/ کالمز / عابد ہاشمی / نوجوانوں کا عالمی دن

نوجوانوں کا عالمی دن

پاکستان سمیت دُنیا بھر میں آج نو جوانوں کا عالمی دن منایا جائے گا۔ اس دن کے منانے کا مقصد نوجوانوں کے مسائل کا حل اور ترقی کے لیے مواقعوں کو تلاش کرنا ہے۔ 12 اگست 1998 میں اقوامِ متحدہ نے پہلی بار عالمی یومِ نوجوانان منانے کی منظوری دی تھی۔ جس کے تحت عالمی سطح پر 12 اگست کو نوجوانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ہر سال کی طرح امسال بھی نوجوانوں کی حصہ داری ٗ تحفظ ٗ سماجی انصاف ٗ مستقل امن ٗ روزگار کے مواقعوں کے تحت عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر نہ تو نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح میں کمی ہو سکی اور نہ ہی غریت سے نجات دلائی جاسکی۔ جب کہ یہ دن گزشتہ 18 سالوں سے مسلسل جوش و خروش ٗ خوشنما وعدوں ٗ بے روزگاری ٗ غربت ٗ خوراک کی کمی ٗ ناخواندگی ٗ پانی و سینی ٹیشن ٗ عدم صنفی ٗ مساوات جیسے مسائل کو ختم کرنے کے ارادے سے منایا جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دُنیا کا ہر چوتھا نوجوان غربت کا شکار ہے اور ہر پانچواں روزگار سے محروم ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق دُنیا میں سوا دو کروڑ افراد اقتصادی بحران کے باعث وطن چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جن میں سے اکیس لاکھ نوجوان ہیں۔ اقوام متحدہ پالولیشن فنڈ یو این ایف پی اے کے مطابق دُنیا میں اس وقت 8.1 ملین نوجوان موجود ہیں۔ جن کی عمر 10 سے 24 سال کے درمیان ہے۔ دنیا بھر میں موجود نوجوانوں میں سے 12.6 یعنی 75 ملین نوجوان بے روزگار ہیں۔ اور پھر رپورٹ کے مطابق 62 ملین لڑکیاں تعلیمی کے بنیادی حق سے ہی محروم ہیں۔ یونیسیف کی رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ ہر سال دنیا میں 15 ملین شادیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم ہوتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں ہر تین میں سے ایک لڑکی کی شادی جبراً کر دی جاتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق نوجوان اپنی منزل پر پہنچنے تک قوانین اور مقامی ثقافت سے نابلد ہونے کی وجہ سے نسل پرستی ٗ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ٗاور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بالخصوص خواتین جنسی استحصال اور ناروا سلوک سے دو چار ہوتی ہیں۔ بمطابق رپورٹ ایشیاء میں سب سے زیادہ 754 ملین نوجوان موجود ہیں۔ دُنیا بھر کی آبادی کا چھٹا حصہ جبکہ پاکستان میں کل آبادی کا نصف نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

ملک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 24 سال کی عمر کے صرف 9 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں جبکہ عالمی اداروں کے مطابق یہ شرح 16 فیصد ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے نوجوانوں کا کرداد ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال بیس لاکھ نوجوان یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کر کے نوکریاں تلاش کرتے ہیں۔ جووطن عزیز میں نوجوانوں کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ جب کہ روزگاری کی شرح 1.9 فیصد ہے۔ بہت ساری اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان نسل پرائیوٹ سیکٹر میں انتہائی کم اجرت پر کام کر رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا دوہرا معیارِ تعلیم ٗ اور اس نصاب کا اپ ٹو ڈیٹ نہ ہونا بھی ہے۔ علاوہ ازیں اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کو روزگار ٗ کھپت کے لیے ملکی معیشت کا سالانہ سات فیصد شرح سے ترقی کرنا ضروری ہے لیکن گزشتہ سالوں سے اب تک ملک کی معیشت کی شرح نمو صرف تین سے چار فیصد ہے اقوام متحدہ کی ذیلی ادراے یونائینڈ نیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نوجوان مرد اور خواتین کی شرح برابر ہے۔

