صابر ظفر جس تواتر سے لکھ رہے ہیں اور ان کی کتب جس تسلسل سے شائع ہو رہی ہیں، ان کی ہر نئی کتاب ان کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے پچھلے مجموعے کے برعکس زیر مطالعہ مجموعہ ایک منفرد شان و شوکت سے منصہء شہود پر آیا ہے۔ پوری کتاب رنگوں کی مرکزیت پر قائم ہے۔ ہر شعر کسی نہ کسی رنگ کی نئی تعبیر، نئی تفہیم اور نئے ابلاغ سے مرصع ہے۔ ایسی تازگی اور ایسے منفرد تجربے کےلیے نئے تنقیدی پیمانے بھی اتنے ہی ضروری ہیں جتنے اس یبوسط زدہ اور ری سائکلنگ کی ماری سرقی شعری فضا کی گھٹن سے بچ نکلنے کی کوئی کھڑکی۔ صد شکر کہ علم دشمن اور جاہل مدرسین کی مجرمانہ خاموشی کے باوجود ادراکی تنقیدی دبستان اپنا فرض ادا کرنے لیے موجود ہے۔
ادراکی تنقیدی تھیوری (Perceptionism) اس بنیاد پر استوار ہے کہ تخلیقی کلام خارجی حقیقت کا براہِ راست عکس نہیں بلکہ شاعر کے ادراک، شعوری و لاشعوری تجربات، داخلی کیفیات اور جمالیاتی اظہار کا منظرنامہ ہے۔ اس نظریے کے مطابق معنی کلام میں جامد نہیں ہوتے بلکہ قاری کے ادراک کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ صابر ظفر کا شعری مجموعہ "رنگوں سے ماورا ایک رنگ" اس تناظر میں ایک بھرپور ادراکی کائنات تشکیل دیتا ہے جہاں "رنگ" محض بصری مظہر نہیں بلکہ وجود، عشق، ہجرت، شناخت اور زمان و مکان کی معنوی سطحوں کا استعارہ بن جاتا ہے۔
ابتدائی صفحات ہی میں شاعر رنگ کو حقیقتِ کائنات کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ادراکی تنقیدی تھیوری کے مطابق صابر ظفر کے زیر نظر مجموعہء کلام کی درج ذیل غزل کے اشعار میں موجود حقیقت شاعر کی ادراکی بصارت یا بصارتی ادراک، حسی تجربے، یادداشت، احساس اور شعور کی تخلیقی تنظیم ہے جہاں معنی ازسرِنو تشکیل پاتے ہیں اور زیرِ نظر اشعار اسی ادراکی تشکیل کا ایک بھرپور مظہر ہیں جہاں "رنگ" محض بصری کیفیت نہیں بلکہ درد، رفاقت، یاد، ہجر اور تخلیقی انفرادیت کی داخلی ساخت بن جاتا ہے۔
پہلا شعر
وہ رنگ درد کا تھا، نیلے پانیوں جیسا
دکھوں کی موج میں بہتی کہانیوں جیسا
یہاں درد کا رنگ ایک حسی استعارہ ہے جو بصارت، لمس و حرکت اور روایت کو یکجا کر دیتا ہے۔ Perceptionism کے مطابق یہ کثیرالحسی ادراک (multi-layered perception) ہے جہاں شاعر کا باطن درد کو جامد کیفیت کے طور پر نہیں بلکہ بہتے ہوئے نیلے پانی کی صورت محسوس کرتا ہے۔ نیلا رنگ عموماً گہرائی، تنہائی اور سکوت کی علامت ہے، لہٰذا درد یہاں سطحی نہیں بلکہ تہہ دار اور متحرک ہے۔ "بہتی کہانیاں " اس امر کی طرف اشارہ ہیں کہ دکھ ایک انفرادی تجربہ ہوتے ہوئے بھی زمانی تسلسل رکھتے ہیں۔ دیکھیے کہ کس طرح ادراک یہاں یادداشت کے ساتھ مل کر ایک سیال معنویت پیدا کرتا ہے۔
دوسرا شعر
اگر چہ رنگِ رفاقت نصیب کم کم ہے
ترا سلوک مگر مہربانیوں جیسا
