Tuesday, 12 November 2019
/ کالمز / عابد ہاشمی / ہمارا نظام تعلیم!

ہمارا نظام تعلیم!

ترقی یافتہ اقوام نے علم کے میدان ٗ خصوصاً سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ناقابلِ یقین ترقی کی ہے جس کے باعث ان کے اندازِ فکر ٗ قدریں ٗ اور طرزِ زیست تبدیل ہورہا ہے تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دُنیا کے ملکوں میں پاکستان 160 نمبر پر ہے جس کی شرح خواندگی 55%ہے ملک کے ڈھائی کروڑ بچے اب تک سکول جانے سے محروم ہیں جس کی ایک وجہ والدین کا بچوں کوسکول بھیجنے سے انکار ہے ہر 10 میں سے 4 بچے سکول نہیں جاتے ٗ جب کہ 10 میں سے 02 بچے مہنگی تعلیم کے باعث داخلہ نہیں لیتے ٗ لڑکوں میں شرح خواندگی 70%ٗ جب کہ 46% شرح خواندگی لڑکیوں کی ہے ٗ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں وطن عزیز کی ایک بھی یونیورسٹی دُنیا کی پہلی 100 یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے ٗ سب سے اہم بات یہ کہ وطنِ عزیزکا تعلیمی نظام جدید دور کے تقاضوں سے60 سال پیچھے ہے مزید برآں پاکستان میں پرائمری سطح پر تعلیم نئے دور کے تقاضوں سے 50 سال پیچھے ہے۔ یہ وہ بنیادی تعلیم ہے جس سے ایک بچے کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور پھر تشویشناک صورتحال یہ بھی ہے کہ اکثریت ماسٹر لیول تک کے فارغ التحصیل ایک خاکہ دیکھ کر کہانی لکھنے ٗ اپنا مدعا درست طور پر رقم کرنے سے قاصر ہیں انگریزی تو درکنار اپنی زبان اردو میں تحریر لکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہونے کے ساتھ ہی ایک جامع اردو کے درست تلفظ میں درخواست نہ لکھ سکنا ہمارے نظام تعلیم کا عملی ثبوت ہے۔ یہ وہ سٹوڈنٹس بھی نہیں جنہیں اداروں سے نالائق کا اعزاز ملتا ہے بلکہ یہ ان کی بات ہورہی جن کہ A+گریڈ ہوتے ہیں لیکن عملاً وہ اپنی ڈگری کے برابر تودور کی بات 50%بھی کام نہیں کر پاتے جس کے باعث کئی پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کا شکار ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکے اور انہیں پڑھے لکھے جائل کے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ ساتھ ہی کوئی اخلاقیات ہمارے نظام تعلیم میں شامل نہیں ٗ جس سے معاشرے میں عدم برداشت کا رحجان بڑھتا جارہا ہے۔ ان عوامل سے بچہ معاشی حیوان تو بن سکتا ہے لیکن ایک اچھا شہری کبھی بھی نہیں۔ یہ وہی فارمولا ابھی تک چل رہا ہے جو لارڈ میکالے نے 200 سال پہلے دیا تھا کہ کوئی بھی تحقیق ٗ تخلیق نہ ہو سکے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں یونیفارم پالیسی نہ ہونے کے باعث قوموں کی برابری میں ہم بہت پچھلی صفوں میں کھڑے ہیں ایک بڑا مسئلہ ہے جو کہ وطنِ عزیز کے ہر صوبے میں اپنا تعلیمی نصاب ٗ حتی کہ اب تو ہر سکول میں اپنی مرضی سے نصاب منتخب کیا جاتا ہے جس سے غریب امیر کے درمیان خلیج پیدا ہو رہیتو غریب کی عزت نفس مر جاتی ہے جو والدین غریب میں پیٹ کاٹ کر اولاد کی تعلیم کی سعی کرتے ہیں تو جب انہیں یہ پتا لگتا ہے کہ ملازمت میں آکسفورڈ نصاب والے ہیں ہم نے تو وہ نام ہی نہیں سنا تب وہ محنت کش خواتین ٗ مرد مجبور ہوتے ہیں اور ان کا تقدس مٹ جاتا ہے ہمارے یکساں تعلیمی نصاب کے نہ ہونے کی وجہ سے ہر روز یہ ستم بڑھ رہے ہیں کم ہوتے نظر نہیں آتے اور نہ ہی اس نظام میں ہوں گے محنت کشوں کو عدم یکسانیت نصاب نے بددل اور بردباد کیا ٗ اسی کشمکش میں غریب کے لیے معیاری تعلیم ناپائید ہوتی جارہی کیونکہ اچھے اداروں کی فیس غریب کی دسترس سے باہر ہے اور غریب کی پہنچ والوں اداروں میں وہ معیارِ تعلیم نہیں۔ نصابی تفریق سے تعلیم کا مقصد بھی بدل جاتا ہے نصاب کہ یکساں نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم و تربیت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں ذہانت ٗٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے جن نوجوانوں کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے وہ ضرور لوہا منواتے ہیں ہمارے موجودہ تعلیمی نظام نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا اس نظام سے قوم منقسم ہو رہی ہے۔ پہلے پھر بھی تھیوری پیپرز سے بچہ کتاب پڑھتا تھا جس سے علم میں اضافہ ممکن تھا لیکن اب MCQs اور نمبرات کی دوڑ نے رہی سہی کسر بھی نکال دی اچھے نمبرات لینے والوں میں بھی بہت کم معلومات رکھتے ہیں اکثریت بنیادی علم سے بھی نابلد ٗجس کی زندہ مثال اکثر ٹیسٹوں میں ہزاروں میں سے بمشکل سو امیدواران سخت محنت کے بعدکامیابی حاصل کر پاتے ہیں اور یہ بھی ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ملک کو تباہی سے بچائیں تو ہم سب کا بنیادی فرض ہے کہ ہم محض رسمی تعلیم اور موروثی نہیں بلکہ علم و تحقیق اور یکساں نظام نصابِ تعلیم ہونا چاہیے ہماری تعلیم اتنی مدلل ٗ سائنٹفک اور فطری انداز میں ہوکم از کم تحقیق علم و فکر ذہانت جستجو سے دریافت کیا جائے۔ روزنامہ دُنیا کا بچوں کے لیے تصویر دیکھ کہانی لکھیں یقیناًتخلیق کی جانب بچوں کو ترغیب دینا ملک و قوم کے لیے ایک انمول تحفہ ہے اس سے بچے کوئی بھی تصویر دیکھ کر کہانی شوق سے لکھتے ہیں جس کی نوک پلک کر کے شائع کر کہ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اس سے بچوں کے اندر خود اعتمادی قائم ہوتی ہے جو متاعِ حیات ہے کیونکہ ہمارے اکثر نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ تو ضرور ٗ مگر خود اعتمادی سے بات کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ اگر ہم نے نئی نسل کو جدید تقاضوں کے عین مطابق علم کی روشنی دینی ہے تو اس کے لیے یکساں نصابِ تعلیم ناگریز ہے تاکہ کسی غریب محنت کش اور کمزور کے بچے کی محنت کے باوجود ان کی تضحیک نہ ہو اور ہمارے وطن عزیز میں یکساں نصابِ تعلیم ہو !

عابد ہاشمی

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