1. ہوم
  2. کالمز
  3. سعدیہ بشیر
  4. پاؤں رکتے نہیں زمانے کے
Saadia Bashir

پاؤں رکتے نہیں زمانے کے

"میرے پاس وقت ہی نہیں ہے"۔ یہ جملہ شاید آج کے انسان کا سب سے عام جملہ ہے۔ منیر نیازی کے الفاظ میں:

وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیر
آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

ہم یہ جملہ دفتر، گھر، دوستوں کے درمیان اور کبھی کبھی اپنے بچوں سے بھی کہتے ہیں۔ ہمیں وقت نہیں ملتا کتاب پڑھنے کا، کسی دوست کو فون کرنے کا، والدین کے پاس بیٹھنے کا، اپنے بچوں کی بات سننے کا، حتیٰ کہ کچھ دیر خاموش بیٹھنے کا بھی، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل فون بتاتا ہے کہ ہم دن میں کئی گھنٹے اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔ کبھی ایک زمانہ تھا جب کسی کے گھر فون آتا تو پورا گھر اس آواز کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ خط ملتا تو پورا دھیان اس سے منسلک رہتا۔ اخبار پڑھنے بیٹھتے تو اخبار ہی پڑھا جاتا۔ کتاب ہاتھ میں ہوتی تو دنیا کچھ دیر کے لیے باہر رہ جاتی۔ اب دنیا ہماری جیب میں ہے۔

اور شاید یہی ہماری مشکل بھی ہے۔ ہم بیک وقت کئی جگہ موجود رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دفتر میں بیٹھے گھر کے پیغامات دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ گھر میں بیٹھے دفتر کی ای میل کا جواب دے رہے ہوتے ہیں۔ دوست کے ساتھ چائے پیتے ہوئے موبائل پر کسی اور شخص سے بات کر رہے ہوتے ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے notification دیکھ لیتے ہیں اور پھر دوبارہ کتاب کی طرف آتے آتے معلوم نہیں کتنی دیر گزر جاتی ہے۔ ہم مصروف بہت ہیں، مگر حاضر کم ہیں۔ یہ فرق معمولی نہیں۔ کسی انسان کو اپنا وقت دینا اور اپنی توجہ دینا دو الگ چیزیں ہیں۔ آپ کسی کے پاس ایک پہر بیٹھ سکتے ہیں، مگر اگر آپ کی نظریں مسلسل فون کی اسکرین پر ہوں تو آپ نے اسے اپنی موجودگی کا صرف ایک خول دیا ہے۔ اپنی توجہ نہیں۔

شاید اسی لیے آج کے دور میں تنہائی کا ایک عجیب سا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے پہلے سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔ مگر ایک دوسرے کے لیے پہلے سے کم دستیاب ہیں۔ ہمیں ہر خبر فوراً چاہیے۔ ہر پیغام کا جواب فوراً چاہیے۔ ہر تصویر پر ردعمل چاہیے۔ ہر واقعے پر رائے دینی ہے۔ ہر خاموشی کو کسی نہ کسی آواز سے بھرنا ہے اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ذہن تھک کیوں گیا ہے۔

اصل میں ہمارا ذہن صرف کام سے نہیں تھکتا۔ مسلسل توجہ بدلنے سے بھی تھکتا ہے۔ ہم نے اپنے دن کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ چند منٹ ادھر، چند منٹ ادھر۔ ایک کام شروع کیا، درمیان میں دوسرا کام آ گیا۔ دوسرا مکمل ہونے سے پہلے تیسرا سامنے آ گیا۔ دن ختم ہوتا ہے تو ہمارے پاس تھکن تو ہوتی ہے مگر اطمینان نہیں۔ کیونکہ تھکن ہمیشہ کام زیادہ کرنے سے نہیں آتی۔ کبھی کبھی کاموں کے درمیان مسلسل بھٹکتے رہنے سے بھی آتی ہے۔

شاید ہمیں اپنے وقت کا حساب رکھنے سے پہلے اپنی توجہ کا حساب رکھنا چاہیے۔ دن میں کچھ وقت ایسا بھی ہونا چاہیے جب فون خاموش ہو۔ جب کوئی notification ہمیں نہ بلائے۔ جب ہم کسی کتاب کے ایک صفحے کو بغیر رکے پڑھ سکیں۔ جب والدین کے پاس بیٹھیں تو صرف ان کی بات سنیں۔ جب بچوں کے ساتھ ہوں تو واقعی بچوں کے ساتھ ہوں۔ جب دوست سامنے بیٹھا ہو تو اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کریں اور سب سے بڑھ کر، کبھی کبھی اپنے ساتھ بھی بیٹھیں۔ خاموشی سے۔ بغیر کسی اسکرین کے۔ بغیر کسی notification کے۔

ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے
پڑے ہیں ڈھیر سارے کام اور مہلت ذرا سی ہے

(خورشید طلب)

ہم وقت کو ہمیشہ ایک ایسی چیز سمجھتے رہے جسے بچانا، بانٹنا اور زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا ہے۔ مگر وقت ایسی چیز نہیں جسے صرف گزارا جائے۔ اسے محسوس بھی کیا جانا چاہیے۔ ہم نے زندگی کے بہت سے خوب صورت لمحوں کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش میں انہیں جینا بھلا دیا ہے۔ کسی منظر کو دیکھنے سے پہلے اس کی تصویر لینے کی فکر، کسی خوشی کو محسوس کرنے سے پہلے اسے دوسروں تک پہنچانے کی خواہش اور کسی یاد کو دل میں اتارنے سے پہلے اسے اسکرین پر محفوظ کر لینے کی جلدی۔

یوں کبھی کبھی ہم لمحوں کو جیتے کم اور ان کی تصویریں زیادہ بناتے ہیں۔ ورنہ ممکن ہے ایک دن ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں اور پائیں کہ زندگی میں کمی وقت کی نہیں تھی، کمی ان لمحوں کی تھی جن میں ہم واقعی بیدار، متوجہ اور اپنے آپ سے جڑے ہوئے تھے۔ شاید ہماری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی ہے۔ وقت کم نہیں ہوا۔ ہم اس میں ٹھہرنا بھول گئے ہیں۔ پاؤں رکتے نہیں زمانے کے، دن گزرتے رہتے ہیں اور لمحے ہاتھ سے نکلتے جاتے ہیں۔ شاید جینا وقت کو روکنا نہیں، بلکہ اس کے گزرتے ہوئے لمحوں میں خود کو پوری طرح موجود رکھنا ہے۔