اس شعر میں "رنگِ رفاقت" کمیاب ہے، یعنی خارجی دنیا میں تعلقات کی پائیداری کم ہے، مگر محبوب کا سلوک "مہربانیوں جیسا" ہے۔ ادراکی سطح پر یہ تضاد شاعر کے شعور میں امید اور محرومی کے بیک وقت وجود کو ظاہر کرتا ہے۔ Perceptionism کے مطابق انسانی ادراک یک رُخی نہیں ہوتا، اس میں فقدان اور فیض ایک ساتھ بستے ہیں۔ شاعر کے تجربے میں رفاقت کا رنگ کم یاب ہے، مگر اس کا احساسِ مہربانی اس کمی کو جزوی طور پر منور کر دیتا ہے۔
تیسرا شعر
اُداس، زردیِ مہتاب کی طرح ہوں میں
گزر چکا ہے سماں خوش گمانیوں جیسا
یہاں شاعر اپنی ذات کو "زردیِ مہتاب" سے تشبیہ دیتا ہے۔ زردی عموماً کمزوری اور پژمردگی کی علامت ہے، جبکہ مہتاب چاندنی اور روشنی کا استعارہ ہے۔ ادراکی تنقید کے مطابق یہ تضادی ترکیب (paradoxical perception) شاعر کے داخلی انکسار کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ روشن بھی ہے اور زرد بھی۔ "خوش گمانیوں کا سماں" گزر جانا اس بات کا اظہار ہے کہ امید کی روشنی اب پژمردہ ہو چکی ہے۔ ادراک یہاں ماضی کی بازیافت کے ذریعے حال کی ویرانی کو معنی دیتا ہے۔
چوتھا شعر
وہ شام، ہجر کی نیلاہٹیں رُلاتی تھیں
کہ ایک پل بھی نہ تھا شادمانیوں جیسا
شامِ ہجر کی نیلاہٹیں، ایک بصری کیفیت کو جذباتی شدت میں بدل دیتی ہیں۔ نیلا رنگ یہاں سرد مہری اور تنہائی کی علامت ہے۔ Perceptionism کے مطابق شاعر خارجی منظر کو داخلی کیفیت کے ساتھ مدغم کر دیتا ہے، یوں منظر اور احساس میں حد فاصل باقی نہیں رہتی۔ "ایک پل بھی نہ تھا شادمانیوں جیسا" ادراک کی زمانی ساخت کو ظاہر کرتا ہے۔ دکھ کے لمحے طویل اور خوشی کے لمحے نایاب محسوس ہوتے ہیں۔۔
پانچواں شعر
ترے سُروں میں ہیں رنگینیاں جداگانہ
ظفر ہے تو نئی طرزوں کے بانیوں جیسا
یہاں شاعر صوت کو رنگ سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ حسی آمیزش (synesthetic perception) ادراکی تنقید کی رو سے اس بات کی دلیل ہے کہ تخلیقی شعور حواس کی سرحدوں کو توڑ دیتا ہے۔ "سُروں کی رنگینی" دراصل تخلیقی انفرادیت کی علامت ہے۔ شاعر اپنی شناخت کو "نئی طرزوں کے بانی" کے طور پر پیش کرتا ہے، جو اس کے ادراک کی خود آگہی (self-perceptual awareness) کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ اشعار درد اور ہجر کی جمالیاتی تشکیل ہیں، مگر ان کی اصل قوت اس ادراکی عمل میں ہے جس کے ذریعے رنگ، موج، مہتاب، شام اور سُر جیسے عناصر داخلی کیفیت کا پیکر بن جاتے ہیں۔ Perceptionism کے مطابق یہاں معنی کسی خارجی حقیقت میں نہیں بلکہ شاعر کے شعور میں تخلیق ہو رہے ہیں اور قاری اپنے ادراک کے ذریعے ان رنگوں کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے۔ یوں یہ کلام کثرتِ رنگ سے گزرتا ہوا ایک ایسے داخلی رنگ تک پہنچتا ہے جو فرد کی وجودی سچائی کا مظہر ہے۔
