1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. تڑپتی روحیں اور عالمی ضمیر

تڑپتی روحیں اور عالمی ضمیر

تاریخ کے اوراق جب بھی انسانیت پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کریں گے، اسرائیلی قید خانوں میں فلسطینی اسیران پر ہونے والے بہیمانہ تشدد کا باب سب سے زیادہ سیاہ اور لرزہ خیز ہوگا۔ بیسویں اور اکیسویں صدی کے نام نہاد مہذب دور میں، جہاں جانوروں کے حقوق کے لیے بھی آوازیں اٹھائی جاتی ہیں، وہاں ہزاروں فلسطینی نوجوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کو بجلی کے جھٹکوں، ناخن اکھاڑنے اور جسمانی و ذہنی اذیت کے ایسے مراحل سے گزارا جا رہا ہے جو قرونِ وسطیٰ کی بربریت کو بھی مات دے دیتے ہیں۔

حالیہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی تفتیشی مراکز میں قیدیوں کو برہنہ کرکے ان کے نازک اعضا پر بجلی کے تار لگانا اور کئی گھنٹوں تک کرنٹ دینا ایک معمول بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی قیدیوں کے اعضاء ناکارہ ہو چکے ہیں یا وہ تڑپ تڑپ کر جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ یہ صرف جسمانی اذیت نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی روح کو کچلنے کی ناکام کوشش ہے، جہاں قید خانے موت کی ایسی تجربہ گاہیں بن چکے ہیں جن کی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔

عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کی مجرمانہ خاموشی اس پورے منظر نامے کا سب سے تلخ اور شرمناک پہلو ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشنز، جو جنگی قیدیوں کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں، اسرائیل کی دہلیز پر دم توڑ دیتے ہیں۔ اس خاموشی کی سب سے بڑی وجہ عالمی سیاست میں پایا جانے والا "دوہرا معیار" اور بڑی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور چند یورپی ممالک کی اسرائیل کو حاصل غیر مشروط پشت پناہی ہے۔ ویٹو پاور کا بے دریغ استعمال اسرائیل کو عالمی جوابدہی سے بچاتا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے احکامات بھی محض کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ گئے ہیں۔

یہ دنیا کی بے حسی ہی ہے کہ جب کسی مغربی ملک میں ایک خراش بھی آتی ہے تو پورا عالمی نظام حرکت میں آ جاتا ہے، لیکن فلسطین میں جب بجلی کے کرنٹ سے نوجوانوں کے جسم جھلسائے جاتے ہیں تو اسے "دفاعی حق" یا "داخلی معاملہ" قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ خاموشی دراصل ان مظالم میں برابر کی شرکت کے مترادف ہے۔ ان اعداد و شمار کی بات کی جائے تو صورتحال انتہائی ہولناک ہے۔

7 اکتوبر 2023 کے بعد سے جاری حالیہ کشیدگی میں اسرائیلی قید خانوں میں تشدد کی وجہ سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک سینکڑوں فلسطینی دورانِ حراست ان "غیر روایتی" تشددی طریقوں، جن میں بجلی کے جھٹکے اور طبی امداد کی عدم فراہمی شامل ہے، کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے سے اٹھائے گئے ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے اور ان کی ہلاکتوں کو اکثر "قدرتی موت" یا "ہارٹ اٹیک" کا رنگ دے کر چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ اذیت ناک سچائی ہر ضمیر رکھنے والے انسان کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے کہ آخر کب تک انسانی خون کی یہ ارزانی جاری رہے گی؟ فلسطینیوں کا لہو اور ان کی تڑپتی آہیں ایک ایسی تاریخ رقم کر رہی ہیں جو آنے والی نسلوں کو بتائے گی کہ جب انسانیت سسک رہی تھی، تو عالمی ادارے اپنے مفادات کی جال بچھائے بیٹھے تھے۔ یہ تحریر محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اس درد کا عکس ہے جو ہر اس فلسطینی کے دل میں ہے جو آزادی کی قیمت اپنے خون اور گوشت سے ادا کر رہا ہے۔