رات کی خاموشی میں نشا بانو اپنی زندگی کے بکھرے ہوئے لمحوں کو سمیٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی اور دل میں ایک ایسا طوفان برپا تھا جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہ تھا۔ کبھی وہ اپنے ماضی کو یاد کرتی اور کبھی اپنے حال پر نظر ڈالتی۔ دونوں ہی اسے ایک بھیانک خواب کی طرح محسوس ہوتے تھے۔
ابھی اس کے نکاح کو ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ اس کے دل میں زندگی کے بارے میں کچھ نئے خواب جنم لینے لگے۔ وہ اپنے شوہر ندیم کے ساتھ ایک گھر بسا سکتی تھی، زندگی کی تلخیوں اور خوشیوں میں اس کا ساتھ دے سکتی تھی، مگر قسمت یا شاید اس کے اپنے فیصلوں نے اسے ایک دوسرے راستے پر لا کھڑا کیا۔
برجُو پاسوان کی باتوں میں اسے اپنائیت محسوس ہوئی۔ اس کے وعدے اسے سچے لگے اور اس کی باتوں میں اسے ایک نئی زندگی کی جھلک دکھائی دی۔ نشا نے بغیر زیادہ سوچے سمجھے اس پر اعتماد کر لیا۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید یہی وہ شخص ہے جو اس کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دے گا۔
وہ اپنا گھر، اپنا شوہر اور اپنا ماضی چھوڑ کر برجُو کے ساتھ چل پڑی۔
مگر وقت نے زیادہ دیر نہ لگائی۔
چند دنوں کی محبت، چند وعدے اور چند حسین خواب آہستہ آہستہ بکھرنے لگے۔ برجُو کی باتوں کا انداز بدلنے لگا۔ وہ شخص، جس کی محبت پر نشا نے اپنی پوری زندگی کا فیصلہ کر لیا تھا، اب اس سے دور ہونے لگا۔
پھر ایک دن وہ واقعی چلا گیا۔
نشا اکیلی رہ گئی۔
اس نے برجُو کے گھر والوں سے امید باندھی، مگر وہاں بھی اسے اجنبیت کے سوا کچھ نہ ملا۔ جن دروازوں کو اس نے اپنے مستقبل کا دروازہ سمجھا تھا، وہ اس کے لیے بند ہو گئے۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی بے بسی اتر آئی۔
اس نے سوچا، شاید اپنا پرانا گھر اسے قبول کر لے۔
وہ ندیم کے پاس گئی۔
دل میں ہزاروں خدشات اور امیدوں کے ساتھ۔ مگر وہاں بھی اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ندیم، جسے وہ چھوڑ کر گئی تھی، اب اسے دوبارہ اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔
اب نشا کے سامنے ایک طویل اور سنسان راستہ تھا۔
وہ تنہا تھی۔
اپنے فیصلوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی، اپنے ماضی سے نظریں چراتی ہوئی اور اپنے مستقبل سے خوف زدہ۔
ایک دن کسی نے اس سے پوچھا: "تم لوگوں کو کیا پیغام دینا چاہتی ہو؟"
نشا نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد آہستہ سے کہا: "کسی پر اندھا اعتماد مت کرنا۔ ہر خوبصورت بات سچ نہیں ہوتی اور ہر وعدہ زندگی بھر کا ساتھ نہیں دیتا۔ بعض لوگ صرف اپنے مطلب کے لیے آپ کے قریب آتے ہیں اور جب ان کا مطلب پورا ہو جاتا ہے تو آپ کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں"۔
یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
شاید اب اسے اپنی سب سے بڑی غلطی کا احساس ہو چکا تھا۔
زندگی اسے ایک سبق دے چکی تھی، ایک ایسا سبق جس کی قیمت اس نے اپنی خوشیوں، اپنے سکون اور اپنے مستقبل سے ادا کی تھی اور اس رات، جب وہ ایک بار پھر تنہا بیٹھی تھی، اس کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا: "کاش! میں نے فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار اپنے دل کے بجائے عقل کی آواز سن لی ہوتی"۔