پھونکوں سے جلائے گئے چراغسعدیہ بشیر11 جنوری 2024کالمز1436بادشاہ کے محل کے چاروں طرف دریا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ سمندر دریا سے آن ملا ہے۔ البتہ شہر کے لوگوں کو تمام اطراف ریت ہی ریت دکھائی دیتی تھی۔ بادشاہ اپنے محل سے خومزید »
بنے ہے شاہ کا مصاحبسعدیہ بشیر20 دسمبر 2023کالمز1694بادشاہ چھت پر آیا تو عوام نے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے۔ بادشاہ سلامت کے فلک شگاف نعروں میں تعطل تب آیا جب بادشاہ نے ظالم ملکہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنا تاج اس کے سمزید »
جونک کو جونک لڑےسعدیہ بشیر14 دسمبر 2023کالمز5750جونک سرخ اور سیاہ رنگ کا غیر فقاری جانور یا پانی کا کیڑا ہے جو بدن سے چمٹ کر انسانوں اور دوسرے جانوروں کا خون چوستا ہے۔ جونک پانی یا دلدل میں رہتی ہے اور خون چومزید »
کھلی تھی آنکھ کتنی بار بے داری سے پہلے بھیسعدیہ بشیر01 نومبر 2023غزل1684کھلی تھی آنکھ کتنی بار بے داری سے پہلے بھیرہی تھی گفتگو خود سے گرانباری سے پہلے بھی میں جتنا بھی نبھائے جا رہی ہوں مصلحت ہے یہتعلق واجبی سا تھا رواداری سے پہلےمزید »
حیرت زدہ ہیں کرچیاں اشکوں میں ڈھال کےسعدیہ بشیر17 اکتوبر 2023غزل1544حیرت زدہ ہیں کرچیاں اشکوں میں ڈھال کےتھکنے لگے ہیں درد بھی لفظوں میں پال کے بجھتے ہوئے چراغ میں ایسا تھا طنطنہہم سے ملے تھے خواب بھی نظریں سنبھال کے عمرِ رواںمزید »
ہاتھوں میں دل کے آ گئے قیدی دماغ کےسعدیہ بشیر01 جون 2023غزل25751ہاتھوں میں دل کے آ گئے قیدی دماغ کےتاروں کے رقص میں نہیں منظر صباغ کے قائل نہ کر سکے تھے وہ اجلے فریب سے ہم رنگ گھولتے رہے، داعی وہ داغ کے معذور اس قدر تھے کہمزید »
یا رب تری زمین تو صدموں سے بھر گئیسعدیہ بشیر26 مئی 2023غزل14755یا رب تری زمین تو صدموں سے بھر گئی روشن سے دن میں دشت کی وحشت اتر گئی تعبیر تھی جو عاقل و باصر نہ رہ سکی تدبیر اب کے ایک بھی کب کارگر گئی مفلس کے خواب بھوک میمزید »
کچھ تقاضے لیے، کچھ بہانے لیےسعدیہ بشیر07 اپریل 2023غزل12751کچھ تقاضے لیے، کچھ بہانے لیے دل کی وحشت سوا، چار خانے لیے چاند تارے لیے رات آدھی رہی ایک آنسو گرا، سو فسانے لیے وہ بصارت تو ان کی نظر لے گئی آستاں سے گئے، آسمزید »