تری چاہت مرے دل کے لیے اک ذات رہتی ہے
فراقِ ہجر میں بھی اب طلب دن رات رہتی ہے
کبھی آنکھوں میں ٹھہری ہے نمی بن کر تری صورت
کبھی دل میں تری آواز کی برسات رہتی ہے
ترے جانے سے ویراں سی ہوئی دل کی فضا لیکن
تری یادوں سے اس ویران دل کی بات رہتی ہے
محبت کے سمندر میں کئی طوفاں سے گزرے ہیں
مگر ساحل پہ پھر بھی آس کی بارات رہتی ہے
تری یادوں کے جگنو آئینوں میں ناچتے ہیں پھر
مرے دل میں تری یادوں بھری سوغات رہتی ہے
کوئی آئینہ بھی دیکھے تو عکسِ دوست بن جائے
ہمارے روبرو اب حسرتِ اثبات رہتی ہے