نکہت سحر شبنم کی ہے، نہ صبا کی ہے
شب وصل میں بکھری تیری قبا کی ہے
چال کا اتھلا ڈھنگ، پاؤں کا لال رنگ
اک اک ادا پہ ہم نے زندگی فنا کی ہے
برق کوندھی رگ رگ میں، تن پھڑکا
دیکھ کر تم کو جاگی، آرزو بقا کی ہے
آنکھوں سے تیرے پاؤں کا بوسہ لے کر
بے کس ہونٹوں کی پوری رضا کی ہے
ردِ بلائےِ عشق ممکن نہیں پھر بھی
جان و دل صدقہ کیے، دعاے جزا کی ہے
ستارے چھپ گئے، چاند ڈوب گیا
بند قبا کھلا، سب نے تیری حیا کی ہے
جان وار دی، مصلحت کا یارا نہ تھا
جنبش ابرو سے نسبت قدر و قضا کی ہے
تیری باہوں میں بیتے یا تیرے بغیر
جیون کی ہر رات بیم و رجا کی ہے