1. ہوم
  2. غزل
  3. کرن ہاشمی
  4. اپنی دھڑکن کو ترے عشق کا دم ساز کریں
Kiran Hashmi

اپنی دھڑکن کو ترے عشق کا دم ساز کریں

اپنی دھڑکن کو ترے عشق کا دم ساز کریں
ہم محبت کو کوئی تازہ سا انداز کریں

ہم سے کہتا ہے کہ بھولو اسے، بھولیں کیسے
دل کو اس درد کے انداز سے ہمراز کریں

اس کے ہر ظلم کو تقدیر سمجھ کر سہہ لیں
اپنی قسمت پہ نہ اب کوئی نیا راز کریں

وہ اگر ہم سے خفا ہے تو خفا رہنے دیں
ہم نہ اصرار کریں اور نہ کچھ ناز کریں

یاد آئے بھی تو چپ چاپ اسے یاد کریں
اپنے ہونٹوں پہ نہ اس نام کو آواز کریں

دل یہ کہتا ہے کہ اس شخص سے رشتہ توڑیں
پھر یہ کہتا ہے کہ پھر اس پہ ہی آغاز کریں

اب کرنؔ عشق کی رسوائی بھی منظور، مگر
اپنے احساس کو کس طرح بے آواز کریں