1. ہوم
  2. غزل
  3. علی رضا احمد
  4. گزر جاتے ہو تم تیزی سے اب جانے نہیں دیں گے
Ali Raza Ahmed

گزر جاتے ہو تم تیزی سے اب جانے نہیں دیں گے

گزر جاتے ہو تم تیزی سے اب جانے نہیں دیں گے
افق کے سرخ ماتھے پر شکن آنے نہیں دیں گے

بھلے اس میں چھپا ہے اپنا ماضی اور مستقبل
پھڑکتی دھڑکنوں کو کچھ نیا بھانے نہیں دیں گے

جو ماضی نے کیا بے حال مستقبل کو پھر بھی ہم
اسے ہر حال اپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دیں گے

اٹھا کے ساتھ اس کو بھی لے جائیں سائے کی خاطر
کسی دیوار کو رستے میں پھر آنے نہیں دیں گے

کبھی اس کی رکاوٹ سے یوں لیں گے کام خدمت کے
کبھی دیوار کے سائے کو گھٹ جانے نہیں دیں گے

یہ جیسے بھی ہیں جتنے بھی پرانے ہیں ہمارے ہیں
کبھی ہتھیار اب دشمن کو ہتھیانے نہیں دیں گے

اگر ہو ارضِ دل خونی درندوں کے جو ہاتھوں میں
کسی بلبل یا قمری کو لے میں گانے نہیں دیں گے

مہارت سے سنواریں گے ہم بھی تعبیر اِن کی پھر
یہ سارے خواب سستے میں تو بِک جانے نہیں دیں گے

سبق لے کر ہی ماضی سے دے خود کو حوصلہ احمد
یہ تجھ کو دوست کی بستی میں اب جانے نہیں دیں گے