1. ہوم
  2. غزل
  3. خرم سہیل
  4. جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیا
Khurram Sohail

جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیا

جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیا
خسارہ کرکے حقیقت کو ہم نے جان لیا

میں کیسے بچتا کہ بچنے کا راستہ ہی نہیں
جو تیر حسن نظر اس نے مجھ پہ تان لیا

ہر ایک بات میں تھا عجز اس کے بعد مرے
غرور عقل کی چھلنی میں جب سے چھان لیا

نہ اس کے بعد گواہی کی کچھ ضرورت تھی
خلاف اپنے ہی اپنا جو جب بیان لیا

ملا جو راہ محبت میں بچھڑا یار مجھے
جدا نہ ہوں گا کبھی اس سے میں نے ٹھان لیا

ابھی یہ سوچ رہا تھا بھلے میں کام کروں
قضا نے چپکے سے پیچھے سے مجھ کو آن لیا

کھلا میں کھل کے یوں خود پہ پہلی بار سہیل
نکل کے صحرا میں گہرا جو اک گیان لیا