سعدیہ بشیر18 اپریل 2024کالمز1661
شہر کے وسط میں ایستادہ مضبوط اور گھنے درخت کو اکھاڑ کر شہر کے ایک کنارے گاڑ دیا گیا تھا۔ یہ اکھاڑ پچھاڑ نئی بات نہ تھی۔ درخت سے خالی ہونے والے گڑھے میں ایک دل ک
مزید »سعدیہ بشیر11 اپریل 2024کالمز6421
ساجھے کی ہنڈیا چوراہے پر پھوٹنے کا قصہ نیا نہیں لیکن بیانات کی کھلبلی اور شہرت کے لالچ سے اب ہر گھر کی ہنڈیا سوشل میڈیا پر اپلوڈ ہے۔ عجیب سی ہانڈیوں کا زمانا ہے
مزید »سعدیہ بشیر04 اپریل 2024کالمز31564
مرکزی ہال میں اس بار ادبا و شعرا کے بجائے متاثرین ادب پہ نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔ سٹیج پہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ انتظامیہ کے انتہائی ذہین افراد نے طے شدہ مق
مزید »سعدیہ بشیر29 مارچ 2024کالمز15703
وطن عزیز میں میاں قرض کی بہت دھوم تھی۔ دھوم بھی ایسی ویسی! سمجھیے بینڈ باجے کے ساتھ دھوم۔ میاں قرض فرض کی نیکیاں ناپ تول کر بانٹا کرتے تھے اور تشہیر والی نیکیوں
مزید »سعدیہ بشیر15 فروری 2024کالمز1495
بابا جی اپنے کنبے سمیت تمام شعبوں میں اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ ملک کے طول و عرض میں ان کے متاثرین و مریدین موجود تھے۔ مذہبی ٹچ سے لے کر صحت کے مسائل اور کھانا پک
مزید »سعدیہ بشیر31 جنوری 2024کالمز30787
بوتلوں کے اجلاس میں اس بار کتنے ہی نئے پرانے ایجنڈوں پر بات ہونا تھی۔ خاموش طبع بوتلوں کی آنکھیں سرخ، گالوں پہ تمازت اور چہرے پر عجیب سے گلال و ملال کا رنگ چڑھا
مزید »سعدیہ بشیر25 جنوری 2024کالمز1397
شہر میں دانائی و شعور کا جیسے کال پڑ چکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں دلیل اب اتنی بازی گر نہیں رہی کہ سیاہ کو سفید دکھا سکے یا رنگوں کو یوں گڈ مڈ کر دے کہ صرف ایک رنگ ہ
مزید »سعدیہ بشیر17 جنوری 2024کالمز1512
جنگل میں جگہ جگہ فیشن شو کے اشتہارات لگے تھے یہ اشتہارات پینا فلیکس کی طرز پر کیلے کے درخت کی چھال اور پتوں پر بنائے گئے تھے۔ کیٹ واک اس فیشن شو کا حصہ تھی۔ بہت
مزید »سعدیہ بشیر11 جنوری 2024کالمز1457
بادشاہ کے محل کے چاروں طرف دریا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ سمندر دریا سے آن ملا ہے۔ البتہ شہر کے لوگوں کو تمام اطراف ریت ہی ریت دکھائی دیتی تھی۔ بادشاہ اپنے محل سے خو
مزید »سعدیہ بشیر20 دسمبر 2023کالمز1755
بادشاہ چھت پر آیا تو عوام نے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے۔ بادشاہ سلامت کے فلک شگاف نعروں میں تعطل تب آیا جب بادشاہ نے ظالم ملکہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنا تاج اس کے س
مزید »