1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. فیس بک کا عمرو عیار
Mohammad Shehzad

فیس بک کا عمرو عیار

عمرو عیار فیس بک کے جنگل کا وہ نابغہ روزگار کردار ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بیک وقت باخبر، شاطر، ذہین، حاضر جواب، مہم جو اور نہایت دوراندیش ہے۔ اس کی خوبیوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اگر اسے مکمل لکھنے بیٹھ جائیں تو فیس بک ہینگ ہو جائے گی۔

وہ بھیس بدل سکتا ہے، چال چل سکتا ہے، دھوکا دے سکتا ہے اور ایسی مشکل سے بھی نکل سکتا ہے جس میں داخل ہونے کی ضرورت بھی صرف اسے ہی محسوس ہوئی ہو۔

اس کے پاس ایک زنبيل ہے۔ اس زنبيل میں کیا کچھ بھرا ہے، یہ راز صرف عمرو جانتا ہے۔ جب بھی ضرورت پڑتی ہے، وہ اس میں ہاتھ ڈالتا ہے اور کوئی ایسی چیز نکال لاتا ہے کہ مخالفین کو شک ہونے لگتا ہے کہ چانکیہ نے مرنے سے پہلے اپنی روح اسی زنبيل میں منتقل کر دی تھی۔

عمرو عیار دشمنوں کے گھروں میں بھیس بدل کر داخل ہونے کا ماہر ہے حالانکہ دشمنوں نے اسے پہلے ہی بلاک کر رکھا ہے۔ مگر عمرو کے لیے بلاک ہونا کوئی رکاوٹ نہیں، بلکہ شاید ایک دعوت نامہ ہے۔ وہ بلاک کی دیوار کے دوسری طرف بھی ایسے پہنچ جاتا ہے جیسے فیس بک کا الگورتھم خود اسے اندر بلا رہا ہو۔ دشمن جتنی بار راستہ بند کرتے ہیں، عمرو اتنی ہی بار کوئی نیا دروازہ تلاش کر لیتا ہے۔

وہ صرف طاقت پر بھروسا نہیں کرتا۔ اس کے ہتھیار عقل، تدبیر، مکاری، حاضر جوابی اور موقع محل کے مطابق معنی بدلنے کی غیر معمولی صلاحیت ہیں۔ جہاں دلیل کام نہ کرے وہاں چال، جہاں چال نہ چلے وہاں طنز اور جہاں طنز بھی جواب نہ دے وہاں ایک ایسی پوسٹ حاضر کر دیتا ہے جس کے نیچے تبصرے شروع ہوتے ہی دشمن کی آدھی فوج آپس میں دست و گریباں ہو جاتی ہے۔

میں اسی جنگل کا بہت پرانا باسی ہوں۔ اتنا پرانا کہ جب یہ جنگل آباد ہونا شروع ہوا تھا تو میں یہاں پہلے ہی اپنی جھونپڑی بنا چکا تھا۔ یوں سمجھیے کہ بانیوں میں میرا نام بھی آتا ہے، اگرچہ تاریخ نے ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی زحمت نہیں کی۔ دہائیوں تک مجھے عمرو عیار کے وجود کا علم تک نہ ہوا، حالانکہ میرا شمار بھی جنگل کے ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ہر چیز سے باخبر ہوتے ہیں۔

پھر کچھ ایسے حالات اور واقعات پیش آئے کہ اچانک عمرو عیار میرے ریڈار پر نمودار ہوگیا۔ میں نے اس کی جنم کنڈلی نکلوائی اور بڑی احتیاط سے اس کا مطالعہ کیا۔ ابتدا میں مجھے شبہ ہوا کہ کہیں یہ شخص خود ہمارے جنگل کے لیے خطرہ تو نہیں۔ آخر اتنی عیاری، اتنی مکاری اور اتنی سرگرمی بلاوجہ تو نہیں ہو سکتی۔

