1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. مسافر ہے مگر اپنا ٹھکانہ لے کے آیا ہے
Shaista Mufti

مسافر ہے مگر اپنا ٹھکانہ لے کے آیا ہے

مسافر ہے مگر اپنا ٹھکانہ لے کے آیا ہے
بڑا خودار ہے اور اک زمانہ لے کے آیا ہے

گلوں نے اوڑھ رکھیں ہیں قبائیں شامِ حسرت کی
یہ منظر خوبصورت تازیانہ لے کے آیا ہے

میں اپنے دل کے لٹنے کا سبب کیا پوچھتی اس سے؟
بڑا دلچسپ رہزن ہے بہانہ لے کے آیا ہے

تمھاری آنکھ میں ہیرے چمکتے صاف دکھتے ہیں
پرانے وقت کا ساتھی خزانہ لے کے آیا ہے

مرے آنے کو جانے کو، وہ جانے کیا سمجھتا ہے
وفا سے نابلد ہے اور فسانہ لے کے آیا ہے

بھلے موسم میں پھولوں سے بھری بیلیں مہکتی ہیں
پپیہا پی کہاں کا اک ترانہ لے کے آیا ہے

چلو اب ختم ہے قصہ وفاؤں کا، خطاؤں کا
نیا اک باب وہ کچھ شاعرانہ لے کے آیا ہے