عجیب شخص تھا، خود سے مکر گیا ہے وہ
مری حیات میں کچھ یوں اتر گیا ہے وہ
اب اس کی یاد بھی آئے تو وحشتیں ہوں گی
کہ دل کی بزم سے کب کا گزر گیا ہے وہ
میں اس کے ہجر میں جیتی رہی، یہ حیرت ہے
میں سوچتی تھی کہ بس اب تو مر گیا ہے وہ
کھلا یہ راز کہ ہم بھی تھے اک تماشہ بس
ہمارے ساتھ ہی خود سے مکر گیا ہے وہ
اب اس گلی میں تو رونق نہیں رہی کوئی
جو اس دیار کا مرکز تھا، گھر گیا ہے وہ
کرن وہ بزمِ تمنا کا آخری شاعر
اداس کرکے ہمیں، خاک پر گیا ہے وہ