1. ہوم
  2. کالمز
  3. فرحت عباس شاہ
  4. امر عباس سجود کے ایک شعر کا ادراکی مطالعہ

امر عباس سجود کے ایک شعر کا ادراکی مطالعہ

روتے روتے ٹوٹ گئی ہے رات کی ایک طناب
آدھی آنکھ میں چاند گرا ہےآدھی آنکھ میں خواب

یہ شعر بنیادی طور پر جدید شاعری کی اس تحریک کا نمائیندہ شعر ہے جب جدید شعراء غزل کو گل و بلبل، شمع پروانہ اور باغ و بہار جیسے فرسود مضامین، پرانی زبان اور پامال روایتی اسلوب سے نکال کر نئی علامتوں، نئے استعاروں اور نئی لسانیات سے مرصع کرکے غزل کق تر و تازہ کر رہے تھے

سستی جذباتیت کے مارے ہوے ایک جیسے بیانیہ شعروں کے ہڑبونگ میں امر عباس نے اپنی تخلیقی جہت کا اظہار ایک نہایت منفرد انداز میں کرکے میرے جیسے قاری کو پھر سے حوصلہ بخش دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر مش روم گروتھ کی طرح پھلتے پھیلتے چمی چاٹی کے مریض شاعروں کے ہجوم میں بڑا اور اعلیٰ شعر کہنے والے نوجوان ابھی موجود ہیں۔

شاعر نے زیر نظر شعر میں روایتی دنیا سے نکل کر ایک نئی ادراکی کائنات تشکیل دی ہے۔ ادراکی تنقیدی تھیوری، یعنی Perceptionism، اس شعر کو محض لفظی حسن یا علامتی جدت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس ادراکی تجربے کی بنیاد پر سمجھتی ہے جو شاعر کے شعور میں وقوع پذیر ہوا ہے۔ اس شعر کی اصل قوت اس کے استعاروں کی ندرت کے ساتھ ساتھ اس نئی ادراکی کیفیت میں مضمر ہے جسے شاعر نے زبان عطا کی ہے۔

"رات کی ایک طناب" ایک ایسا استعارہ ہے جو خارجی حقیقت میں موجود نہیں، مگر انسانی شعور میں وقت، انتظار، دکھ اور مسلسل رونے کے تجربے کو ایک محسوس شے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ رات کو طناب کہنا دراصل رات کو ایک بندھی ہوئی، تناؤ میں کھنچی ہوئی اور بوجھ برداشت کرتی ہوئی وجودی حالت کے طور پر دیکھنا ہے۔ جب شاعر کہتا ہے کہ روتے روتے رات کی ایک طناب ٹوٹ گئی ہے تو وہ محض وقت گزرنے کی خبر نہیں دے رہا بلکہ ایک ایسے داخلی انہدام کو مجسم کر رہا ہے جس میں دکھ کی شدت نے خود وقت کے توازن کو بھی شکستہ کر دیا ہے۔

دوسرے مصرعے میں "آدھی آنکھ میں چاند" اور "آدھی آنکھ میں خواب" کی تصویری تشکیل جدید غزل کے نئے لسانی شعور کی بہترین مثال ہے۔ چاند یہاں روایتی محبوب کا چہرہ نہیں بلکہ ایک ادراکی حقیقت ہے جو بیداری، مشاہدے اور خارجی دنیا کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ خواب داخلی آرزو، تمنّا اور باطنی دنیا کا استعارہ بن جاتا ہے۔ شاعر کی آنکھ دو ادراکی جہتوں کے درمیان تقسیم ہوگئی ہے، ایک حصہ حقیقت سے وابستہ ہے اور دوسرا خواب سے۔ یوں یہ شعر انسانی شعور کی اُس دوئی کو مجسم کرتا ہے جس میں انسان بیک وقت حقیقت اور آرزو، یاد اور امید، بیداری اور خواب کے درمیان معلق رہتا ہے۔

ادراکیت کی رو سے اس شعر کی عظمت اس امر میں ہے کہ یہ کسی پہلے سے موجود شعری سانچے یا مروجہ استعارے کی تکرار نہیں کرتا بلکہ ایک منفرد ادراکی تجربے کو نئی علامتوں اور نئی لسانی ساخت کے ذریعے وجود بخشتا ہے۔ شاعر نے رات، طناب، آنکھ، چاند اور خواب جیسی عام اشیا کو ایک نئے باہمی ربط میں لا کر ایسا معنیاتی نظام تشکیل دیا ہے جو قاری کے شعور میں ایک نئی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تخلیقی ادب اپنی اصل صورت میں ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ یہاں الفاظ کسی تیار شدہ معنی کی ترسیل نہیں کر رہے بلکہ ایک نئے ادراک کو جنم دے رہے ہیں۔

چنانچہ امر عباس سجود کا یہ شعر جدید اردو غزل کی اس کامیاب روایت کا حصہ ہے جس نے غزل کو فرسودہ علامتی نظام سے آزاد کرکے انسانی شعور کے نئے تجربات، نئی علامتوں اور نئی ادراکی دریافتوں سے ہم آہنگ کیا اور اس عمل میں غزل کو نہ صرف تازگی عطا کی بلکہ اس کے تخلیقی امکانات کو بھی وسیع تر کر دیا۔