خواجہ غلام الثّقلین ادبی دنیا میں خواجہ ثقلین کے نام سے پہچانے جاتے ہیں جبکہ شعری تخلص سمیطؔ اختیار کیا ہے۔ وہ بنیادی طور پر ہندوستان کے شہر ناگپور مہاراشٹر سے تعلق رکھتے ہیں اور پیشہ ورانہ زندگی میں مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلوما حاصل کرنے کے بعد ایک صنعتی ادارے میں سپروائزر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے اور اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ فنی تعلیم اور تکنیکی مزاج کے باوجود ان کی اصل شناخت شاعری ہے جہاں جذبات کی لطافت اور خیال کی سادگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم نے ان کی شخصیت میں نظم و ضبط اور فکری ترتیب پیدا کی۔ یہی ترتیب ان کے کلام میں بھی جھلکتی ہے جہاں خیال منتشر نہیں ہوتا بلکہ ایک واضح سمت میں سفر کرتا ہے۔ سمیطؔ کے ہاں کلاسیکی شعری روایت سے وابستگی بھی ملتی ہے اور عصری حسیت بھی وہ غزل کو اپنی اظہار کی بنیادی صنف بناتے ہیں تاہم ان کی نظموں میں بھی سماجی شعور اور انسانی ربط کی جھلک ملتی ہے۔
ادبی حلقوں میں ان کی شناخت اس وقت زیادہ مستحکم ہوئی جب انہوں نے ہندوستان کے قومی نشریاتی اداروں کے ادبی پروگراموں میں شرکت کی دور درشن دہلی اردو کے پروگرام بہار سخن میں چوبیس اپریل دو ہزار چوبیس کو ان کی شرکت نے انہیں وسیع تر ناظرین سے متعارف کرایا۔ اسی طرح آل انڈیا ریڈیو اردو نئی دہلی کے ادبی پروگراموں میں ان کی آواز اور کلام نشر ہوا جو کسی بھی شاعر کے لئے ایک معتبر پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ ان کی شرکت مختلف آل انڈیا مشاعروں میں بھی رہی جہاں ہندوستان کے ممتاز شعرا کے ساتھ انہیں اپنا کلام سنانے کا موقع ملا۔
سمیطؔ کا کلام ہندوستان اور پاکستان کے مختلف ادبی جرائد اور اخبارات میں شائع ہوتا رہا ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر قارئین تک پہنچ رہی ہے۔ ان کے اشعار میں محبت انسانی قدروں اور سماجی ہم آہنگی کا موضوع نمایاں ہے۔ وہ لفظوں کو غیر ضروری پیچیدگی سے بچاتے ہیں اور سادہ مگر اثر انگیز پیرایہ اختیار کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام عام قاری کے لئے بھی قابل فہم رہتا ہے اور سنجیدہ ادبی حلقوں میں بھی توجہ حاصل کرتا ہے۔
ان کا شعری مجموعہ ہما کے پر پاکستان سے زیر اشاعت ہے جو ان کی تخلیقی سفر کا اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے اس کتاب میں ان کے منتخب کلام کو یکجا کیا گیا ہے اور اس میں ان کی فکری سمت اور شعری ارتقا کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے عنوان ہی سے پرواز اور امید کا تصور ابھرتا ہے جو ان کی شاعری کے عمومی مزاج سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔
ناگپور جیسے کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی شہر میں رہتے ہوئے انہوں نے اردو زبان سے اپنی وابستگی کو برقرار رکھا۔ یہ امر اس لحاظ سے اہم ہے کہ موجودہ دور میں علاقائی اور عالمی دباؤ کے باوجود اردو شاعری کی روایت کو زندہ رکھنا ایک شعوری انتخاب ہے۔ سمیطؔ اسی شعوری وابستگی کے نمائندہ شاعر ہیں وہ اپنی شاعری کے ذریعے تہذیبی ربط اور ادبی تسلسل کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بطور مجموعی خواجہ غلام الثّقلین المعروف خواجہ ثقلین سمیطؔ ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شخصیت میں فنی تعلیم کی سنجیدگی اور شاعری کی لطافت یکجا ہوگئی ہے۔ قومی نشریاتی اداروں میں شرکت اور سرحد پار اشاعت نے ان کی ادبی شناخت کو تقویت دی ہے جبکہ ہما کے پر کی اشاعت انہیں معاصر اردو شاعری میں ایک نمایاں مقام کی طرف لے جاتی دکھائی دیتی ہے۔
