1. ہوم
  2. غزل
  3. علی رضا احمد
  4. پتلے ہم حسرتوں کے جلائے چلے گئے
Ali Raza Ahmed

پتلے ہم حسرتوں کے جلائے چلے گئے

پتلے ہم حسرتوں کے جلائے چلے گئے
دامن بھی تار تار دکھائے چلے گئے

محفل میں کب وہ آئے تھے اور کب چلے گئے
قسمیں ہم ان کے آنے کی کھائے چلے گئے

صحرا میں ان کو ڈھونڈنے نکلے تھے اس طرح
ہر گام اپنے اشک گرائے چلے گئے

معروف بے وفائی میں اپنی تھا وہ رقیب
محفل میں پھر اسی کو بلائے چلے گئے

اِقلیم دل میں عدل کی زنجیر کھینچ کر
اِیوان کے ستون ہلائے چلے گئے

تقویٰ پہ ان کی بات بڑی دل گداز تھی
اُمید کو وہ دل میں بسائے چلے گئے

ہوں پیروکار ان کا جنہیں فقر پر ہے ناز
قصہ فنا بقا کا سنائے چلے گئے

احمد نکھر کے لفظِ محبت کی طرح وہ
شاعر کے ہر خیال میں پائے چلے گئے