1. ہوم
  2. افسانہ
  3. سید احسن تقویم
  4. سراب شب

سراب شب

وہ لمحہ اس کی زندگی کا ایک نیا باب تھا۔ پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ ایسا لمحہ اس کی زندگی میں پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ نئے لمحات ہمیشہ دلفریب ہوتے ہیں۔ عین اس لمحے جب وہ اپنی ڈائری دیکھ رہا تھا، اس کے ذہن میں یہ خیال ٹپکا کہ اسے گھر سے باہر نکلنا چاہیے۔

اس وقت رات اپنے جوبن پر تھی۔ تارے دلفریب ترتیبوں کے ساتھ آسمان پر جگمگا رہے تھے۔ آدھی رات گزر چکی تھی۔ گاؤں میں ہرسو پراسرار خاموشی کا راج تھا۔ کچھ لمحوں کے لیے بھونکتے کتوں کی آواز ضرور سنائی دیتی مگر پھر خاموشی پر پھیلائے ہر طرف موجود ہوتی۔

اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر باہر کا رخ کیا۔

موسم خوشگوار تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا ٹھنڈک کا احساس دلا رہی تھی۔ وہ مختلف گلیوں اور گلیاروں سے گزرتا ہوا ایک نسبتاً کھلی جگہ پر پہنچ گیا۔ سامنے کا منظر عام سا تھا۔ اس میں بظاہر کچھ بھی نیا نہ تھا، مگر رات کے اس پہر جب اردگرد کسی ذی روح کا نام و نشان نہ تھا، یہی منظر اس کے لیے ایک عجیب لطف کا باعث بن گیا۔ ایسا لطف جو اس کی زندگی سے جیسے مدتوں سے غائب تھا۔

وہ دن بھر فیکٹری میں مزدوری کرتا اور شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا۔ چھٹی کا سامان تبھی ہوتا جب بخار اسے نڈھال کر دیتا۔ مگر آج جب وہ ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہو رہا تھا تو اپنی زندگی کی یکسانیت اور عامیانہ پن کو یکسر بھلا چکا تھا۔ وہ پرسکون تھا اور کوئی بھی اس کی اس حرکت پر انگلی اٹھانے والا نہ تھا۔

وہ تقریباً ایک گھنٹہ ایک کٹے ہوئے درخت کے تنے پر بیٹھا رہا۔ جب اس لطف کی شدت کچھ کم ہوئی تو اسے صبح فیکٹری جانے کا خیال آیا۔ وہ گھر لوٹا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔

اگلے دن وہ فیکٹری میں کام میں مگن رہا، مگر پچھلی رات کا لطف اس کے ذہن میں تازہ تھا۔ شام کو گھر پہنچا تو اسے رات کی سیاہی کا انتظار ہونے لگا۔ جب رات کے ایک بجے تو اس کے من میں مٹر گشتی کی خواہش نے شدت پکڑی۔ وہ خاموشی سے اٹھا اور باہر نکل گیا۔

ہوا میں موجود ہلکی سی خنکی نے اس کا استقبال کیا۔ ایک طمانیت بھرا احساس اس کے وجود میں سرایت کرنے لگا، مگر یہ احساس زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ وہ گلیوں کی خاک چھانتا کافی دور نکل گیا، مگر کوئی منظر اس کے لیے لطف کا سامان پیدا نہ کر سکا۔

بے چینی اور غصے کی ایک کیفیت اس کے اندر پیدا ہونے لگی۔ اسی اضطراب کے عالم میں وہ گھر لوٹ آیا۔ سونے کی کوشش کی مگر دو تین گھنٹے سے زیادہ نہ سو سکا۔

اگلے دن فیکٹری میں کام اسے جان پر بوجھ محسوس ہوا۔ شام کو تھکا ہارا گھر لوٹا۔ اندھیرے کا انتظار کیا اور پھر آوارہ گردی کے لیے نکل پڑا۔ وہ ادھر ادھر کی خاک چھانتا رہا، مگر سب کچھ اسے لایعنی محسوس ہونے لگا۔

آخرکار تھک کر ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس کے سامنے کھیتوں کا ایک لامحدود منظر پھیلا ہوا تھا۔ وہ گردوپیش سے اور خود سے بے نیاز بالکل سپاٹ چہرے کے ساتھ اس منظر کو گھور رہا تھا۔

اچانک اسے سفید کپڑوں میں ملبوس ایک عورت کا دھندلا سا وجود دکھائی دیا۔ رات کے اس سمے کسی عورت کا یوں باہر ہونا اسے معیوب تو لگا، مگر اس عورت کے وجود سے پھوٹتی ہوئی سفید روشنی میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ اس پھوٹتی ہوئی پرسکون لہروں نے پل بھر کے لیے اسے مدہوش کردیا تھا۔

وہ بنا سوچے سمجھے اس کی طرف بڑھنے لگا۔

عورت کے لمبے سیاہ بال اور دودھیا رنگ اسے مسحور کر رہے تھے۔ وہ دیوانہ وار اس کی طرف بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر، حتیٰ کہ اپنے وجود سے بھی لاتعلق۔

