اپنی دھڑکن کو ترے عشق کا دم ساز کریں
ہم محبت کو کوئی تازہ سا انداز کریں
ہم سے کہتا ہے کہ بھولو اسے، بھولیں کیسے
دل کو اس درد کے انداز سے ہمراز کریں
اس کے ہر ظلم کو تقدیر سمجھ کر سہہ لیں
اپنی قسمت پہ نہ اب کوئی نیا راز کریں
وہ اگر ہم سے خفا ہے تو خفا رہنے دیں
ہم نہ اصرار کریں اور نہ کچھ ناز کریں
یاد آئے بھی تو چپ چاپ اسے یاد کریں
اپنے ہونٹوں پہ نہ اس نام کو آواز کریں
دل یہ کہتا ہے کہ اس شخص سے رشتہ توڑیں
پھر یہ کہتا ہے کہ پھر اس پہ ہی آغاز کریں
اب کرنؔ عشق کی رسوائی بھی منظور، مگر
اپنے احساس کو کس طرح بے آواز کریں