لیکن جب جنم کنڈلی کا بغور مطالعہ کیا تو معاملہ بالکل الٹ نکلا۔ معلوم ہوا کہ اس کی ہر چال، ہر عیاری، ہر مکاری اور ہر چھاپہ جنگل اور اس کے معصوم باسیوں کے تحفظ کے لیے ہے۔ یعنی آدمی بظاہر جتنا خطرناک دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی خدمت گزار ہے۔ فیس بک پر ایسی نیک نیتی روز روز دیکھنے کو نہیں ملتی۔

عمرو ہر لمحے جنگل میں شرپسند عناصر کی سرکوبی کے لیے کمر بستہ رہتا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی دشمن تلاش کرتا ہے، دن میں ان کی پوسٹیں تلاش کرتا ہے اور رات کو غالباً ان کے تبصرے تلاش کرتا ہے۔ اگر کسی دن کوئی دشمن نہ ملے تو شاید اسے اپنے مشن کی تکمیل میں کمی محسوس ہونے لگتی ہو۔

بدقسمتی سے اس جنگل میں بہت سے خارجی مختلف بھیس بدل کر اپنا جال کامیابی سے بچھا چکے ہیں۔ کوئی دانشور کے بھیس میں ہے، کوئی فیمی نسٹ کے، کوئی لبرل کے، کوئی ملحد کے۔

کوئی سول سوسائٹی کا چاچا ماما ہے، کوئی نقاد ہے، کوئی محقق ہے اور کوئی محض فیس بک صارف کے بھیس میں۔ ایسے نازک حالات میں عمرو عیار تن تنہا ان کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف ہے۔ اس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ دشمنوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ زنبيل کا حجم وہی ہے۔ مگر عمرو بھی ہار ماننے والوں میں سے نہیں۔ آخر وہ عمرو عیار ہے، فیس بک کا عیار۔

کچھ عمرو کے کارناموں کا ذکر بھی ہو جائے:

جنگل میں ایک عمر رسیدہ دائی رہتی ہے۔ بڑی شاطر، چتر اور گھاگ عورت ہے۔ عمر اگرچہ اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں عام آدمی لاٹھی کے بغیر دو قدم چلنے سے پہلے سوچتا ہے، مگر دائی کی سرگرمیاں آج بھی ایسی ہیں کہ بڈھی گھوڑی، لال لگام یاد آ جائے۔

جنگل کی معصوم اور بھولی بھالی الہڑ دوشیزاؤں کو وہ آئے دن ان کے باپ اور بھائیوں کے خلاف بھڑکاتی رہتی ہے۔ کہتی ہے کہ تمہارے باپ اور بھائی تمہیں بیٹی یا بہن نہیں، بندریا سمجھتے ہیں اور خود مداری بن کر تمہارا تماشا دکھاتے ہیں۔

عمرو نے ایک دن نہ جانے کہاں سے دائی اماں کی ایک پرانی ویڈیو ڈھونڈ نکالی اور جنگل میں لیک کر دی۔ ویڈیو میں دائی کے والد انہیں دلہن کا لباس پہنا کر، سرخی پاؤڈر لگا کر فٹ پاتھ پر نچوا رہے تھے اور تماشائی حسبِ توفیق ویلیں دے رہے تھے۔

ویڈیو جنگل میں پہنچی تو دائی کے دعووں کی قلعی بھی کھل گئی اور غصے کا پارہ بھی چڑھ گیا۔ مگر عمرو تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ چنانچہ جو آخری اور آزمودہ ہتھیار باقی بچا تھا، وہ استعمال کیا گیا، عمرو کو بلاک کر دیا گیا۔ عمرو آج بھی بھیس بدل کر دائی کے اکاؤنٹ میں نقب لگاتا ہے اور اس کی ہر حرکت پر نظر رکھتا ہے۔

