1. ہوم
  2. غزل
  3. خرم سہیل
  4. ٹک کر کہیں نہ بیٹھے سو وحشت میں کاٹ دی
Khurram Sohail

ٹک کر کہیں نہ بیٹھے سو وحشت میں کاٹ دی

ٹک کر کہیں نہ بیٹھے سو وحشت میں کاٹ دی
جتنی ملی تھی زندگی ہجرت میں کاٹ دی

سب کامیاب لوگ تھے مصروفِ کار اور
ہم نے ترے جہان میں فرصت میں کاٹ دی

اک اجنبی دیار میں گمنام ہم ہوئے
یعنی تمام عمر مروت میں کاٹ دی

اس کی فریب کاریاں تھیں پر کشش بہت
یوں آستیں کے سانپ کی صحبت میں کاٹ دی

جب مفلسی نے دیکھ لیا گھر کا راستہ
تجھ سے گلہ نہ کر سکا غربت میں کاٹ دی

کردار رہنما کا ترے سامنے تھا جب
کیا سوچ کر پھر اس کی اطاعت میں کاٹ دی

بیٹی کو بوجھ جان کے تُو خوف میں رہا
بن پائی کچھ نہ اور تو غیرت میں کاٹ دی

ان کو کسی غریب کا آیا نہیں خیال
شاہوں نے اہتمام سے عشرت میں کاٹ دی

انصاف اس کو قبر میں ہی مل سکا میاں
جس نے تمام عمر عدالت میں کاٹ دی

رنگِ سخن سے ہم تو بہت دور ہی رہے
ویسے تو شاعروں کی ہی صحبت میں کاٹ دی

دیکھا انہیں جو سامنے تو ہونٹ سل گئے
آئی شبِ وصال تو حیرت میں کاٹ دی

میں تو اسیرِ الفتِ جاناں رہا سہیل
اس نے وفا کی ڈور بھی عجلت میں کاٹ دی