اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو یہ "مسیحا" کی تلاش اور پھر اسی مسیحا سے "مایوسی" کے چکروں کی ایک طویل داستان ہے۔ ایک ایسی داستان جہاں ہر دہائی ایک نئے "نجات دہندہ" کے استقبال سے شروع ہو کر جلد یا بدیر اسی کی رسوائی یا جلاوطنی پر ختم ہوتی ہے۔ ہم نے ستر سالوں سے اپنی تمام تر امیدیں، خواب اور قومی تقدیر کے فیصلے "افراد" کے سپرد کر رکھے ہیں۔
ماضی کی بات کریں تو کبھی ایوب خان میں ایشیا کا بلند ترین مینارِ نور نظر آتا ہے تو کبھی ذوالفقار علی بھٹو جیسے"عوامی لیڈر" کی سحر انگیزی حقیقت سے دور لے جاتی ہے۔ کبھی "مردِ مومن مرد حق" کے نعرے لگتے ہیں۔ بعد ازاں 80 کی دہائی میں ایک نیا مہرہ تراشا گیا پھر 90 کی دہائی میں باری باری دو سیاسی خاندانوں کو آزمایا گیا اور حالیہ برسوں میں "تیسری قوت" کے طور پر ایک ایسا برانڈ متعارف کرایا گیا جس نے نوجوان نسل کو ایک خیالی جنت کے خواب دکھائے۔ "روشن خیالی" کے اس علمبردار کو نجات دہندہ سمجھ لیا گیا تھا۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمیشہ چہرے بدلتے رہے مگر تقدیر کبھی نہ بدلی۔ ماضی کی ان وارداتوں سے ایک بات طے ہوگئی کہ جب بھی فرد طاقتور ہوا اس نے ہمیشہ ادارے کمزور کیے۔ آج ہم ایک بار پھر اسی دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں پسِ پردہ ایک نئے "ونڈر بوائے" کی آہٹیں سنائی دے رہی ہیں۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ"ونڈر بوائے" کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جب اشرافیہ روایتی سیاستدانوں کی "کرپشن" اور "خاندانی اجارہ داری" سے تنگ آ جاتی ہے اور سیاسی جماعتیں کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے اشرافیہ کو ایک نیا "برانڈ" لانا پڑتا ہے۔ ایک پاپولر لیکن غیر روایتی چہرہ اس لیے بھی سودمند ہوتا ہے کہ وہ پرانی سیاسی اشرافیہ کو دباؤ میں رکھ سکے۔ دوسرا عالمی مالیاتی اداروں کو بھی یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ پاکستان اب "اصلاحات" کی طرف مائل ہے اور ایک جدید ذہن رکھنے والا لیڈر ملک کی باگ ڈور سنبھال رہا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ "ونڈر بوائے" کسی سپیشل لیبارٹری میں تیار نہیں ہوتا بلکہ وہ اسی معاشرے، بیوروکریسی اور عدالتی نظام کے تحت زندگی گزار رہا ہوتا ہے جہاں رشوت، اقربا پروری، نا انصافی اور لاقانونیت کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ جب ایک فرد کو "سپر مین" بنا کر پیش کیا جاتا ہے تو عوام اس کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہوئے اپنے تصورات اور توقعات ہمالیہ سے بلند کر لیتے ہیں اور جب وہ فرد اس ملک کے گندے اور فرسودہ نظام کی دلدل میں پھنستا ہے تو مایوسی کی لہر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جس ملک میں طاقتور کے لیے الگ قانون ہو اور کمزور کے لیے الگ وہاں کوئی بھی "ونڈر بوائے" معجزہ نہیں دکھا سکتا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا وقت آ گیا ہے کہ ہم "ونڈر بوائے" کے سراب سے نکل کر "ونڈر سسٹم" کی حقیقت کو تسلیم کریں؟ ایک ایسا سسٹم جس میں پاکستان کی بقا پوشیدہ ہو۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ پاکستان کے مسائل کا حل کسی "ونڈر بوائے" میں نہیں بلکہ ایک ایسے "ونڈر سسٹم" میں ہے جو فرد کی مرضی کے بجائے قانون کی حکمرانی پر چلے۔ ونڈر سسٹم وہ ہوتا ہے جہاں وزیراعظم سے لے کر ایک عام سپاہی تک سب ایک ہی آئین کے تابع ہوں اور احتساب کا عمل سب کے لیے ایک جیسا ہو۔ ونڈر سسٹم میں اداروں کی خود مختاری بہت ضروری ہوتی ہے۔ ایف بی آر کو ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے کسی وزیراعظم کے حکم کی ضرورت نہ ہو، پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کے لیے کسی سیاسی فون کا انتظار نہ کرنا پڑے اور عدالتیں فیصلے کرتے وقت یہ نہ دیکھیں کہ کٹہرے میں کون کھڑا ہے۔ جب ادارے مضبوط ہوتے ہیں تو فرد کی نااہلی سے ملک نہیں ڈوبتا۔