غزل نمبر
وضاحت، اس کو چھُونے کی مجھے دشوار ہو جائے
کہیں ایسا نہ ہو وہ نیند سے بیدار ہو جائے
اگر تیروں سے، اُس کی پیش قدمی رک نہیں پائی
مرا ہر شعر دشمن کے لئے تلوار ہو جائے
نہ ہو جنت، تو میرے بخت دوزخ سے بھی عاری ہوں
کم از کم نیکیوں کی اسِ قدر مقدار ہو جائے
یہ جذبے چاہتوں کے کتنے پُر ایثار ہوتے ہیں
"مبارک فتح ہو اس کو، ہماری ہار ہوجائے"
نہ پھر، تعبیر کی صورت گری کر دے کوئی پامال
نہ پھر کوئی گھروندا خواب کا مسمار ہوجائے
وہ ایسی ضرب میری آرزو پر کر گیا جیسے
کسی سوئے پرندے پر اچانک وار ہو جائے
سمیطٓ! آوارگی بھی معتبر ہوجائے گی شاید
وہ میرا ہم سفر بننے کو، گر تیار ہو جائے
غزل
جِلائے کیڑے بھی پتھر میں تو، غذا دے کر!
مجھے ہِلاک نہ کر بھوک کی سزا دے کر!
اٹھائے بیٹھے ہیں پھن، سانپ دل میں خدشوں کے
کسی کو بھیج دے، موسیٰ کی پھر عصا دے کر
تو، میرے دل کو رکھے کیسے تیرہ و تاریک
جو پیدا کرتا ہے جگنو کو بھی، دیا دے کر
مرے خدا! تری رحمت کا واسطہ تجھ کو
نہ چھین اشک مرے، رنجِ کربلا دے کر
وہ رت جگوں میں، اگر میرا ساتھ چاہتا ہے
خرید لے مری نیندیں، معاوضہ دے کر
میں آنکھیں میچ کے دس تک گِنوں، پکاروں اسے
جو چھپ گیا ہے، بہت دور سے صدا دے کر
اسی نے موسمِ گل میں مجھے اُجاڑ دیا
جو باتیں کرتا تھا، پت جھڑ کا واسطہ دے کر
سخن وری کو مری آزمانا چاہتا ہے
جو چاہتا ہے غزل، تنگ قافیہ دے کر
تجھے! سمیطٓ اسی سے خوشی کی ہے اُمّید
جو بھیجتا ہے نئے غم، مرا پتہ دے کر
غزل
وہ مست ادھ کھلی کلیوں سے پھوٹتا جوبن
کہ جیسے گاؤں کی گوری کا شوخ، الہڑ پن
فلک کی سمت نگاہیں اٹھائے مور اِدھر
اُدھر سیاہ گھٹا میں اُتاولا ساون
کسی کے دل میں ہے ارمان مضطرب، جیسے
مہک سے مشُک کی، بے تاب و بے قرار ہرن
یہ دوڑتی ہوئی بے باگ، رُت جوانی کی
وہ نرم ریت پہ یادوں کی، رینگتا بچپن
وہ شب کو جھیل کے پانی سے چاند کی چھیڑیں
وہ چاہتوں کا مقدس، پَوِتر سا بندھن
ہے پھول شاخ پہ اس طرح سرنگوں جیسے
بچھڑنے والے کے غم میں نئی نئی دلہن
ہے یوں غنودہ سی آنکھوں میں یاد ساجن کی
کہ جیسے مٹی کے برتن میں بھیگتا ابُٹن
یہ کیا فسوں ہے، کرشمہ ہے ماہِ کامل کا
جو اوج پر کسی شاعر کا ہے مزاجِ سخن
کسی کے اشک سے سیلن زدہ یہ دل ہے سمیطٓ
کہ سرد اوُس کی بوندوں سے نم ہُوا آنگن
***
نظم (سنگ میل)
سلسلہ خیالوں کا
ختم کیوں نہیں ہوتا
تجھ سے جا کے ملتا ہے
سوچ کا ہر اک رستہ
تیری یاد کے جگنو
شب کو ٹِمٹمِاتے ہیں
رت جگوں کے لشکر جب
نیند لُوٹ جاتے ہیں
پاس کچھ نہیں ہوتا
جُز ترے خیالوں کے
ٹوٹتے ہوئے تارے
جب دکھائی دیتے ہیں
ہاتھ خود بخود اٹھ کر
تجھ کو مانگ لیتے ہیں
حرف، لفظ بن بن کر
تیرا نام بُنتے ہیں
فیصلوں کو جِرگے کے
بے بسی سے سنتے ہیں
خوشبوؤں کی صورت تُو
آس پاس رہتا ہے
گلُ رتوں میں جانے کیوں
دل اداس رہتا ہے
من پہ بوجھ لگتے ہیں
قاعدے سماجوں کے
مانتے نہیں رشتے
کیوں وہ ہم مزاجوں کے
مسئلہ ہے کیوں آخر
عمر کی مسافت کا
آ، بلند کرتے ہیں
ہم عَلم بغاوت کا
استوار کرتے ہیں
سلسلہ رفاقت کا
ارضِ دل میں بوتے ہیں
بیج اک محبت کا!
