گھر کے پیچھے آنگن تھا۔ انگریزی میں جسے وہ بیک یارڈ کہہ کر پکارتے ہیں۔
اس آنگن کے دو اطراف پیڑ پودے تھے۔ ایک پودا شاید تلسی کا تھا۔ ایک پیڑ لیموں کا۔ ایک مالٹے کا۔ ایک ناریل نما لمبا سا پیڑ تھا جسے پاس کھڑا ہو کر دیکھا جائے تو باقی کے پودے بونے لگنے لگتے تھے۔ یہ درخت تفریق پر ابھارتا تھا۔ پھل یہ مگر نہیں دیا کرتا تھا۔ یعنی اس درخت کا کبر بھی کسی کام کا نہ تھا۔
پاس موجود لیموں اپنے جوبن پر ہوتا تو ہرے پتوں میں جگہ جگہ زرد کرے اور سفید چھوٹے چھوٹے پھول ایک تسکین کا احساس دیا کرتے۔ شہد کی مکھیاں اس درخت کی پرستش کیا کرتی تھیں۔ قد میں چھوٹا مگر پھل سے بھرپور لیموں اور اس کے برابر موجود مالٹے کا درخت جتایا کرتے کہ کبھی کبھار بلند قامت فرد، نظریہ، عمل بھی بے ثمر ہی رہا کرتا ہے۔
لیموں کے پیڑ برابر ایک پلیٹ فارم سا موجود تھا۔ اس نے بہت محبت اور دل سے یہاں ایک گول میز، ایک بار بی کیو مشین اور چار کرسیاں رکھی تھیں۔ گھر کا یہ کونہ کبھی انسانوں سے بھرا رہتا تھا۔ یہاں ہر جمعے کو گوشت بھونا جاتا تھا۔ کھانا کھایا جاتا تھا۔ قہقہے لگتے تھے۔ سورج کے ساتھ امنگیں ڈھلتی نہیں تھیں۔ شام ہوتے خوبصورت خواب آنکھوں میں قدم رنجہ ہوا کرتے تھے۔
مالٹے کے درخت کی ایک جانب اور اس پلیٹ فارم کے دوسری طرف دو عدد بانجھ نباتات بھی موجود تھے۔ ایک انجیر کا درخت تھا جس کا ظاہر مختصر مگر جس کا باطن جڑوں کی صورت پورے گھر کے نیچے پھیلا ہوا تھا۔ دوسرا کیلے کا درخت تھا۔ یہ دونوں پیڑ ایک عرصہ پھل دینے سے قاصر رہے۔
پھر جانے کیا ہوا، کہ جیسے جیسے انسانوں نے ان کے قریب اکٹھا ہونا بند کیا ویسے ویسے یہ بانجھ درخت پھل دینے کا آغاز کرنے لگے۔ یہ دونوں درخت بس اسی لیے منفیت کا استعارہ محسوس ہوتے۔
اس آنگن کے ایک طرف کنارے پر مچھلیوں کے لیے ایک چھوٹا سا جوہڑ تھا۔ پڑھے لکھے لوگ اسے fish pond کہہ کر پکارا کرتے ہیں۔ اس نے اس جوہڑ پر بہت دل سے بہت اہتمام سے محنت کی تھی۔ اس نے اس جوہڑ سے محبت کی تھی۔ اسے صاف کرکے اس میں پتھر ڈال کر اس میں پانی تازہ رکھنے کے لیے فوارہ نما اور گرم رکھنے کے لیے ہیٹر لگایا تھا۔ ان دونوں چیزوں کے لیے بجلی یہاں تک لانے پر کام کیا تھا، دل سے۔ پانی ڈال کر اس میں بیکٹیریا کلچر ڈال کر کئی ہفتے انتظار کیا۔ مچھلیوں کے لیے ایکو سسٹم بنایا۔ پھر مچھلیاں لایا۔ بار بار لایا۔
کچھ عرصے بعد دو کے سوا سب مچھلیاں مر گئیں۔
ویسے تو ہر چیز سے جڑا ہوا تھا مگر۔۔ یہ دو مچھلیاں اسے بہت پیاری تھیں۔ شاید اس لیے کہ یہ اس کی طرح سخت جان تھیں۔
اس کے موبائل میں اور کسی چیز کی یاددہانی کے لیے الارم موجود ہو یا نہ ہو، ان مچھلیوں کو خوراک ڈالنے کا الارم ضرور موجود تھا۔ وہ روزانہ صبح اٹھتا۔ اہلیہ کو کام پر چھوڑنے کی ذمہ داری پوری کرتا۔ وہاں سے گھر اپنے کھانے کے لیے سامان لاتا۔ سامان رکھنے تک صبح کے گیارہ بج جاتے۔ عین گیارہ بجے الارم بجتا۔ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مچھلیوں کو کھانا ڈالنے نکل پڑتا۔
یہاں پاس ہی انجیر، مالٹے، لیموں، کیلے کے درخت سے سلام دعا کرتا، چند منٹ مچھلیوں کو دیکھا کرتا اور کچھ دیر اس فضاء میں گہرے سانس لے کر واپس گھر گرہستی کا سامان کرنے واپس اندر چلا جاتا۔
اسے لگتا کہ یہ تمام پیڑ پودے، یہ مچھلیاں اس سے باتیں کرتے ہیں، خاموشی کی زبان میں اس سے حال چال پوچھتے ہیں، وہ افسردہ ہوتا ہے تو اس سے ہمدردی کے دو بول بولتے ہیں، وہ خوش ہوتا ہے تو یہ سب خوش ہوتے ہیں، وہ روتا ہے تو یہ دکھی ہوتے ہیں۔
اور پھر اسے کچھ وقت کے لیے ان سے دور جانا پڑا۔
جاتے ہوئے وہ خوش تھا۔ اس کے یہ سب دوست مگر خوش نہ تھے اور وہ یہ بات جان ہی نہ سکا۔۔
کچھ عرصے بعد وہ واپس آیا۔
کیلے کا درخت ناراض تھا۔ وہ بڑا لمبا اونچا ناریل سا درخت پہلے سے اونچا ہوچکا تھا مگر کسی وجہ سے اس کے پتے زرد پڑ چکے تھے۔ مالٹے کے درخت نے جانے ناراض ہو کر یا غصے میں نارنجی کی بجائے زرد سے پھل دینا شروع کر دیے تھے۔ انجیر کا درخت کچھ اس طرح سے پھیلا کہ جیسے کسی ریاست میں بغاوت موقع پاتے ہی پھیل جایا کرتی ہے۔
وہ کچھ دیر کے لیے مغموم، مبہوت کھڑا رہا۔ پھر اس کی نظر مچھلیوں کے اس چھوٹے سے ٹینک پر پڑی۔
اس کا پانی گدلا ہو کر مٹی کا رنگ اختیار کر چکا تھا۔ فوارہ۔۔ بند تھا۔
امید مگر کہاں اتنی آسانی سے مرتی ہے؟
وہ بہت دیر تک ایک خوف کے ساتھ اس پانی میں مچھلیاں ڈھونڈتا رہا۔ وہ دو مچھلیاں۔۔ جو وہ یہاں چھوڑ کر گیا تھا۔ وہ دو معصوم مچھلیاں۔
جو اب اس جگہ موجود نہیں تھیں۔ پتہ نہیں کب، کیسے شاید اس کو یاد کرتے اس کے کھانے کا انتظار کرتے کرتے۔۔ مر گئیں۔
اور اب جبکہ وہ یہ گھر چھوڑ کر جا چکا ہے، اس کے الارم میں آج بھی زندہ ہیں۔
مگر مر گئیں۔