بس ایک وہی جانے تری شان کی وسعت
جو شخص سمجھ پایا ہے امکان کی وسعت
میں چشمِ تصور سے انہیں دیکھ رہا ہوں
دیکھو تو مرے دیدہءحیران کی وسعت
تھے عرش معلیٰ پہ بھی، یاں بھی شبِ معراج
حیران کیے دیتی ہے دوران کی وسعت
مولا مجھے تفہیم کی توفیق عطاء کر
یہ نُور کی وسعت ہے یا انسان کی وسعت
ہم جیسے گنہگاروں کی بخشش ہو اور ایسے
ایسی ہے کہاں دنیا میں احسان کی وسعت
ایثار سے طے شُکر کا معیار کیا ہے
میزان کو بخشی ہے یہ میزان کی وسعت
دربان کے عرفان کا عالَم کہ ہے عالِم
کیا ہوگی درِ شہر کے عرفان کی وسعت
تاحشر تری آل کا ممنون رہوں گا
دیکھے گا زمانہ مرے ایمان کی وسعت
اک شاعرِ غم آپ کے نعلین کے صدقے
حاصل کیے پھرتا ہے دل وجان کی وسعت
پھوٹا ہے یہاں چشمہء اشکِ غم شبیر
صد رشکِ چمن ہے دلِ ویران کی وسعت
ہے نعت کے اک شعر کی تاثیر کہ فرحت
سمٹائے سمٹ پائے نہ وجدان کی وسعت