اگر ہم موجودہ صورتحال کا تجزیہ کریں تو پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی گرداب میں ہے جہاں قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینا پڑ رہا ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ملک چھوڑ کر جا رہی ہے۔ اس سنگین بحران میں اگر ہم یہ سوچیں کہ کوئی ایک "ونڈر بوائے" آئے گا اور چھڑی گھما کر سب ٹھیک کر دے گا تو یہ محض ایک خود فریبی ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہماری ریاست کے ستون ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ عدلیہ، پارلیمان اور مقتدرہ کے درمیان اختیارات کی جنگ نے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس ماحول میں کوئی بھی فرد چاہے وہ کتنا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو کامیاب نہیں ہو سکتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب ایک شخص کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ وہی قوم کی آخری امید ہے تو وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے اور اداروں کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پاکستان میں بار بار ہونے والا یہ تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ "شخصیت پرستی" سیاسی زوال کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ شخصیت پرستی دراصل کسی قوم کی فکری بانجھ پن اور اجتماعی شعور کے زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔ جب ایک معاشرہ اداروں کی بالادستی، آئین کی حرمت اور ٹھوس پالیسیوں کی بجائے اپنی تمام تر امیدیں کسی ایک "ناگزیر" فرد سے وابستہ کر لیتا ہے تو وہ انجانے میں آمریت اور سیاسی جمود کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ افراد کتنے ہی سحر انگیز کیوں نہ ہوں وہ فانی ہیں اور غلطی سے مبرا نہیں ہوتے ہیں جبکہ نظام وہ ڈھانچہ ہے جو نسلوں کی بقا کا ضامن ہوتا ہے۔ جہاں دلیل کی جگہ عقیدت کو مل جائے اور تنقید کو غداری سمجھا جانے لگے وہاں سیاسی ارتقا رک جاتا ہے اور قومیں شعوری طور پر اپاہج ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کے سیاسی زوال کا اصل سبب بھی یہی رہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ "مسیحاؤں" کی پوجا کی ہے مگر اس "نظام" کی آبیاری کبھی نہیں کی جو کسی مسیحا کا محتاج نہ ہو۔
پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں تجربات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اب کسی نئے "ونڈر بوائے" کا لانچ کیا جانا پہلے سے موجود سیاسی انتشار میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ اسٹیبلشمنٹ، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کو مل کر ایک ایسے "گرینڈ ڈائیلاگ" کی ضرورت ہے جس کا مقصد کسی شخصیت کو بچانا یا لانا نہ ہو بلکہ "نظام کی بحالی" ہو۔ اگر ہم نے اب بھی "ونڈر بوائے" کی تلاش جاری رکھی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ شعورِ اجتماعی سے کشید کیا گیا ایک شفاف "ونڈر سسٹم" ہی وہ واحد حقیقت ہے جو فرد کی کمزوریوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت رکھتا ہے اور ایک کامیاب ریاست کی بنیاد ہوتا ہے۔