پتلے ہم حسرتوں کے جلائے چلے گئے
دامن بھی تار تار دکھائے چلے گئے
محفل میں کب وہ آئے تھے اور کب چلے گئے
قسمیں ہم ان کے آنے کی کھائے چلے گئے
صحرا میں ان کو ڈھونڈنے نکلے تھے اس طرح
ہر گام اپنے اشک گرائے چلے گئے
معروف بے وفائی میں اپنی تھا وہ رقیب
محفل میں پھر اسی کو بلائے چلے گئے
اِقلیم دل میں عدل کی زنجیر کھینچ کر
اِیوان کے ستون ہلائے چلے گئے
تقویٰ پہ ان کی بات بڑی دل گداز تھی
اُمید کو وہ دل میں بسائے چلے گئے
ہوں پیروکار ان کا جنہیں فقر پر ہے ناز
قصہ فنا بقا کا سنائے چلے گئے
احمد نکھر کے لفظِ محبت کی طرح وہ
شاعر کے ہر خیال میں پائے چلے گئے