1. ہوم
  2. کالمز
  3. سعدیہ بشیر
  4. دال کالی، منہ لال
Saadia Bashir

دال کالی، منہ لال

ہمارے ہاں انصاف کا ایک نیا اور آسان نسخہ دریافت ہوا ہے۔ کوئی غلطی کرے تو اس کا منہ لال کر دو۔ گویا اخلاقی تربیت کا مسئلہ نہیں، رنگ و روغن کا معاملہ ہے۔ شاید دیانت داری اسی سرخی کے نیچے سے برآمد ہو جائے۔ سنا ہے کہ اب کسی کے کردار یا اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنی ہوں تو شاید یہی پوچھا جائے گا کہ اس کا منہ لال ہے یا پیلا۔ بعید نہیں کہ مستقبل میں سزاؤں کی ایسی نئی اقسام بھی متعارف ہو جائیں جن سے معاشرے میں رنگوں کی بہار آ جائے۔ بس فرق اتنا ہوگا کہ کردار سنوارنے کے بجائے چہرے رنگنے پر اکتفا کیا جائے گا۔ بمطابق راغب بدایونی تھوڑی تحریف کے ساتھ۔۔

جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گا
رنگ کے اڑنے سے"جرم" اس پر عیاں ہو جائے گا

ذرا اس منطق کو آگے بڑھائیے۔ اگر ہر جرم کا جواب تھپڑ ہے تو تھپڑ کا جواب کیا ہوگا؟ مزید تھپڑ؟ اگر ہر غلطی کا علاج جسمانی سزا ہے تو پھر عدالتیں، قانون، اصلاح اور تربیت کے ادارے کس مرض کی دوا ہیں؟ کیوں نہ ہر محلے میں تھپڑوں کی عدالت قائم کر دی جائے، جہاں جرم ثابت ہونے سے پہلے سزا اور انصاف سے پہلے انتقام مل جائے اور لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر"لال اے، لال اے" کی صدائیں لگاتے پھریں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک غلطی دوسری غلطی کا جواز کیسے بن سکتی ہے؟ اور منہ لال کرنا ہی اگر اصلاح ہے تو پھر ان لوگوں کے لیے یہ نسخہ کہاں غائب ہو جاتا ہے جن کے ہاتھوں جسمانی و جذباتی استحصال جاری رہتا ہے اور جن کے اختیارات دوسروں کی زندگیاں برباد کر دیتے ہیں۔

کیا منہ صرف اسی وقت لال ہوتا ہے جب سامنے کوئی کمزور ہو، جس کے پاس نہ وکیل ہو، نہ اختیار اور نہ اپنے دفاع کی طاقت؟ سرِعام ایک لڑکی کو سکوٹی سے گرا کر مارنا بھی یہی سوال اٹھاتا ہے کہ طاقتور کے لیے قانون کتنی تیزی سے حرکت میں آتا ہے اور کمزور کے لیے کتنی دیر تک اپنی فائلیں ترتیب دیتا رہتا ہے۔ کسی ملزم کو اگلے ہی دن ضمانت مل جائے تو قانونی طور پر ضمانت کا اپنا دائرہ کار ضرور ہے۔ مگر معاشرتی سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔ کیا قانون کی رفتار سب کیلئے یکساں ہے؟ جب طاقتور کو رعایت ملتی ہے تو رفتہ رفتہ وہ اسے اپنا حق سمجھنے لگتا ہے، جبکہ کمزور اپنی بے بسی کو قسمت مان لیتا ہے۔ یوں قانون کی جگہ تعلقات، انصاف کی جگہ اثر و رسوخ اور دلیل کی جگہ دھونس لے لیتی ہے۔ معاشرہ یہ سیکھنے لگتا ہے کہ درست ہونے سے زیادہ ضروری طاقتور ہونا ہے۔

