1. ہوم
  2. کالمز
  3. فرحت عباس شاہ
  4. ایک، ایک اور ایک: ایک سو گیارہ

ایک، ایک اور ایک: ایک سو گیارہ

ادب ہمیشہ سے محض الفاظ کا کھیل نہیں رہا بلکہ انسانی ضمیر، اجتماعی شعور اور تہذیبی دیانت کا سب سے بڑا امتحان رہا ہے۔ جس معاشرے میں سچ بولنے والے کم پڑ جائیں وہاں جھوٹ اپنی فوجیں بناتا ہے، مفاد اپنے دربار سجاتا ہے اور مصنوعی عظمتیں اپنے لیے منبر تراشتی ہیں۔ ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ادب جیسے مقدس اور فکری میدان پر بھی ایک ایسا مافیائی طبقہ قابض ہو چکا ہے جس نے تخلیق کو تجارت، تنقید کو سازش، تعلق کو مفاد اور شہرت کو ایک منظم کاروبار میں بدل دیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ادب نہیں لکھتے بلکہ ادبی مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فن پارے تخلیق نہیں کرتے بلکہ گروہ بندی، تعلقات، سفارش، چاپلوسی اور ایک دوسرے کی مصنوعی تاج پوشیوں کے ذریعے ادبی منظرنامہ کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک سچ سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ سچ ہر مصنوعی عمارت کی بنیاد ہلا دیتا ہے۔

تنویر روانہ سے میری ابھی تک بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی، لیکن ہمارے انسانی رویے، فکری دیانت اور سماجی طرزِ عمل میں ایسی ہم آہنگی موجود ہے کہ لوگ تنویر روانہ کو فرحت عباس شاہ اور فرحت عباس شاہ کو تنویر روانہ سمجھتے ہیں۔ یہ دراصل ہمارے عہد کی اخلاقی مفلسی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اس معاشرے کو یقین ہی نہیں آتا کہ دو مختلف انسان بھی ایک جیسا سچ بول سکتے ہیں، ایک جیسی جرات رکھ سکتے ہیں اور ایک ہی قسم کی ادبی بددیانتی کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ عہد سچ کے بجائے مفاد کی بنیاد پر تعلقات بناتا ہے۔ یہاں لوگ نظریات سے نہیں، مفادات سے جڑتے ہیں۔ اس لیے جب کوئی شخص حق کی آواز بلند کرتا ہے تو مکار طبقہ فوراً اسے کسی گروہ، کسی شخصیت یا کسی پوشیدہ ایجنڈے سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اصل سوال پس منظر میں چلا جائے۔

ڈاکٹر ابرار عمر اور میرے نظریاتی تعلق کے ساتھ بھی یہی رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ کمزور اور بددیانت لوگ ڈاکٹر ابرار سے کہتے ہیں کہ آپ جیسے سنجیدہ اور طاقتور تخلیق کار کو فرحت عباس شاہ کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہیے، جبکہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ عشقِ ابرار میں فنا ہو چکے ہیں۔ یہ دراصل ان لوگوں کی نفسیاتی شکست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دو سچے انسانوں کی دوستی، فکری قربت اور نظریاتی ہم آہنگی کو اپنی مصموعی اور جھوٹی عظمت کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ ان کی پوری زندگی مفاد، منافقت اور موقع پرستی کے گرد گھومتی رہی ہے اور ان۔ کو لگتا ہے کہ ہم ان کو بےنقاب کرکے رکھ دینے والے لوگ ہیں۔ ہم ان کی اصلیت سامنے لا رہے ہیں جس سے ان کےمفادات پر آنچ آ سکتی ہے۔

ادبی مافیا کا سب سے خطرناک ہتھیار یہی ہے کہ وہ سچ بولنے والوں کو ایک دوسرے سے الگ کرے۔ یہ لوگ جہاں کہیں کوئی ہم فکر انسان دیکھتے ہیں فوراً اس کے گرد چاپلوسی، تعلقات، دعوتوں، جعلی محبتوں اور وقتی مفادات کا جال بچھا دیتے ہیں۔ سچ بولنے والوں کے اکٹھ میں ان کو موت نظر آتی ہے۔ اس لیے یہ ہم جیسوں کو ایک دوسرے سے کاٹنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتےہیں اور اگر کوئی کمزور شخص سچائی اور محبت کے شجر سے ٹوٹ جائے تو پھر یہی لوگ اسے ایسی لات مارتے ہیں کہ وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ مفاد پرست طبقے کی پوری سیاست ہی استعمال اور پھر ذلت پر قائم ہوتی ہے۔ وہ کسی کو عزت نہیں دیتے، صرف استعمال کرتے ہیں اور جب استعمال ختم ہو جائے تو وہی شخص ان کے لیے بے وقعت ہو جاتا ہے۔

اصل ادیب ہمیشہ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں، کیونکہ وہ درباری، ستکاری نہیں ہوتے۔ حقیقی تخلیق کار تعلقات کے سہارے نہیں لکھتا بلکہ اپنے خون، اپنے زخم، اپنی آگ اور اپنے شعور سے لکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سچ بولنے کی قیمت تنہائی، مخالفت، کردار کشی اور معاشی محرومی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ خاموش نہیں ہوتا کیونکہ اس کے نزدیک خاموشی سب سے بڑی خیانت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اصل تخلیق کاروں کے خلاف سازشیں ہوئیں، ان پر حملے ہوئے، انہیں دیوانہ، متکبر، باغی یا بدزبان کہا گیا، مگر وقت نے ہمیشہ سچ کے حق میں فیصلہ دیا۔

ادبی دنیا کا سب سے بڑا سانحہ یہ نہیں کہ وہاں بُرے لوگ موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں بے شمار اچھے لوگ خاموش ہیں۔ وہ سچ جانتے ہوئے بھی بولتے نہیں کیونکہ انہیں اپنی شہرت، تعلقات، ایوارڈز، تقریبات اور ادبی دکانوں کے بند ہو جانے کا خوف ہوتا ہے۔ یہی خاموشی دراصل ادبی مافیا کی اصل طاقت ہے۔ جب معاشرے کے اہلِ علم خوف زدہ ہو جائیں تو پھر جاہل، مکار اور مصنوعی لوگ دانشور بن کر سامنے آتے ہیں۔ وہ ادب کو اپنی جاگیر سمجھنے لگتے ہیں اور ہر اس آواز کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے جھوٹے اقتدار کے خلاف اٹھے۔

تنویر روانہ جیسے لوگ، ڈاکٹر ابرار عمر جیسے لوگ اور ہر وہ شخص جو سچ، محبت، فکری دیانت اور تخلیقی آزادی کے ساتھ کھڑا ہے، دراصل اسی تاریکی کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں۔ یہ لوگ صرف افراد نہیں، ایک رویہ ہیں۔ ایک ایسا رویہ جو ادب کو دوبارہ انسان، سچائی اور روح کی طرف واپس لے جانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی مافیا ان سے خوفزدہ ہے۔ کیونکہ جھوٹ ہمیشہ سچ سے ڈرتا ہے، اندھیرا ہمیشہ روشنی سے ڈرتا ہے اور مصنوعی عظمت ہمیشہ اصل تخلیق سے خوف کھاتی ہے۔