1. ہوم
  2. غزل
  3. سعود عثمانی
  4. رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
Saud Usmani

رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے

رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے

کیسی بے فیض سی رہ جاتی ہے دل کی بستی
کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے

ایک پل چھین کے انسان کو لے جاتا ہے
پیچھے رہ جاتے ہیں سب ساتھ نبھانے والے

لوگ کہتے ہیں کہ تو دور افق پار گیا
کیا کہوں اے مرے دل میں اتر آنے والے

جانے والے تری مرقد پہ کھڑا سوچتا ہوں
خواب ہی ہوگئے تعبیر بتانے والے

ہر نیا زخم۔ کسی اور کے سینے کا سعود
چھیڑ جاتا ہے مرے زخم پرانے والے