صابر ظفر کے ہاں رنگ ایک حسی تجربے (visual perception) سے آگے بڑھ کر کثیرالحسی ادراک (multi-sensory perception) کی صورت اختیار کرتا ہے۔ جیسے خوشبو کا رنگ میں بسے ہونا حواس کی سرحدوں کو توڑ دیتا ہے۔ Perceptionism کے مطابق یہ ادراک کی وہ سطح ہے جہاں خارجی اشیاء اپنی مادی حدوں سے نکل کر شعور میں نئی ترکیب پاتی ہیں۔
اسی طرح شاعر کہتا ہے۔۔
ہر رنگ میں ایک داستان تھی
ہر رنگ میں جلوت جہان تھی
یہاں رنگ وقت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ رنگ میں داستان اور جوانی کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ شاعر کے ادراک میں رنگ ایک متحرک وجودی توانائی ہے۔ ادراکی تنقید کے مطابق یہ شاعر کے باطن میں محفوظ تجربات کی معنوی بازیافت ہے جہاں ہر رنگ ایک lived experience کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
صابر ظفر کے ہاں رنگ کا تصور وحدت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے:
ہر رنگ کا اپنا اک نشاں تھا
ہر رنگ کی اپنی ایک جاں تھی
یہ شعر Perceptionism کی اس اساس کو تقویت دیتا ہے کہ حقیقت واحد نہیں بلکہ ہر ادراک میں نئی صورت اختیار کرتی ہے۔ ہر رنگ کا اپنا رنگ ہونا وجود کی انفرادیت کا اعلان ہے، جبکہ جنت کی آس ہونا انسانی شعور کی ماورائی طلب کا اظہار ہے۔
مجموعے کا مرکزی استعارہ "رنگوں سے ماورا ایک رنگ" دراصل کثرت سے وحدت کی طرف سفر ہے۔ شاعر لکھتا ہے:
رنگ اڑتا تھا تو بنتا تھا تماشا کوئی
یہ الگ دکھ تھا کہ رہ جاتا تھا تنہا کوئی
یہاں رنگ کا اپنا ہونا شناخت اور خود آگہی کا استعارہ ہے۔ Perceptionism کے مطابق جب ادراک اپنی انفرادی تشکیل کرتا ہے تو وہ خارجی تماشے سے الگ ہو جاتا ہے۔ شاعر کا دکھ دراصل اس داخلی ادراک کا ہے جو اجتماعی سطح پر قبول نہیں کیا جاتا۔
ان کے اشعار مں سفید اور رات کے رنگ کی آمیزش ادراک کی تضادی ساخت کو ظاہر کرتی ہے۔ سفید رنگ شفافیت اور سچائی کا استعارہ ہے جبکہ رات لاشعور اور پوشیدگی کی علامت۔ ادراکی تنقید کے مطابق یہ شعری پیکر شعور و لاشعور کی آمیزش سے متشکل ہوتا ہے۔
شاعر رنگ کو وجودی بحران کے استعارے کے طور پر بھی برتتا ہے۔
زیر نظر شاعری میں زندگی بطور منظر اور رنگ بطور معنی سامنے آتے ہیں۔ Perceptionism کے مطابق منظر خارجی حقیقت ہے جبکہ رنگ اس کا ادراکی اظہار۔ شاعر زندگی کو ایک ایسی اسکرین بنا دیتا ہے جس پر ادراک کے رنگ چمکتے ہیں۔
اسی تناظر میں ہجرت اور جدائی کا تجربہ بھی رنگ کے ذریعے بیان ہوتا ہے۔ ایسے اشعار میں شام اور تاریکی محض وقت کے حصے نہیں رہتے بلکہ داخلی کیفیت کے رنگ ہیں۔ ادراکی تنقید کے مطابق یہ شاعر کی داخلی زمانی ساخت (inner temporality) ہے جہاں وقت خطی نہیں بلکہ کیفیاتی ہوتا ہے۔
