1. ہوم
  2. کالمز
  3. عابد ہاشمی
  4. کامیاب اور بلند مرتبہ لوگ

کامیاب اور بلند مرتبہ لوگ

ہمارا معاشرہ آج جن مسائل کا شکار ہے، اُن میں ایک نمایاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی توانائیاں مثبت کاموں کی بجائے منفی سرگرمیوں میں صرف کر رہے ہیں۔ ہم دوسروں کی کامیابیوں پر خوش ہونے کے بجائے، اُنہیں نیچا دکھانے، اُن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے، اُن پر تنقید کرنے اور اُن کی غلطیاں تلاش کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اگر یہی توانائی، یہی جذبہ اور یہی وقت ہم خود کو بہتر بنانے، دوسروں کی مدد کرنے اور معاشرے کی بھلائی کے لیے خرچ کریں تو معاشرہ بھی بدلے اور ہم خود بھی۔ کبھی ہم نے سوچا کہ دوسروں کو گرانے سے نہ وہ گرتے ہیں، نہ ہم بلند ہوتے ہیں؟ بلکہ اس عمل سے ہم اپنی شخصیت کو کمزور، نفسیات کو زہریلا اور تعلقات کو خراب کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو دوسروں کی خامیاں تلاش کرتا ہے، وہ اپنی خوبیوں سے غافل ہو جاتا ہے۔

مثبت سوچ، تعمیری رویہ اور اصلاحی جذبہ ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک باکردار، ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی انرجی خود کو بہتر بنانے، علم حاصل کرنے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے اور نیکی پھیلانے میں صرف کریں تو نہ صرف ہمارا دائرہ اثر بڑھتا ہے بلکہ ہمیں حقیقی کامیابی بھی نصیب ہوتی ہے۔ انسانی زندگی کا اصل حسن دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے۔ جب کوئی شخص اپنے علم، دولت، وقت یا صلاحیتوں کو دوسروں کی بھلائی اور فلاح کے لیے استعمال کرتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرتا ہے بلکہ سماج میں بھی عزت و مقام پاتا ہے۔ درحقیقت، انسان پر اس وقت تک زوال نہیں آتا جب تک اُس سے خیر جاری رہتی ہے۔

دنیا میں وہی لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو دوسروں کے درد کو محسوس کرتے ہیں، جو اپنی ذات سے بڑھ کر کسی اعلیٰ مقصد کے لیے جیتے ہیں۔ ان کی دعاؤں، ان کی مدد، ان کے اخلاق اور ان کی خدمت سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہمیشہ انہیں دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں بھی "خیر" کی تلقین بار بار کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو"۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کی خوبی کا معیار اس کے علم یا مال سے نہیں، بلکہ اس کے خیر بانٹنے سے ہے۔ خیر کی تقسیم صرف دولت یا صدقے تک محدود نہیں۔ ایک مسکراہٹ، ایک دعا، کسی کے کام آ جانا، علم بانٹنا، رہنمائی کرنا، حتیٰ کہ کسی کا حوصلہ بڑھانا بھی خیر ہے۔ جس دن انسان اس خیر کو روک دیتا ہے، سمجھ لیں کہ وہ زوال کی جانب پہلا قدم اٹھا چکا ہے۔

کامیاب اور بلند مرتبہ لوگ وہی ہوتے ہیں جن کے اندر عاجزی اور دوسروں کی خدمت کا جذبہ ہوتا ہے۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل کیا وہ ہمیشہ دوسروں کے لئے نفع بخش رہے ہیں۔ ان کے اندر دوسروں کے لئے ایثار، جذبہ، ہمدردی موجود ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کی خوشی میں خوش، غمی میں غمگین ہوتے ہیں۔ وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہیں۔ اس کے بجائے نفرت پھیلانے والے ہر وقت پریشانی کی دلدل میں دھنستے جاتے ہیں۔ یہ دیمک کسی کو نہیں بلکہ خود انہیں کھوکھلا کرتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے لئے معاشرے کو انگار بناتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب انسان صرف اپنی ذات، اپنے مفادات اور اپنے فائدے میں گم ہو جاتا ہے تو وہ معاشرے میں بھی تنہا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، جب تک آپ سے خیر تقسیم ہو رہی ہے، چاہے وہ چھوٹے پیمانے پر ہو، آپ کامیاب، بلند اور باوقار ہیں اور یہی خیر آپ کی حفاظت کا، آپ کے عروج کا اور آپ کے مقام کا راز ہے۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بظاہر سب کچھ رواں دواں نظر آتا ہے، لیکن اصل چہرہ دیکھنے کے لیے دل کی آنکھ کھولنا پڑتی ہے۔ ہماری آس پاس کی دنیا میں کئی ایسے چہرے ہیں جو سفید پوشی کی چادر میں غربت چھپائے بیٹھے ہیں، جو مدد کے طلبگار تو ہیں مگر ہاتھ پھیلانا اُن کے مزاج میں نہیں۔ ایسے میں اگر ہم اپنی حیثیت کے مطابق کسی کی فیس ادا کر دیں یا کسی سفید پوش کی چپ چاپ مدد کر دیں تو یہ محض نیکی کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی خوشی کا ذریعہ بن سکتا ہے جس کا سکون دنیا کی کسی اور چیز میں نہیں۔

کسی غریب طالب علم کی فیس ادا کرنا صرف ایک تعلیمی مدد نہیں، بلکہ مستقبل کے ایک روشن چراغ کو جلانے کے مترادف ہے۔ وہ طالب علم جو مالی تنگی کے باعث علم سے محروم ہو سکتا تھا، اگر اُس کے خواب آپ کے تھوڑے سے وسائل سے دوبارہ سانس لے لیں، تو یہ کارِ خیر آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح سفید پوش طبقہ جو اپنی خودداری کے باعث کبھی کسی سے مدد نہیں مانگتا، ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے اُن کی مدد کرنا، اللہ تعالیٰ کو بھی پسند ہے اور معاشرتی بھلائی کا در بھی کھلتا ہے۔ راشن، کپڑے، یا کسی چھوٹی سی مالی امداد سے ان کی زندگی آسان ہو سکتی ہے۔

دنیا میں دولت مند بننے سے زیادہ اہم بات "دل والا" بننا ہے۔ جب ہم اپنی ذات سے نکل کر کسی اور کے لیے سوچتے ہیں، تو ہمیں ایک عجیب سا روحانی سکون ملتا ہے، جو نہ شہرت دیتی ہے، نہ دکھاوا، لیکن دل کو جیت لیتی ہے۔ انسان ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ لوگ دل سے اس کی عزت کرتے ہیں۔

آئیے ہم دوسروں کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے، اُن کا ہاتھ تھامنا سیکھیں۔ مخالفت کے بجائے مشورہ دیں۔ الزام تراشی کے بجائے اصلاح کریں۔ کیونکہ دوسروں کو گرا کر کبھی کوئی بلند نہیں ہوا۔ جو بلند ہوتے ہیں، وہ دوسروں کو سنبھال کر، ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ خاموشی سے کسی کی فیس ادا کرنا، راشن دینا یا کوئی چھوٹی سی مدد، یہی وہ عمل ہے جس سے معاشرہ جڑتا ہے، انسانیت زندہ رہتی ہے اور دل کو وہ سکون ملتا ہے جو دنیا کے ہجوم میں کہیں کھو چکا ہے۔

عابد ہاشمی

Abid Hashmi

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