خودکشی جدید دنیا کے اُن سنگین عوامی مسائل میں شامل ہو چکی ہے جن پر بات کم اور نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 7 لاکھ 3 ہزار افراد خودکشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ شرح خاص طور پر 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ ان اعداد کے پیچھے تعلیمی دباؤ، معاشی غیر یقینی، ذہنی امراض، سماجی تنہائی اور ناکامی کے احساسات جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
ایسے میں ایک بنیادی سوال ناگزیر ہو جاتا ہے: خودکشی کو کیوں روکا جانا چاہیے اور شدید تکلیف کے باوجود زندگی کو کیوں چننا چاہیے؟
اس کا جواب جذباتی تسلی نہیں بلکہ عقلی، سائنسی اور اخلاقی دلائل میں پوشیدہ ہے۔
نفسیاتی تحقیق واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ خودکشی کے خیالات اکثر وقتی ہوتے ہیں۔ برٹش جرنل آف سائیکاٹری میں شائع ہونے والی ایک جامع تحقیق کے مطابق 90 فیصد سے زائد وہ افراد جو خودکشی کی کوشش سے بچ گئے، بعد میں دوبارہ خودکشی نہیں کرتے۔
یہ حقیقت اس بات کی دلیل ہے کہ خودکشی کا ارادہ اکثر مستقل خواہش نہیں بلکہ شدید وقتی ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہوتا ہے۔
ڈپریشن، اضطراب، تعلیمی تھکن اور سماجی دباؤ انسانی سوچ کو مسخ کر دیتے ہیں۔ نیورو سائنس کے مطابق شدید ذہنی تکلیف فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے اور انسان مستقبل کو مکمل تاریک سمجھنے لگتا ہے۔
اس تناظر میں خودکشی کوئی عقلی حل نہیں بلکہ عارضی ذہنی کیفیت میں لیا گیا مستقل فیصلہ ہے۔
خودکشی ایک فرد تک محدود نہیں رہتی۔ امریکن فاؤنڈیشن فار سوسائیڈ پریوینشن کے مطابق ایک خودکشی کم از کم 135 افراد کو براہِ راست متاثر کرتی ہے، جن میں خاندان، دوست، اساتذہ اور ساتھی شامل ہوتے ہیں۔
ایسے افراد میں ڈپریشن، PTSD اور خودکشی کے رجحان کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
معاشی زاویے سے دیکھا جائے تو OECD کے مطابق خودکشی اور خود نقصان پہنچانے کے واقعات معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچاتے ہیں، جس میں علاج، پیداواری صلاحیت میں کمی اور طویل مدتی سماجی اثرات شامل ہیں۔ یوں خودکشی ایک ذاتی عمل نہیں بلکہ اجتماعی سماجی زخم ہے۔
نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے رجحان کی ایک بڑی وجہ ناکامی کا احساس ہے۔ یونیسکو اور مختلف قومی تعلیمی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ تعلیمی دباؤ اور بے روزگاری کا خوف خودکشی کے خیالات سے گہرا تعلق رکھتا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں۔
تاہم انسانی قدر کو نمبروں، آمدن یا سماجی حیثیت سے ناپنا ایک اخلاقی اور فکری غلطی ہے۔ عالمی انسانی حقوق کے منشور (آرٹیکل 3) کے مطابق زندگی کا حق فطری ہے، کمائی ہوئی شے نہیں۔
ایک ایسا معاشرہ جو جدوجہد کرنے والوں کو بے وقعت سمجھے، بنیادی طور پر غیر منصفانہ ہوتا ہے۔ لہٰذا خودکشی کی روک تھام محض طبی مسئلہ نہیں بلکہ ریاست اور سماج کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
مایوسی کے برعکس، خودکشی قابلِ روک تھام ہے۔ جن ممالک نے بحران سے نمٹنے کے لیے ہیلپ لائنز، کیمپس کونسلنگ اور ذمہ دارانہ میڈیا رپورٹنگ متعارف کرائی، وہاں خودکشی کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
مثال کے طور پر جاپان نے 2009 سے 2019 کے درمیان خودکشی کی شرح میں 40 فیصد سے زائد کمی کی، جس کی وجہ قومی سطح کی حکمتِ عملی، ذہنی صحت کی سہولیات اور کام کی جگہوں میں اصلاحات تھیں۔
طبی شواہد بھی بتاتے ہیں کہ کگنیٹو بیہیویئرل تھیراپی (CBT)، ادویات اور ہم عمری سپورٹ پروگرامز خودکشی کے خیالات میں نمایاں کمی لاتے ہیں۔
جب مؤثر حل موجود ہوں تو "کچھ بھی مددگار نہیں" کا تصور بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔
عقلی انتخاب (Rational Choice) کے اصول کے مطابق خودکشی ہر ممکنہ مستقبل، اچھا یا برا، ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس زندگی کا انتخاب امکان کو زندہ رکھتا ہے اور امکان میں بہتری کا امکان بھی شامل ہوتا ہے۔
بے شمار افراد جنہوں نے ماضی میں خودکشی کے شدید خیالات کا سامنا کیا، بعد ازاں معنی خیز زندگی گزارنے لگے۔ ان کی کہانیاں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ مستقبل کا تصور نہ کر پانا، مستقبل کے وجود کی نفی نہیں۔
نتیجہ، خودکشی تکلیف کا حل نہیں بلکہ بغیر علاج کے درد، مسخ شدہ سوچ اور سماجی ناکامی کا المناک نتیجہ ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ خودکشی کے خیالات اکثر عارضی ہوتے ہیں، علاج مؤثر ہے اور خودکشی کے اثرات ناقابلِ واپسی ہوتے ہیں۔
خودکشی کے خلاف سب سے مضبوط دلیل جذباتی نہیں بلکہ منطقی ہے:
جب تک زندگی باقی ہے، تبدیلی ممکن ہے۔
جب زندگی ختم ہو جائے، ہر امکان بھی ختم ہو جاتا ہے۔
زندگی کو چننا درد سے انکار نہیں، بلکہ وقت، مدد اور انسانی ربط کو موقع دینا ہے، وہ موقع جو موت کبھی نہیں دے سکتی۔