صابر ظفر کے ہاں رنگ کا ایک اہم پہلو اس کی جہاں کائنات کی رنگا نگی اور وسعت کا بیان ہے وہاں ماورائیت کا رنگ بھی موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں
ہر رنگ میں اک رنگ نو تھا کوئی
ہر رنگ میں گردش جہاں تھی
رنگوں کی کثرت کے باوجود نیا رنگ نظر آنا اس امر کی علامت ہے کہ ہر شعور اپنی الگ ساخت رکھتا ہے۔ Perceptionism کے مطابق یہی انفرادی ادراک معنی کی اصل تخلیق گاہ ہے۔
اسی طرح ایک اور غزل کی ادراکی تحلیل دیکھئیے۔۔
زیرِ نظر غزل میں "رنگ" محض بصری کیفیت نہیں بلکہ وجودی تبدیلی، باطنی تطہیر، شناخت اور فنا و بقا کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
پہلا شعر
کسی صورت میں مبتلا تو ہوئے
آپ کچھ رنگ آشنا تو ہوئے
یہاں "صورت میں مبتلا ہونا" دراصل کسی تجربے میں داخل ہو جانا ہے۔ Perceptionism کے مطابق ادراک تب تک فعال نہیں ہوتا جب تک شعور کسی کیفیت میں مبتلا نہ ہو۔ رنگ آشنا ہونا محض رنگ کو دیکھ لینا نہیں بلکہ اسے باطن میں جذب کر لینا ہے۔ شاعر اشارہ دیتا ہے کہ تجربہ اگرچہ مکمل نہیں مگر ادراک کی ابتدا ہو چکی ہے۔
دوسرا شعر
کچھ رہائی کی راہ تو نکلی
رنگ اُڑتے ہوئے جدا تو ہوئے
یہاں رنگ اُڑنا ایک علامتی عمل ہے۔ رنگ کا اڑ جانا عام طور پر شرمندہ ہونے یا زوال پذیر ہونے کی علامت ہے، مگر شاعر اسے رہائی سے جوڑتا ہے۔ ادراکی تنقید کے مطابق یہ معنی کی الٹ تشکیل (reverse perception) ہے۔ جو چیز بظاہر پابند ہے وہی آزادی کا سبب بن رہی ہے۔ رنگوں کا جدا ہونا شاید وابستگیوں کے تحلیل ہونے کی طرف اشارہ ہے اور اسی تحلیل میں آزادی کا امکان پوشیدہ ہے۔
تیسرا شعر
اپنے زخموں میں رنگ بھرتے ہیں
ہم کسی درد کی دوا تو ہوئے
یہاں شاعر زخم کو خالی جگہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اس میں رنگ بھرنے کی بات کرتا ہے۔ Perceptionism کے مطابق یہ تخلیقی ادراک کی معالجاتی قوت ہے۔ شاعر کا شعور اپنے ہی دکھ کو معنی دے کر اسے دوا میں بدل دیتا ہے۔ زخم خارجی واقعہ ہے، مگر اس میں رنگ بھرنا داخلی تشکیل ہے، یوں شاعر درد کا مداوا خود اپنے ادراک سے کرتا ہے۔
چوتھا شعر
دیر ہی سے سہی مگر کچھ حرف
اُس لبِ سُرخ سے ادا تو ہوئے
"لبِ سرخ" یہاں جذبے، محبت اور اظہار کی علامت ہے۔ ادراکی سطح پر خاموشی ایک بے رنگ کیفیت تھی، مگر حرف ادا ہونے سے رنگ پیدا ہوا۔ Perceptionism کے مطابق معنی کا وجود اظہار سے وابستہ ہے۔ جب تک لفظ ادا نہ ہو، تجربہ مکمل نہیں ہوتا۔ اس شعر میں تاخیر کے باوجود اظہار کا واقع ہونا شعور کی تکمیل کا عمل ہے۔
پانچواں شعر
رنگ پھینکا اگرچہ اوروں پر
آپ شائستۂ وفا تو ہوئے
یہاں رنگ پھینکنا بظاہر الزام یا طعن کی کیفیت رکھتا ہے، مگر شاعر اس کے باوجود مخاطب کو شائستۂ وفا کہتا ہے۔ ادراکی تنقید کے مطابق یہ تضادی شعور (paradoxical consciousness) ہے۔ خارجی عمل اور داخلی نیت میں فرق ہو سکتا ہے۔ شاعر کا ادراک سطحی ردعمل سے آگے جا کر باطنی شائستگی کو دریافت کرتا ہے۔