سنگِ مِیل جو بن جائے
تیری میری چاہت کا
غزل
بخت میں ہی نہ اگر ساتھ ہو، اس کا میرا
جانے کس پیڑ کی ہو شاخ، بسیرا میرا
کسی آزردہ پرندے کو جو دیکھا تو لگا
اس سے بچھڑوں گا تو، حال ایسا ہی ہوگا میرا
کوئی کیا ساتھ نبھانے کا کرے عہد، کہ جب
خود مرے تن سے جدا ہوگیا، سایہ میرا
ورنہ کچھ اور سفر اس کا کٹھن ہو جاتا
تو نے اچھا ہی کیا، ذکر نہ چھیڑا میرا
محتسب آپ رہا، اپنے سخن کا میں سدا
خود پرستی تو نہیں اب بھی، وطیرہ میرا
میرے اشعار میں کچھ زہر کی آمیزش ہے
بس اسی واسطے دشمن ہے سپیرا، میرا
میں نہ کہتا تھا، مقابل نہ رکھو اس کو سمیط!
آئنہ، دیکھ کے رونے لگا چہرا میرا
۔۔
نظم (نام اس کا کیا ہے)
وہ اک حسیں موڑ پر ملا ہے
مری دعاؤں کا جو صلہ ہے
سخن پہ جو سایۂ ھما ہے
بلند بختی کا معجزہ ہے
گماں سے بھی پرُ شباب دنیا
کہ چاہے دل روز اس سے ملنا
بھلے سے اندازِ گفتگو ہیں
نقوش حوروں کے ہو بہو ہیں
متین و با رعب اسکے تیور
حیا، تقدّس ہیں اسکے زیور
نہ اسکی آنکھیں ہیں جھیل جیسی
نہ شربتوں کی سبیل جیسی
نظر سے باتیں کمال کرنا
مجھے نہ پا کر ملال کرنا
کہیں جو آسودہ چھاؤں پانا
مرے لئے وہ بھی سینت رکھنا
محبتوں کا تو ہے وہ خواہاں
پر، اپنی تشہیر سے گریزاں
پسند ہے فاصلے بھی رکھنا
ہے چاہے جانے کی بھی تمنا
ہے اُس کی خواہش قریب آئے
مگر وہ ظاہر بھی کر نہ پائے
قریب رہتا ہے دور جاکر
خفا بھی ہو گر، تو مسکرا کر
گو، بات بے بات کُھل کے ہنسنا
پر، اپنے جذبات باندھ رکھنا
نظر نہ آؤں تو راہ تکنا
ہو درد مجھ کو تو خود تڑپنا
وہ جنگ جو بھی ہے خوب رو بھی
دبنگ فطرت بھی نرم خو بھی
یہ جس کی یادوں کا سلسلہ ہے
نہ پوچھنا، نام اس کا کیا ہے
قطعات
اجاڑ آنکھوں میں بھر دیتے ہیں رنگ اپنی لطافت کے
مگر تعبیر میں محصور کچھ سپنے نہیں ہوتے
عجب اک سلسلہ، روزِ ازل سے ہے محبت کا
انہیں لوگوں سے ہو جاتی ہے جو اپنے نہیں ہوتے
***
زندگی میں، کبھی وہ وقت بھی آتا ہے کہ جب
کوئی انجان سا ہو کر بھی بھلا لگتا ہے
کیا پتہ، نام اسی کا ہو محبت شاید
بات کرلے کوئی اس سے تو بُرا لگتا ہے
***
خواجہ ثقلین سمیطؔ کی پیش کردہ شاعری کو ادراکی تنقیدی تھیوری یعنی پرسیپشن ازم کے زاویے سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے جو پہلو نمایاں ہوتا ہے وہ خارجی واقعے سے زیادہ داخلی تجربے کی مرکزیت ہے۔ یہاں حقیقت کسی خارجی شے کا نام نہیں بلکہ ادراک کی تشکیل کا نتیجہ ہے۔ پہلی غزل کے مطلع ہی میں چھونے اور بیداری کا جو رشتہ قائم کیا گیا ہے وہ مادی لمس سے زیادہ شعوری لمس کی طرف اشارہ ہے شاعر کو اندیشہ ہے کہ وضاحت کا عمل خود تجربے کو توڑ نہ دے گویا معنی جب حد سے زیادہ منکشف ہو جائے تو خواب کی لطافت باقی نہیں رہتی۔ یہ وہی ادراکی کشمکش ہے جس میں شعور اپنے ہی انکشاف سے خوفزدہ ہوتا ہے اسی غزل میں شعر کو تلوار بن جانے کی تمثیل دراصل تخلیقی اظہار کی ادراکی قوت کا اعتراف ہے یہاں جنگ خارجی نہیں بلکہ معنی کی سطح پر برپا ہے اور شعر دشمن کے خلاف نہیں بلکہ منفی ادراک کے خلاف مزاحمت بن جاتا ہے۔
نیکیوں کی مقدار جنت اور دوزخ کی نفی یہ سب اخلاقی تصورات کو بھی داخلی میزان پر پرکھنے کا عمل ہے شاعر کے ہاں اجر اور سزا کا پیمانہ روایتی مذہبی تصور سے ہٹ کر ایک باطنی اطمینان میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مبارک فتح ہو اس کو ہماری ہار ہو جائے جیسا مصرع ادراک کی اس سطح کو ظاہر کرتا ہے جہاں انا تحلیل ہو کر ایثار میں بدل جاتی ہے یہاں شکست بھی ایک نئی معنوی فتح میں ڈھل جاتی ہے۔ پرسیپشن ازم کے مطابق حقیقت کا تعین زاویہ نظر سے ہوتا ہے اور سمیطؔ کے ہاں زاویہ بدلتے ہی ہار فتح بن جاتی ہے۔
دوسری غزل میں بھوک کی سزا موسیٰ کی عصا جگنو اور دیا کربلا کا استعارہ یہ سب اجتماعی شعور سے اخذ کردہ علامتیں ہیں مگر شاعر انہیں اپنے داخلی کرب کے آئینے میں ڈھالتا ہے۔ کیڑے کو پتھر میں غذا دینا ایک ایسے قادر مطلق کا تصور ہے جو ناممکن کو ممکن بناتا ہے۔ یہاں ادراک کا بحران یہ ہے کہ اسی قادر کے ہوتے ہوئے انسان بھوک سے ہلاک کیوں ہو موسیٰ کی عصا کا حوالہ خوف کے سانپوں کے مقابل ایک یقین کی لاٹھی ہے یعنی خدشات ذہنی ساخت ہیں جنہیں یقین کی قوت توڑ سکتی ہے۔ اشک اور رنج کربلا کا تقابل ذاتی غم کو تاریخی المیے سے جوڑتا ہے یوں فرد کا دکھ اجتماعی حافظے میں جذب ہو جاتا ہے یہ ادراکی توسیع شاعر کے شعور کو انفرادی سطح سے اٹھا کر تہذیبی سطح پر لے جاتی ہے۔
تیسری غزل میں فطرت کے مناظر گاؤں کی گوری ساون مور ہرن ریت بچپن یہ سب حسی پیکر ہیں مگر ان کا مقصد منظر نگاری نہیں بلکہ کیفیت نگاری ہے۔ جوانی کو بے باگ دوڑتی رت اور بچپن کو رینگتی یاد کہنا دراصل وقت کے ادراک کو بصری شکل دینا ہے۔ شاعر وقت کو گھڑی کی سوئیوں سے نہیں بلکہ احساس کی رفتار سے ماپتا ہے یہی پرسیپشن ازم کی بنیادی جہت ہے کہ وقت ایک نفسیاتی تجربہ ہے نہ کہ محض تقویمی حقیقت۔ چاند کی چھیڑیں اور مقدس بندھن میں پاکیزگی کا احساس داخلی روشنی سے پیدا ہوتا ہے ماہ کامل کا کرشمہ شاعر کے مزاج سخن کو اوج دیتا ہے گویا تخلیق کا عمل بھی کائناتی آہنگ سے جڑا ہوا ادراکی تجربہ ہے۔
