لمحہء موجود میں شامل رہیں افکارِ دوست
زندگی چلتی رہے قائم رہے معیارِ دوست
ان سے ملنے کی تمنا مل کے بھی تشنہ رہی
ہو سکی نہ گفتگو، سنتے رہے گفتارِ دوست
منتظر آنکھیں، سکوتِ شب، بہت تنہا تھی جھیل
چاند لمحے کو چڑھا تھا، ہوگیا دیدارِ دوست
سردیوں کی شام میں مہکی گلابوں کی کلی
پنکھڑی کو یوں چھوا جیسے کہ ہو رخسارِ دوست
یہ دسمبر، یہ سکوں پرور حسیں تنہائیاں
آئیے مل بیٹھیئے، میں اور مرے دلدارِ دوست
رنگ بھی حدت سے جلتے ہیں تری تصویر کے
تجھ سے بہتر ہے مرے ہمدم ترا شاہکارِ دوست
یوں مری آنکھیں کریں تعظیم جھک جھک کر تری
تو مقدس ہے مجھے جیسے کہ ہو دستارِ دوست