مسافر ہے مگر اپنا ٹھکانہ لے کے آیا ہے
بڑا خودار ہے اور اک زمانہ لے کے آیا ہے
گلوں نے اوڑھ رکھیں ہیں قبائیں شامِ حسرت کی
یہ منظر خوبصورت تازیانہ لے کے آیا ہے
میں اپنے دل کے لٹنے کا سبب کیا پوچھتی اس سے؟
بڑا دلچسپ رہزن ہے بہانہ لے کے آیا ہے
تمھاری آنکھ میں ہیرے چمکتے صاف دکھتے ہیں
پرانے وقت کا ساتھی خزانہ لے کے آیا ہے
مرے آنے کو جانے کو، وہ جانے کیا سمجھتا ہے
وفا سے نابلد ہے اور فسانہ لے کے آیا ہے
بھلے موسم میں پھولوں سے بھری بیلیں مہکتی ہیں
پپیہا پی کہاں کا اک ترانہ لے کے آیا ہے
چلو اب ختم ہے قصہ وفاؤں کا، خطاؤں کا
نیا اک باب وہ کچھ شاعرانہ لے کے آیا ہے