لیکن طاقت کا سب سے بڑا فریب یہی ہے کہ وہ خود کو دائمی سمجھتی ہے۔ آج جو کسی کمزور کو تھپڑ مار کر اپنا رعب قائم کر رہا ہے، کل اسے اپنے سے زیادہ طاقتور کے سامنے کھڑا ہونا پڑ سکتا ہے۔ پھر تھپڑ کے جواب میں تھپڑ، دھمکی کے جواب میں دھمکی اور انتقام کے جواب میں انتقام ہوگا۔ اس دوڑ کی کوئی آخری منزل نہیں۔ بالآخر طاقت سب کو ایک دوسرے کا حریف بنا دیتی ہے۔ یہی انتقامی ذہنیت ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی دکھائی دیتی ہے۔

مدرسے میں استاد بچے پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ سکول میں اختیار کا ناجائز استعمال ہوتا ہے اور یونیورسٹی میں طالب علم کے نمبر، تحقیقی مقالے اور مستقبل کو ذاتی پسند و ناپسند کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ یہاں تشدد صرف ہاتھ اٹھانے کا نام نہیں۔ اختیار کا ناجائز استعمال بھی اسی کی ایک شکل ہے۔ اس کا جواب تھپڑ نہیں، شفاف طریقہ کار اور مؤثر احتساب ہے۔ بعض جامعات میں تو استاد کی سہولت کے لئے ایک ہی دن میں ایک مضمون کی چار چار کلاسیں رکھ دی جاتی ہیں۔ جواز پیٹرول مہنگا ہے مگر طالب علم کا وقت اور مستقبل بھی بے قیمت نہیں۔

استاد کی مجبوری کا حل ایسا انتظام ہونا چاہیے جو تدریسی معیار اور طلبہ کی سہولت دونوں کا خیال رکھے۔ چار کلاسیں ایک دن میں سمیٹ دینے سے چار دن کی تعلیم ایک دن میں منتقل نہیں ہو جاتی۔ اکثر صرف تھکن اور نصاب مکمل کرنے کی رسمی کارروائی باقی رہ جاتی ہے۔ یہ تمام مثالیں ایک ہی سوال اٹھاتی ہیں۔ اختیار کس لئے ہے؟ بچے کو مارنے، طالب علم کا مستقبل خراب کرنے اور اپنے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے یا اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے؟ انصاف اور انتقام میں بنیادی فرق یہی ہے کہ انصاف اصول، شواہد، تناسب اور جواب دہی کے تابع ہوتا ہے۔ جبکہ انتقام غصے اور دوسرے کو تکلیف پہنچانے کی خواہش سے جنم لیتا ہے۔

معافی اور درگزر کا مطلب یہ نہیں کہ ظالم کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بچے کی چوری نظرانداز کر دی جائے یا ناانصافی کرنے والے استاد کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ درگزر تبھی اخلاقی قدر ہے جب احتساب کا امکان بھی موجود ہو۔ ورنہ طاقتور کو معافی اور کمزور کو صبر کا سبق دینا بھی ناانصافی ہی ہے۔

ہمیں نہ تشدد کا دفاع کرنا ہے، نہ چوری کا، نہ اختیارات کے غلط استعمال کا اور نہ تعلیمی اداروں کی بے حسی کا۔ ہمیں صرف یہ طے کرنا ہے کہ معاشرہ قانون سے چلے گا یا تھپڑ سے، اصول سے یا طاقت سے، اصلاح سے یا انتقام سے۔ ورنہ سب کے پاس اپنی اپنی طاقت، اپنے اپنے جواز اور اپنے اپنے تھپڑ ہوں گے، مگر انصاف کسی کے پاس نہیں ہوگا۔ سو، پہلے یہ طے کر لیجئے کہ اس معاشرے میں سرخی ظلم کے خلاف شرمندگی سے آئے گی یا کمزور پر ہاتھ اٹھانے کے غرور سے۔ کیونکہ جب ہر شخص کو صرف منہ لال کرنا آجائے اور کسی کو اپنا رویہ درست کرنا نہ آئے تو معاشرہ نہیں بنتا، طاقتوروں کا ایک اکھاڑا بن سکتا ہے، کیونکہ جس معاشرے میں کمزور کے لئے تھپڑ اور طاقتور کے لئے رعایت ہو، وہاں منہ تو بہت سے لال ہوں گے، مگر انصاف کا چہرہ کبھی سفید نہیں ہوگا۔