نہ سہی گل تو رنگ زخم سہی
ہم کسی طور رُونما تو ہوئے
یہاں شاعر حسنِ کامل کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ رنگِ زخم کو قبول کرتا ہے۔ Perceptionism کے مطابق شناخت ہمیشہ کامل صورت میں ظاہر نہیں ہوتی، کبھی زخم بھی ظہور کا ذریعہ بنتے ہیں۔ شاعر کے لیے اہم یہ ہے کہ وہ رونما ہوا۔۔ یعنی اس کا وجود کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہوا، چاہے وہ زخم کا رنگ ہی کیوں نہ ہو۔
ساتواں شعر
عکس کوئی ہرا ہوا نہ ہوا
ہم مگر سبز آئنہ تو ہوئے
سبز آئنہ بیک وقت کمال کی ترکیب اور ایک نہایت گہرا استعارہ ہے۔ سبز رنگ زندگی، نمو اور تازگی کی علامت ہے۔ اگرچہ خارجی دنیا میں کوئی عکس ہرا نہ ہوا، یعنی کوئی واضح مثبت تبدیلی نہ آئی، مگر شاعر خود سبز آئینہ بن گیا۔ Perceptionism کے مطابق یہ داخلی نمو کا بیان ہے۔ ادراک خود تبدیل ہو جائے تو دنیا کا عکس بھی نئے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔
اب اس غزل کا آخری شعر دیکھئیے۔۔
کیسی بے کیفی کیسی بے رنگی
ہم کسی رنگ میں فنا تو ہوئے
یہ شعر غزل کا وجودی نقطۂ عروج ہے۔ "بے کیفی" اور "بے رنگی" انسانی خلا کی علامت ہیں، مگر شاعر اس خلا میں بھی فنا ہو کر رنگ پا لیتا ہے۔ Perceptionism کے مطابق فنا دراصل ادراک کی آخری حد ہے جہاں انا تحلیل ہو کر کسی بڑے رنگ میں جذب ہو جاتی ہے۔ یہ رنگ وحدت کا بھی ہو سکتا ہے، عشق کا بھی، یا تخلیقی شعور کا بھی۔
مجموعی طور پر اس غزل میں رنگ خارجی آرائش نہیں بلکہ داخلی تغیر کا استعارہ ہے۔ مبتلا ہونا، جدا ہونا، زخم بھرنا، حرف ادا ہونا، رونما ہونا، سبز آئینہ بننا اور فنا ہونا۔۔ یہ سب ادراک کے مراحل ہیں۔ ادراکی تنقیدی تھیوری (Perceptionism) کے اطلاق سے واضح ہوتا ہے کہ شاعر رنگوں کے ذریعے اپنی وجودی تشکیل کا سفر بیان کر رہا ہے۔ رنگ یہاں زندگی کے تجربات کی جمالیاتی اور روحانی تعبیر ہے اور قاری اپنے شعور کی سطح پر ان رنگوں کو دوبارہ تخلیق کرتا ہے۔
نتیجتاً کہا جا سکتا ہے کہ صابر ظفر کا یہ مجموعہ محض رنگوں کی جمالیات نہیں بلکہ ادراک کی فلسفیانہ تشکیل ہے۔ "رنگ" یہاں حسی تجربے سے شروع ہو کر وجودی شعور، شناخت، عشق، ہجرت، راز اور نور تک پھیل جاتا ہے۔ ادراکی تنقیدی تھیوری (Perceptionism) کے اطلاق سے واضح ہوتا ہے کہ شاعر خارجی دنیا کو براہِ راست بیان نہیں کرتا بلکہ اسے اپنے داخلی شعور میں تحلیل کرکے ایک نئی معنوی کائنات تشکیل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "رنگوں سے ماورا ایک رنگ" دراصل کثرتِ ادراک سے وحدتِ شعور تک کا سفر ہے۔۔ وہ ایک رنگ جو تمام رنگوں کی ادراکی جمع ہے اور جو قاری کے شعور میں نئے معنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