نظم سنگ میل میں سوچ کا ہر رستہ محبوب تک جا پہنچتا ہے۔ یہاں محبوب محض فرد نہیں بلکہ معنی کا مرکز ہے یاد کے جگنو اندھیرے میں شعور کی چھوٹی چھوٹی روشنیاں ہیں رت جگوں کے لشکر نیند لوٹ لیتے ہیں تو تخلیقی بیداری جنم لیتی ہے ہاتھ کا خود بخود اٹھ کر دعا کرنا غیر شعوری ادراک کی علامت ہے۔ فیصلوں کے جرگے سماجی جبر کی نمائندگی کرتے ہیں مگر شاعر علم بغاوت بلند کرنے اور محبت کا بیج بونے کی بات کرتا ہے اس طرح ادراک فرد سے اجتماع کی طرف سفر کرتا ہے اور رفاقت ایک انقلابی قدر بن جاتی ہے۔
چوتھی غزل میں سایہ جدا ہو جانا وجود کے عدم تحفظ کا استعارہ ہے یہاں خودی بھی غیر مستحکم ہے۔ محتسب آپ رہنا داخلی احتساب کی علامت ہے شاعر خارجی نگرانی سے زیادہ اپنے باطن کی عدالت کو معتبر سمجھتا ہے۔ اشعار میں زہر کی آمیزش دراصل سچائی کی تلخی ہے جس سے سپیرا دشمن ہو جاتا ہے یعنی جو فریب کا کھیل رچاتا ہے وہ سچ کی کاٹ سے خائف ہے آئینہ دیکھ کر رونے والا چہرہ خود آگہی کا لمحہ ہے جہاں ادراک اپنی اصل صورت دکھا دیتا ہے۔
نام اس کا کیا ہے نظم میں محبوب ایک پیچیدہ ادراکی وجود ہے جو قربت اور فاصلے کے بیچ معلق ہے وہ قریب رہتا ہے۔ دور جا کر یہ تضاد دراصل انسانی شعور کی دوہری کیفیت ہے محبت چاہنا بھی اور تشہیر سے گریز بھی جذبات کو باندھ رکھنا اور بے ساختہ ہنسنا یہ سب داخلی اور خارجی اظہار کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتے ہیں۔ شاعر محبوب کا نام ظاہر نہیں کرتا کیونکہ نام رکھ دینے سے وہ کثیر المعنویت محدود ہو جائے گی یوں محبوب ایک علامت بن جاتا ہے جو ہر قاری کے ادراک میں نئی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
قطعات میں بھی یہی ادراکی جہت قائم رہتی ہے سپنے تعبیر میں محصور نہیں ہوتے کیونکہ خواب کا جوہر آزادی ہے۔ محبت روز ازل سے جاری سلسلہ ہے اور اکثر انہی سے ہو جاتی ہے جو اپنے نہیں ہوتے یہاں اپنا اور غیر کا فرق ادراک کی سطح پر ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی انجان بھلا لگنے لگے تو یہی کیفیت محبت کی ابتدا ہے یعنی جذبہ پہلے ادراک میں جنم لیتا ہے پھر تعلق میں ڈھلتا ہے۔
مجموعی طور پر سمیطؔ کی شاعری میں حقیقت خارجی مظاہر سے زیادہ باطنی تجربے کی تشکیل ہے وہ روایت سے استعارے لیتے ہیں مگر انہیں اپنے شعوری زاویے سے نئے معنی دیتے ہیں ان کے ہاں خواب بیداری ہار فتح قربت فاصلے سب ادراک کی تبدیلی سے نئی صورت اختیار کرتے ہیں۔ یہی پرسیپشن ازم کی اساس ہے کہ دنیا ویسی نہیں جیسی دکھائی دیتی ہے بلکہ ویسی ہے جیسا شعور اسے معنی دیتا ہے اور سمیطؔ کا شعور محبت ایثار مزاحمت اور خود آگہی کے رنگوں سے تشکیل پاتا ہے۔