت اصول ہے: "جو دیا جائے، وہی لوٹ کر آتا ہے"۔ اگر ہم خیر بانٹنے والے بن جائیں، تو نہ صرف دوسروں کی زندگی میں سکون، خوشی اور آسانی آتی ہے، بلکہ خود ہماری زندگی بھی رحمتوں سے بھر جاتی ہے۔ خیر صرف مال یا دولت دینے کا نام نہیں، بلکہ مسکراہٹ، دعا، نرمی، اچھا سلوک، علم، وقت، صلاحیت، محنت اور محبت بھی خیر ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے: "أَحُسِنُوا إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الُمُحُسِنِینَ"، "اور احسان کرو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے"۔
اقوام کی ترقی اور زوال کا انحصار محض اُن کے وسائل یا تاریخ پر نہیں، بلکہ اُن افراد پر ہوتا ہے جو اس قوم کا حصہ ہوتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے بڑے خوبصورت انداز میں فرمایا: "ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ" یعنی ایک ایک شخص اپنے عمل، سوچ اور کردار سے پوری قوم کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مصرع ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل نہ کریں، بلکہ بطور ایک فرد ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنے حصے کا چراغ جلائیں۔ مشکلات ہمیشہ نہیں رہتیں۔ دن اور رات کی گردش کی طرح، انسان کی زندگی میں بھی حالات بدلتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرماتے ہیں: "بیشک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے"(الانشراح 6-5)۔ یعنی مصیبت کے بعد راحت ضرور آتی ہے۔ ہر پریشانی ایک آزمائش ہوتی ہے، جس کے بعد صبر، توکل اور استقامت کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کامیابی عطا کرتا ہے۔ یہ زندگی کی وہ ٹھوکریں ہیں جو ہمیں خودی کا شعور دیتی ہیں، ہمیں جھنجھوڑ کر جگاتی ہیں اور اپنے رب کے قریب لے جاتی ہیں۔ جو لوگ ان حالات میں ہار نہیں مانتے، وہی اصل کامیاب لوگ ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہر زخم بھرتا ہے، ہر آنکھ سے بہنے والا آنسو خشک ہو جاتا ہے اور ہر تنگی آسانی میں بدل جاتی ہے، بس ضرورت ہے صبر اور یقین کی۔
ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ گواہ ہے کہ جب ان کے عام شہریوں نے خود کو ذمہ دار سمجھا، تو اجتماعی شعور بیدار ہوا اور قومیں بلندیوں پر جا پہنچیں۔ یہی اصول اسلام نے ہمیں سکھایا کہ معاشرے کا ہر فرد اپنی جگہ ایک ستون ہے، جس پر پوری عمارت کھڑی ہے۔ اگر استاد اپنا کردار بھرپور انداز میں نبھائے، طالب علم علم کے حصول میں سنجیدہ ہو، تاجر دیانت داری کو اپنائے اور عام شہری قانون اور نظم و ضبط کا پاس رکھے، تو ایک مہذب، ترقی یافتہ اور روشن خیال معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
آج ہمیں بحیثیتِ قوم اس سوچ کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم خود احتسابی، اصلاحِ نفس اور قوم کے لیے کردار ادا کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر ہر فرد صرف اپنے حصے کا کام کرے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے تو یہ معاشرہ ایک خوبصورت جگہ بن سکتا ہے۔ اپنے گریبان میں جھانکنے کا وقت ہے۔ معاشرے کی بہتری تب ممکن ہے جب ہم خود سے سوال کریں: "ہم نے معاشرے کے لیے کیا کردار ادا کیا؟" اور اس سوال کا جواب عمل سے دیں، الفاظ سے نہیں۔
یہ پیغام نوجوان نسل کے لیے بالخصوص ہے۔ وہ لوگ جو تبدیلی کا خواب دیکھتے ہیں، انہیں شکوہ کرنے سے زیادہ عمل کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔ اگر تعلیم کا معیار گرتا نظر آئے تو خود پڑھنے اور سکھانے کی ذمہ داری لیں۔ اگر معاشرے میں اخلاقی انحطاط ہے تو خود اخلاقیات کا نمونہ بنیں۔ اگر معاشی مسائل ہیں تو کفایت شعاری، محنت اور خود انحصاری کو اپنائیں۔ یاد رکھیں، دنیا وہی بدلتے ہیں جو پہلے خود کو بدلتے ہیں۔ تو آئیں ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم شکوہ ظلمتِ شب کے بجائے اپنے حصے کی شمع جلائیں گے۔
یاد رکھیے، قومیں فرد سے بنتی ہیں اور فرد جب بیدار ہوتا ہے تو ملت کے خواب حقیقت بن جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں، طلبہ اور نوجوانوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ وہ معمولی نہیں، بلکہ ملت کے ستارے ہیں۔ ان کا کام، ان کی سوچ اور ان کا عزم ہی اس ملک و ملت کا مقدر ہے۔ خیر بانٹنے والے انسان معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ وہی چراغ ہوتے ہیں جو دوسروں کے اندھیرے مٹاتے ہیں اور خود بھی روشن رہتے ہیں۔ آئیے! آج سے عہد کریں کہ ہم بھی خیر بانٹنے والے بنیں گے، بغیر کسی صلے کے، بغیر کسی شہرت کے، بس اللہ کی رضا کے لیے۔ کیونکہ: "خیر بانٹنے والے بن جاؤ، زمانہ تمہیں یاد رکھے گا!"