1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد شہزاد
  4. مٹھاس کا وعدہ، کڑوی حقیقت
Mohammad Shehzad

مٹھاس کا وعدہ، کڑوی حقیقت

صفدر زیدی کا ناول "چینی جو میٹھی نہ تھی" بظاہر اس کے مرکزی کردار "راج" کے ڈراونے خوابوں کی کہانی ہے جو آگے جا کر ایک بڑے تاریخی اور سماجی منظر نامے میں بدل جاتی ہے جس کا موضوع ذات پات، توہم پرستی، غربت، قرض، نوآبادیاتی ظلم، مزدوروں کی خرید و فروخت اور ان کا استحصال ہے۔

کہانی کا آغاز راج اور لکشمی کی زندگی سے ہوتا ہے۔ دونوں میاں بیوی ہیں۔ راج کو بار بار ایک ہی خواب آتا ہے کہ کوئی اسے کوڑے مار رہا ہے۔ یہ خوف صرف خواب تک محدود نہیں رہتا۔ جاگتے ہوئے بھی جب اسے کہیں کوڑا یا چابک دکھائی دیتا ہے تو وہ اپنا توازن کھو دیتا ہے اور اس شخص پر حملہ کر دیتا ہے۔ سیکس شو میں کوڑے برسانے والی لڑکی پر حملہ اور بھارتی سفیر کی بگھی کے ساتھ چلنے والے گھڑسوار کو چابک سمیت دیکھ کر اس پر حملہ، راج کی اس کیفیت کو واضح کرتے ہیں۔

یہاں چابک ایک اہم علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ شروع میں یہ راج کے ایک عجیب خوف کی نشانی معلوم ہوتا ہے، لیکن بعد میں پتا چلتا ہے کہ اس خوف کے پیچھے ایک پرانا تجربہ موجود ہے۔ یوں چابک کہانی کے موجودہ اور ماضی کے حصوں کو آپس میں جوڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

راج کی ماں ضعیف العقیدہ ہے۔ بیٹے کے خوابوں کا علاج کرانے کے لیے وہ پنڈت ہری رام کو گھر لے آتی ہے۔ پنڈت ہری رام مذہبی پیشوا سے زیادہ مذہب کو کاروبار بنانے والا شخص دکھائی دیتا ہے۔ وہ بیرون ملک ہندوؤں کو ہندوستان کے مذہبی مقامات کی سیر کراتا ہے، جبکہ اس کے ہندوستانی چیلے اس کی غیر موجودگی کو تپسیا کا رنگ دیتے ہیں۔

پنڈت ہری رام، راج کی ماں سے پیسے لیتا ہے اور گنگا کا پانی دے کر یقین دلاتا ہے کہ اسے پلانے سے راج کے خواب بند ہو جائیں گے۔ طنز صرف پنڈت ہری رام پر نہیں بلکہ اس سوچ پر بھی ہے جو ہر مسئلے کا حل کسی مذہبی شخصیت یا غیر سائنسی عمل میں تلاش کرتی ہے۔

بعد میں راج ایک روحانی ڈاکٹر تک پہنچتا ہے اور کہانی اسے پچھلے جنم کی طرف لے جاتی ہے۔ یہی مقام ناول میں ایک موڑ پیدا کرتا ہے۔ اب راج کے خواب کا تعلق ایک ایسے ماضی سے سامنے آتا ہے جو نوآبادیاتی دور کے ہندوستان سے شروع ہو کر ہالینڈ تک پھیلتا ہے۔

غلامی کے خاتمے کے بعد ہالینڈ کو ہندوستان سے مزدور درکار ہوتے ہیں۔ پیٹر اور جیمز اس نظام کے نمائندہ کردار ہیں، جبکہ رام لال مزدور بھرتی کرنے والے دلال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ غریب لوگوں کو بہتر زندگی کے خواب دکھا کر ہالینڈ جانے پر آمادہ کرتا ہے۔

راج کا خاندان بھی قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ مقامی لالہ سود کے نام پر ان کے وسائل ہڑپ کرتا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ راج کی بہن پر اس کی بری نظر معاشی طاقت کو جنسی طاقت سے بھی جوڑ دیتی ہے۔ جس شخص کے پاس پیسہ اور اختیار ہو، وہ کمزور لوگوں کی دوسری مجبوریوں سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

راج کا نانا بھی نوآبادیاتی اقتدار کا نشانہ بنتا ہے۔ اس کی فیکٹری پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور اسے غداری کے جھوٹے الزام میں پھانسی دے دی جاتی ہے۔

راج اپنے گاؤں کے مکھیا کے خلاف لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف رام لال انہیں ہالینڈ لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایک طرف شعور پیدا کرنے کی کوشش ہے اور دوسری طرف غربت سے فائدہ اٹھانے والا نظام دکھایا جا رہا ہے۔

مزدوروں کے ساتھ ہونے والے ظلم کی شدت راج کے دوست رمضان کے واقعے سے ظاہر ہوتی ہے۔ ہندوستان سے ہالینڈ کے سمندری سفر میں رمضان بیماری کے باعث کام کے قابل نہیں رہتا تو اسے علاج یا آرام دینے کے بجائے مردہ قرار دے کر سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ راج جب اس پر احتجاج کرتا ہے تو اسے مارا پیٹا جاتا ہے۔

ہالینڈ پہنچنے کے بعد راج کھیتوں میں کام کرتا ہے اور لکشمی ایک زمیندار کے گھر کام کرتی ہے۔ وہاں بھی حالات بہتر نہیں ہوتے۔ معاہدے کے مطابق مزدوری نہیں دی جاتی اور دوسرے مزدور بھی اسی ناانصافی کا شکار ہوتے ہیں۔ زمیندار کی نظر لکشمی پر ہے۔ راج احتجاج کرتا ہے اور زمیندار اسے چابک سے پٹواتا ہے۔

یہ واقعہ راج کے ابتدائی خواب کو ایک نئی معنویت دیتا ہے۔ جس چابک سے وہ موجودہ زندگی میں خوف زدہ ہوتا ہے، وہی چابک اس کے ماضی کے ظلم سے جڑ جاتا ہے۔ یوں خواب ماضی کے تشدد کی ایک ایسی یاد بن جاتا ہے جو حال میں بھی راج کا پیچھا کر رہی ہے۔

صفدر زیدی کے اس ناول کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کہانی کی کڑی سے کڑی ملتی نظر نہیں آتی۔ کہانی میں جھول ہے۔ ایک منظر سے دوسرے منظر میں ڈھلتے ہوئے کہانی بےربط ہو جاتی ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ اس کا موضوع ہے۔ پچھلے جنم پر بالی ووڈ تھوک کے حساب سے فلمیں بنا چکا ہے جن میں بہت سے ناکام ہوئیں۔ یہ ناول بھی اسی موضوع پر ایک فلمی سکرپٹ محسوس ہوتا ہے۔ دراصل یہ شروع میں ایک ڈرامہ تھا جسے صفدر زیدی نے ناول میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ مجھے ڈرامہ پڑھنے کا موقع بھی ملا۔ لیکن ناول نے مجھے زیادہ متاثر نہ کیا۔

لیکن صفدر زیدی کے اسلوب کو سراہنا پڑے گا۔ اس ناول کے ذریعے انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ تاریخی، علامتی اور گوتھک خوف کی فضا رکھنے والا ناول بھی کامیابی سے لکھ سکتے ہیں۔

ناشر: فکشن ہاؤس لاہور
تاریخ اشاعت: 2024