جنگل میں ایک دولے شاہ کی چوہیا بھی ہے، جس کا نام چُوسباح چُسنی ہے۔ یہ چوہیا مزار مزار کے متولیوں کا دودھ چوس چوس کر آخرکار مجاورن بن گئی۔ متولیوں نے جب دیکھا کہ چوہیا اب دودھ کے ساتھ "عقل" بھی چوسنے لگی ہے تو اسے پاگل خانے میں داخل کرا دیا۔ وہاں اتفاق سے چند سائنس دان اور بے وزن و بے بحر شاعر بھی بطور سزا مقیم تھے۔ چُوسباح ان کی صحبت میں رہ کر سائینسدان، دانشور، فلسفی، شاعرہ، فیمی نسٹ اور نہ جانے کیا کیا بن گئی۔

اب حال یہ ہے کہ جس شعر میں وزن نہ ہو، بحر نہ ہو اور مفہوم کا دور دور تک پتا نہ ہو، چُوسباح اسے جدید شاعری قرار دے کر پیش کر دیتی ہے۔

ایک دن چُوسنی پاگل خانے سے فرار ہوگئی اور سیدھی فیس بک پر جا پہنچی۔ یہاں اس نے شاعری شروع کر دی۔ ایک روز وہ ایک مشاعرے میں اپنا تازہ کلام سنا رہی تھی کہ اچانک عمرو نے اس کے سامنے دودھ کی بوتل رکھ دی۔ چُوسباح نے شعر ادھورا چھوڑا، مائیک کو الوداع کہا اور پوری توجہ بوتل پر مرکوز کر دی۔ وہیں بوتل میں پوری گھس چُسر چُسر دودھ پینے لگی۔ سامعین پہلے سمجھے یہ کوئی نیا شعری تجربہ ہے، پھر حقیقت سمجھ آئی تو ہنس ہنس کر بے حال ہو گئے۔

عمرو نے بھی دیر نہ کی، پوری کارروائی کی مخبری مزار کے متولیوں تک پہنچا دی۔ متولی آئے، جال ڈالا اور چُوسنی کو دوبارہ وہیں لے گئے جہاں سے وہ علمی، ادبی، فلسفیانہ اور فیمینسٹانہ سفر شروع کرکے نکلی تھی۔

چُسباح چوسنی نے بھی عمرو کو بلاک کر رکھا ہے، مگر الزام یہ ہے کہ عمرو ٹھرکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چوسنی میں ایسی کوئی نمایاں خوبی دکھائی نہیں دیتی جس پر کسی کی نظر ایک لمحے کے لیے بھی ٹھہر سکے۔ عمرو شاید خوبی تلاش کرتے کرتے تھک گیا ہوگا، مگر چوسنی نے اسے بھی ٹھرکی قرار دے کر بلاک کر دیا۔

جنگل میں ایک بابا جی بھی ہیں۔ دائی اماں کے عاشق ہیں اور دائی اماں ان پر فریفتہ۔ بابا جی کا دعویٰ ہے کہ وہ جنگل میں بولے جانے والی ہر مخلوق کی زبان سمجھتے ہیں۔ انہوں نے برسوں کی تحقیق کے بعد ہر بولی کا ترجمہ کیا، ایک موٹی سی کتاب چھاپی اور پھر اس پر ایک شعر بھی داغ دیا:

میں نے دے دیا ہے جنگل کو وہ سب کچھ
جو دے نہ سکا آج تلک کوئی اور

شعر چھپا تو عمرو نے باباجی اور دائی کی خفیہ شادی کی تصاویر لیک کر دیں۔ بابا جی کو خبر ہوئی تو وہ آپے سے باہر ہو گئے اور عمرو کو برا بھلا کہنے لگے۔ مگر عمرو عیار تھا، بحث میں پڑنے کے بجائے ایک رات بابا جی کے گھر نقب لگائی، کتاب اٹھائی اور اگلے ہی دن کتاب سے شادی کر لی۔ یوں بابا جی کی وہ عزت جو برسوں کی تحقیق سے بنی تھی، عمرو نے سرعام نیلام کر دی۔ شنید ہے عمرو کی ڈھیر ساری بیویاں ہیں جو اس کے کوہ قاف والے حرم میں رہتی ہیں۔