وہ چلتا جا رہا تھا مگر عورت سے اس کا فاصلہ کسی طور کم نہ ہو رہا تھا۔ اس کے باوجود اس کی جستجو میں کمی نہ آئی۔

وہ چلتا رہا یہاں تک کہ صبح کی سفیدی نے اس ہیولے کو مٹا دیا۔

وہ تھکن سے چور گھر لوٹا اور فیکٹری جانے کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔ سارا دن اسے نیند کے دورے پڑتے رہے۔ کام میں اس کی عدم دلچسپی سب کو محسوس ہو رہی تھی۔ حتیٰ کہ مینیجر نے بھی اسے ڈانٹ دیا کہ کام ڈھنگ سے کرو، ورنہ نوکری چھوڑ دو۔

اس رات وہ جلدی سو گیا، مگر ٹھیک ایک بجے اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ دیوانہ وار اٹھا اور اس حسین عورت کی تلاش میں نکل پڑا۔

وہ اسی دیوار کے پاس پہنچا اور سامنے پھیلے لامتناہی منظر کو دیدے پھاڑے دیکھنے لگا۔

اچانک اس عورت کا وجود دوبارہ اس کی آنکھوں کے سامنے نمودار ہوگیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس بار عورت اسے دیکھ کر مسکرا رہی ہے۔

وہ اٹھا، مسکرایا اور اس کی جانب بڑھنے لگا۔

اسے یوں محسوس ہوا جیسے عورت بھی اس کی طرف آ رہی ہو، مگر چند میٹر کا فاصلہ پھر بھی کم نہ ہوا۔

آخرکار اس نے تنگ آکر اس کی طرف دوڑنا شروع کر دیا۔ وہ پاگلوں کی طرح دیوانہ وار بھاگنے لگا۔ پسینہ اس کے جسم سے بہنے لگا، مگر اس کے اندر پیدا ہونے والی سرشاری اسے رکنے نہ دیتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں تجسس اور پالینے کی خواہش تھی۔

وہ بھاگتا رہا۔

کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ دونوں کے درمیان فاصلہ واقعی گھٹنے لگا ہے۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ امید کی ایک چمک اس کے اندر جاگ اٹھی۔ اب اسے یقین ہونے لگا تھا کہ وہ اس وجود تک پہنچ جائے گا۔

آخرکار وہ اس کے بالکل قریب جا پہنچا۔ اس نے بازو پھیلائے، جیسے اس اجنبی حسن کو اپنی آغوش میں بھر لینا چاہتا ہو۔ اسی لمحے اس کی نظر اس دوشیزہ کے چہرے پر ٹھہر گئی۔

لمبے سیاہ بال رات کی تاریکی میں تحلیل ہو رہے تھے اور اس کا دودھیا چہرہ کسی مدھم چاندنی کی طرح دمک رہا تھا۔ وہ اس حسین منظر کو اپنے ذہن کے نہاں خانوں میں ہمیشہ کے لیے چھپا لینا چاہتا تھا۔

پھر اس کی آنکھیں

دو گہری، بے حد حسین آنکھیں۔

وہ ان آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ پہلے پہل اسے یوں لگا جیسے ان آنکھوں میں کوئی عجیب سی کشش ہے۔ ایک ایسا سکون جو اسے اپنے اندر کھینچ رہا تھا۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کشش میں ایک نامعلوم دہشت شامل ہونے لگی۔ وہ خود کو بےبس محسوس کرنے لگا۔

وہ آنکھیں اب بھی مسکرا رہی تھیں، مگر اس مسکراہٹ میں ایک ایسی سرد مہری تھی جس نے اس کے دل میں خوف کی ایک لہر دوڑا دی۔ خوف جو اس کے بھیتر ہی کہیں موجود تھا گویا اس لمحے کا انتظار کررہا تھا۔

اسے محسوس ہوا جیسے وہ آنکھیں اسے دیکھ نہیں رہیں بلکہ اس کے آرپار جھانک رہی ہیں۔ اس کے وجود کی گہرائیوں تک۔ اس چھبن نے اس کو مدہوشی سے، ایک طرح کے نشے سے واپس ہوش میں لانا شروع کردیا۔

اس کے جسم میں ایک سنسنی دوڑ گئی۔ قدم لڑکھڑانے لگے۔

اچانک اس کے دل پر خوف کا ایسا شدید حملہ ہوا کہ وہ بے اختیار چیخ اٹھا۔ چیخ جس کی گونج اسے بار بار سنائی دینے لگی۔ وہ گردوپیش پر نگاہ کرنے لگا گویا اس گونج کو روکنا چاہتا ہو۔ کسی میجک بٹن کو تلاش کرنا چاہتا ہو جس کو دبا کر اس گونج کو ختم کردے۔ مگر بے بسی اور لاچاری کے سوا کچھ نہ تھا۔

اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ زمین پر ڈھیر ہو کر بے ہوش ہوگیا۔