شہرت افزائی میں اپنی سی مدد کرتے ہیں
یہ جو حاسد ہیں یہ اونچا مرا قد کرتے ہیں
کسی ماں باپ سے پوچھو کبھی بیٹی کا یہ دکھ
دیکھنے والے جسے دیکھ کے رد کرتے ہیں
بار ور پیڑ، خنک چھاؤں، گھنے سبز درخت
ہم بڑے فخر سے ذکر اب و جد کرتے ہیں
شعلہء شعر! تجھے یوں ہی تپاں رکھنے میں
دوست تو دوست ہیں، دشمن بھی مدد کرتے ہیں
شکر لازم ہے محبت کے اسیروں پہ سعود
جو محبت نہیں کرتے، وہ حسد کرتے ہیں