1. ہوم
  2. عابد ہاشمی
  3. صفحہ 1

یہ آنکھیں خون روئیں گی

عابد ہاشمی

کچھ جملے محض کہے نہیں جاتے، وہ انسان پر گزرتے ہیں۔ یہ مصرع بھی ایسا ہی ہے، اس میں درد کی وہ شدت چھپی ہے جو شور نہیں مچاتی، بس اندر ہی اندر سب کچھ چیر ڈالتی ہے۔

مزید »

زمانہ تمہیں یاد رکھے گا

عابد ہاشمی

معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور ہر فرد اپنی سوچ، عمل، کردار اور رویے سے معاشرے کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم بطور فرد اس معاشرے کے لیے کیا کر رہے

مزید »

کامیاب اور بلند مرتبہ لوگ

عابد ہاشمی

ہمارا معاشرہ آج جن مسائل کا شکار ہے، اُن میں ایک نمایاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی توانائیاں مثبت کاموں کی بجائے منفی سرگرمیوں میں صرف کر رہے ہیں۔ ہم دوسروں کی کامی

مزید »

نیا سال، نیا عزم، نئے ارادے

عابد ہاشمی

جوں ہی تقویم کا ایک ورق پلٹتا ہے، ہم ایک نئے سال میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ہر نیا سال ہمیں زندگی میں نئی امید، نئے ارادے اور مثبت تبدیلیوں کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ

مزید »

خاموش مگر پُراثر رہنما

عابد ہاشمی

انسانی زندگی رہنمائی کی متلاشی ہوتی ہے۔ بچپن سے بڑھاپے تک، ہر موڑ پر انسان کو ایک ایسے ساتھی، ایک ایسے مشیر، ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے۔

مزید »

الجھن کا شکار ہیں لوگ

عابد ہاشمی

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں اکثر خوشی اور کامیابیوں پر مقابلے کی فضا چھا جاتی ہے۔ دوسروں کی ترقی، کامیابی، یا خوشی پر دل سے خوش ہونا اب ایک نایاب خوبی بنتی

مزید »

یہ پریشانی مبارک ہو

عابد ہاشمی

زیستِ انسانی بظاہر ایک حسین سفر ہے، مگربسا اوقات اس کی تلخی انسان کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو نہایت حساس، نرم دل اور

مزید »

ہمارے زوال کی پہلی سیڑھی

عابد ہاشمی

کسی بھی مہذب اور باشعور معاشرے کی پہچان اس کے اہلِ قلم سے ہوتی ہے۔ مصنف، شاعر، محقق اور ادیب وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے قوموں کو شع

مزید »