وطن عزیزمیں 70 فیصد نوجوان پڑھے لکھے ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر نوجوانوں کی ہے۔ جب کہ 29 فیصد 19 سے 29 سال کے درمیانی عمر کے ہیں۔ 100 فیصد میں سے 64 فیصد نوجوان شہروں میں آباد ہیں۔ ملک کی 33 فیصد نوجوان شادی شدہ ہیں۔ وطن عزیز میں صرف 39 فیصد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں جبکہ 61 فیصد بے روزگاری کا شکار ہیں۔ پاکستان میں 77 فیصد نوجوان غمِ روزگار میں تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ 15 سے 29 سال کی آبادی ملک کے مجموعی لیبر فورس کا 41.6 فیصد ہے 40 لاکھ نوجوان ہر سال جاب مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔ دو فیصد مردوں ٗ خواتین کو روزگار کی تلاش ہے جب کہ 57 فیصد بے روز گاروں کو ملازمت کی تلاش ہی نہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایسے ممالک کو ہر سال 10 لاکھ افراد کو روز گار کے مواقع فراہم کرنے چاہیے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیابی پروگرام کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 77 فیصد نوجوان ذاتی سواری سے محروم ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 36 فیصد نوجوان اپنے مستقبل سے نا امید ہو چکے ہیں۔ جبکہ 16 فیصد کی رائے کہ مطابق مستقبل میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اور پھر 1 سے 5 پانچ سال کی عُمر کے بچوں کے لیے تعلیم 16 فیصد ٗ چھ سے دس سال کی عمر تک 40 فیصد ٗ گیارہ سے 12 سال کے درمیان کے لیے نو فیصد ٗ 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کو حصولِ تعلیم کے06 فیصد مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ 29 فیصد افراد کو تعلیم کی سہولتیں ہی میسر نہیں۔

آزاد کشمیر میں زلزلہ 2005ء کے بعد آج تک کئی نوجوان چھتوں کے بغیر سکولوں میں کھلے آسمان نیچے پتھروں پر بیٹھ کر تعلیم کے حصول میں مشغول ہیں۔ جب کہ آزاد کشمیر کی شرح پاکستان کے صوبوں سے زیادہ ہے۔ غربت کی مجبوری سے کئی معمارِ قوم تعلیم کی بنیادی سہولت سے محروم ہو کر نہ صرف اپنا مستقبل تاریکِ بلکہ معاشرے کے لیے بھی بوجھ بن رہے ہیں۔ نوجوان طبقے کے لیے سب سے بڑے مسائل بے روزگاری ٗ غربت نمایاں ہیں۔ پاکستان اپنی بہت زیادہ افرادی قوت کے اعتبار سے دُنیا کے ممالک میں دسویں نمبر پر ہے۔ لیکن مقامی منڈی میں اتنی بڑی افرادی قوت کی خاطر خواہ کھپت نہیں۔ جس کی وجہ سے نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً چار ملین نوجوان نہ تو تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی روزگار ہے جو غربت میں اضافہ کا بڑا سبب ہے۔ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ لیکن شومئیِ قسمت ہمارے نوجوان بے چینی ٗ ڈپریشن ٗ بے روزگاری کا شکار ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پہلے سے زیادہ بے چینی ٗ ڈپریشن کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ سے ہارٹ اٹیک میں اضافہ ٗ نوجوان ایسے رویے ٗ عادات اپنا لیتے ہیں جو ملک و قوم کے لیے نقصان ہے۔ ایک سروے میں بتایا گیا کہ پاکستان میں جوان لڑکوں میں تعلیم کی شرح 50 فیصد اور لڑکیوں میں 40 فیصد ہے۔ غیر سنجیدہ پالیسوں کے باعث وطن میں چائلڈ لبیر ملک کی تاریخ کا سیاہ باب رہا ہے اور موجود بھی ہے۔ نوجوانوں کومسائل کے خاتمے ٗ روزگار کی خواہش ٗ تعلیم سے دوری اختیار کرنا پڑتی ہے۔ بایں ہمہ نوجوان اکثر بے چینی ٗ ذہنی الجھن ٗ تبدیلی ٗ ضدی چڑ چڑا پن ٗ عدمِ توجہی کا شکار ہیں۔ 

ہمیں نوجوان نسل کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایسی ٹھوس پالیساں بناناہوں گی جن سے معاشرے میں مزید بگاڑ ٗ بے روزگاریٗ بے چینی ٗ غربت جیسے مسائل سے نسل نو کو نکالا جائے۔ مستقبل کے معمار تاریک راہوں سے نجات پا سکیں۔ نوجوانوں کے مسائل ٗ تعلیم ٗ تربیت کے لیے فوری طور پر قانون سازی کے ساتھ ہی اس پر عمل درآمد بھی ہونا وقت کا تقاضا ہے۔ پاکستان کے بہترین مستقبل ٗ ملکی ترقی کی خاطر اپنی نوجوان نسل کو درست سمت کی طرف لایا جائے۔ تاکہ یہی نوجوان نسل ملک کو بہترین مستقبل دے سکیں ان کی بے چینی ٗ غربت کم ہو سکے اس سلسلہ میں بذریعہ میڈیا اپنا مثبت کردار نا گزیر ہے اور پھر ایسے مجبور غریب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان جو ڈگری بغل نیچے دبائے خوار ہو رہے ہیں انہیں زیادہ نہیں تو گزارہ الاوئنس دیا جائے تاکہ وہ محنت ٗ لاکھوں کی مد میں فیس ادا کر کے بجائے ملک و قوم کی ترقی میں کردار کے ٗ اپنے گھر ٗ معاشرے کے لیے بوجھ بنیں۔ اللہ تعالیٰ وطنِ عزیز کو تمام مصائب سے بجات دیں اور اسلامی بنیادوں پر ترقی کی منازل طے کرنے میں حامی و ناصر ہو۔

عابد ہاشمی

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