جنگل میں ایک ادھیڑ عمر کی عقابنی بھی ہے۔ کبھی زمانے میں شاید کچھ حسن رہا ہو، مگر اب سفید بال ایسے جھڑ رہے ہیں کہ دور سے دیکھیں تو بالڈ ایگل کی یاد آتی ہے۔ اسے دودھ پتی کا بے حد شوق ہے۔ لوگ اسے دودھ پتی والی ماسی بھی کہتے ہیں۔ دودھ پتی پیتے ہی اس پر فیمینزم کی وحی اترتی ہے اور وہ ہر مرد کو فرعون اور ہر عورت کو مظلوم سمجھنے لگتی ہے۔

ایک دن عمرو نے اس کی دودھ پتی میں جمال گھوٹا ملا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عقابنی خاصے عرصے تک فیس بک سے غائب رہی اور جنگل نے سکھ کا سانس لیا۔ آج کل فیمینزم کی وحی اس پر کم ہی اترتی ہے۔ شاید دودھ پتی مہنگی ہوگئی ہے، یا پھر پٹرول اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ وحی بھی آنے جانے کا کرایہ مانگتی ہے۔

ویسے تو عمرو کا پورا حرم آباد ہے، مگر مشہور اس نے یہی کر رکھا ہے کہ وہ کنوارا ہے۔ جنگل میں بہت سوں کو اس بات کی فکر رہتی ہے کہ آخر عمرو شادی کیوں نہیں کرتا۔ آخرکار کسی نے یہ سوال براہ راست اس سے کر ہی دیا۔ عمرو نے ایک ہی جملے میں جواب دے دیا، بھئی اگر آپ کی کوئی بہن یا بیٹی کنواری ہے تو مجھے پیش کرو، پسند آئی تو شادی کر لوں گا۔

یہ سنتے ہی جنگل کے شرفا سیخ پا ہو گئے۔ کسی نے اسے بے باک کہا، کسی نے بے حیا اور کسی نے اخلاقیات کا پورا لیکچر دے ڈالا۔ عمرو نے بڑے اطمینان سے کہا، بھائی، ہر ذمہ دار باپ یا بھائی اپنی بہن یا بیٹی کے لیے اچھے رشتے کی تلاش میں رہتا ہے۔ میں نے صرف یہ کہا ہے کہ اگر مجھے کوئی پسند آ گئی تو میں بھی رشتہ لے کر حاضر ہو جاؤں گا۔ اس وضاحت کے بعد شرفا کی زبانوں پر ایسے تالے پڑے کہ چابیاں آج تک نہیں ملیں۔

لیکن ایک دن عمرو عیار اچانک غائب ہوگیا۔ نہ فیس بک پر نشان، نہ کسی پوسٹ میں ذکر، نہ کسی دشمن کو بلاک کرنے کی خبر۔ برسوں اس کا اتا پتا نہ ملا۔ جنگل میں طرح طرح کی افواہیں گردش کرتی رہیں۔ کوئی کہتا تھا زنبيل سمیت روپوش ہوگیا، کوئی کہتا تھا کسی نئے مشن پر ہے۔

آخر شنید ہوئی کہ عمرو نے اپنا حرم چھوڑ کر کسی نیک دل خاتون سے شادی کر لی ہے۔ اس خبر پر جنگل میں اتنی حیرت ہوئی جتنی کسی عیار کے اچانک شریف نکل آنے پر ہونی چاہیے۔ سنا ہے خاتون نے حق مہر میں نہ زمین مانگی، نہ جائیداد، نہ سونا، بلکہ سیدھی سادی عمرو کی زنبیل لکھوا لی۔

یوں عمرو پہلی مرتبہ اپنی زندگی میں کسی کے ہاتھوں عیاری سے مات کھا گیا۔ زنبيل جو برسوں دشمنوں کے لیے خوف کی علامت بنی رہی، آخرکار ایک نیک دل خاتون کے حق مہر میں چلی گئی۔