اپنے اتنے بھی برے دوستوں حالات نہیں
کعبہء دل میں کوئی عُزیٰ منّات نہیں
بات بن جاتی بڑی بات تھی لوگوں لیکن
بات جو بن نہ سکی ہے تو کوئی بات نہیں
یاں رزیلوں کی ہے بن آئی جدھر بھی جائیں
اب زمانے میں نجیبوں کی کوئی ذات نہیں
وہی تحریر جسے خونِ جگر سے لکھا
اور وہ کہتے ہیں کہ یہ خاص کوئی بات نہیں
گہن چھٹ جائے گا احمد یہ بالآخر دیکھو
قسمتِ ماہ میں پھر کوئی سیہ رات نہیں