1. ہوم
  2. اسلامک
  3. حسنین حیدر
  4. مسلمؑ: کربلا کا پہلا خون

مسلمؑ: کربلا کا پہلا خون

وہ شہر، جس کی گلیاں کبھی علیؑ کے قدموں کی گرد سے معطر رہی تھیں، اب خوف کے سائے میں اپنی روح کھو رہا تھا۔ مسجدوں کے ستون خاموش کھڑے تھے، مگر ان کے سائے میں ضمیر بکتے جا رہے تھے۔ چند روز پہلے تک یہی کوچے "لبیک یاحسینؑ" کی صداؤں سے گونجتے تھے۔ یہی ہاتھ خط لکھ لکھ کر فرزندِ زہراؑ کو بلا رہے تھے۔ یہی لوگ مسلم بن عقیلؑ کے ہاتھ پر بیعت کرکے وفاداری کے دعوے کر رہے تھے۔

مسلمؑ، حسینؑ کے سفیر بن کر کوفہ پہنچے تھے۔

ابتدا میں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے شہر واقعی بیدار ہوچکا ہو۔ ہزاروں لوگ ان کے گرد جمع تھے۔ ہر زبان پر یزیدیت کے خلاف نفرت تھی۔ ہر شخص خود کو آلِ محمد ﷺ کا وفادار ثابت کرنا چاہتا تھا۔ راتوں کو گھروں میں چراغ جلتے، دروازے بند ہوتے اور اندر بیٹھ کر لوگ آنے والے انقلاب کے خواب دیکھا کرتے۔

مگر پھر ابنِ زیاد کوفہ میں داخل ہوا اور اُس کے ساتھ داخل ہوا خوف۔

بازار وہی رہے، مگر چہروں کے رنگ بدل گئے۔ مسجدیں وہی رہیں، مگر سجدوں کے معنی بدل گئے۔ درہم و دینار نے ضمیر خریدنے شروع کیے، تلواروں نے وفاداریاں بدل ڈالیں اور دھمکیوں نے حق کے نعروں کو خاموش کرنا شروع کردیا۔

مسلمؑ ابھی بھی کوفہ کی گلیوں میں امید تلاش کر رہے تھے، مگر شہر آہستہ آہستہ ان کے قدموں تلے سے سرک رہا تھا۔

پھر وہ شام آئی۔

مسجد میں لوگ جمع تھے۔ بیعتیں اب بھی زبانوں پر تھیں۔ مگر جیسے ہی ابنِ زیاد کے سپاہیوں کی چاپ قریب سنائی دی، ہجوم سمندر کی لہروں کی طرح پیچھے ہٹنے لگا۔ ایک شخص اٹھا اور چلا گیا۔ پھر دوسرا۔ پھر تیسرا۔ یہاں تک کہ مسجد کے ستونوں کے درمیان صرف خاموشی رہ گئی۔

اور مسلمؑ، تنہا کھڑے رہ گئے۔

وہ سفیر، جس کے استقبال میں ہزاروں ہاتھ اٹھے تھے، اب کوفہ کی تاریک گلیوں میں اکیلا پھر رہا تھا۔ دروازے بند ہوچکے تھے۔ کھڑکیاں خاموش تھیں۔ جن گھروں میں کل تک وفاداری کے دعوے تھے، آج وہاں چراغ بجھا دیے گئے تھے۔

پیاس اور تھکن سے نڈھال مسلمؑ ایک دروازے پر رکے۔

یہ طوعہ کا گھر تھا۔

ایک ضعیف عورت، جس کے دل میں ابھی انسانیت زندہ تھی، اس نے دروازہ کھولا۔ پانی دیا۔ پناہ دی۔ مگر کوفہ کی دیواروں کے بھی کان تھے۔ خبر ابنِ زیاد تک پہنچ گئی۔

رات کے آخری پہر گھر کا محاصرہ کرلیا گیا۔

تلواریں سونت لی گئیں۔ نیزے سیدھے ہوگئے اور مسلم ع، ایک تنہا مرد، دروازے سے باہر نکل آئے۔

مگر اُس رات کوفہ کی گلیوں میں صرف ایک آدمی نہیں لڑ رہا تھا، اُس کے ساتھ وفا کی آخری سانس بھی لڑ رہی تھی۔

مسلمؑ نے تلوار اٹھائی۔

زخم پر زخم کھاتے گئے، مگر قدم پیچھے نہ ہٹے۔ دشمن بڑھتا گیا، مگر اُن کے بازو میں علیؑ کی تربیت کی طاقت باقی تھی۔ آخرکار تعداد غالب آ گئی۔ جسم لہولہان ہوگیا۔ تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی اور نواسہ رسول ﷺ کے سفیر کو قید کرلیا گیا۔

جب انہیں دارالامارہ لایا گیا تو ابنِ زیاد اپنے تخت پر بیٹھا تھا۔

سامنے زخمی مسلمؑ کھڑے تھے، مگر قید میں بھی ایسا وقار تھا کہ تخت چھوٹا محسوس ہونے لگا۔ کہتے ہیں، انہوں نے پانی مانگا۔ پیالہ لبوں تک آیا، مگر ہونٹوں سے پہلے اُس میں خون ٹپکنے لگا۔ پیاس وہیں رہ گئی، شاید فرات کی پیاس ابھی کربلا کے لیے محفوظ تھی۔

پھر حکم آیا: انہیں چھت پر لے جاؤ!

کوفہ خاموش تھا۔ لوگ سانس روکے کھڑے تھے۔ مگر کسی میں اتنی جرأت نہ تھی کہ ظلم کے سامنے آواز بلند کرسکے۔

مسلمؑ کو دارالامارہ کی چھت پر لایا گیا۔ انہوں نے آخری بار آسمان کی طرف دیکھا۔ شاید حسینؑ یاد آئے ہوں گے، شاید مدینہ کی گلیاں آنکھوں میں اتری ہوں گی، شاید دل نے محسوس کرلیا ہو کہ اب کربلا قریب آچکی ہے۔

پھر ایک دھکا دیا گیا، جسم فضا سے زمیں پر گرا اور کوفہ کی زمین پر حق کا ایک اور چراغ خون میں نہا گیا۔

مگر ظلم ابھی اپنی سفاکی سے سیراب نہ ہوا تھا۔

مسلمؑ کی لاش کو گھسیٹا گیا۔ بازاروں سے گزارا گیا۔ پھر کوفہ کے مرکزی دروازے پر لٹکا دیا گیا، تاکہ شہر خوف سیکھ لے، تاکہ لوگ جان جائیں کہ اقتدار کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔

ہوا چلتی تو خون آلود جسم جھولتا تھا۔

دروازے سے گزرنے والے لوگ نظریں جھکا لیتے۔ مگر تاریخ جانتی تھی کہ اُس دن دروازے پر صرف ایک لاش نہیں لٹک رہی تھی، وہاں کوفہ کا ضمیر لٹک رہا تھا۔

اور صحرا میں، حسینؑ کا قافلہ اب بھی کربلا کی طرف بڑھ رہا تھا۔