مسافر ہے مگر اپنا ٹھکانہ لے کے آیا ہےشائستہ مفتی22 اکتوبر 2026غزل0118مسافر ہے مگر اپنا ٹھکانہ لے کے آیا ہے بڑا خودار ہے اور اک زمانہ لے کے آیا ہے گلوں نے اوڑھ رکھیں ہیں قبائیں شامِ حسرت کی یہ منظر خوبصورت تازیانہ لے کے آیا ہے ممزید »
خواب ٹوٹ جانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہےشائستہ مفتی26 ستمبر 2026غزل0150خواب ٹوٹ جانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے عمر کو گنوانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے زندگی کے محور پر رقص میں ہیں پروانے اپنے پر جلانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے سرخ آنکھ جلمزید »
دامنِ چاک کو سینے کا ہنر رکھتے ہیںشائستہ مفتی19 ستمبر 2026غزل0118دامنِ چاک کو سینے کا ہنر رکھتے ہیں ہیں جو خاموش، قرینے کا ہنر رکھتے ہیں گرچہ خالی ہے تری بزم میں اپنا یہ ایاغ ہم مگر آنکھ سے پینے کا ہنر رکھتے ہیں آسمانوں سے مزید »
ہم کہ مجرم ہیں تری یاد بھلا دی ہم نےشائستہ مفتی16 ستمبر 2025غزل4364ہم کہ مجرم ہیں تری یاد بھلا دی ہم نے اپنی پلکوں پہ نئی صبح سجا لی ہم نے یوں ہی ہوتا ہے زمانے میں کہ جب دیوانے کسی چاہت بھری دہلیز پہ سر رکھتے ہیں ایک دنیا تریمزید »
وہ نبیوں میں اک گلستاں ہیں محمد ﷺشائستہ مفتی09 ستمبر 2025نعت0398وہ نبیوں میں اک گلستاں ہیں محمد ﷺ ستاروں کی اک کہکشاں ہیں محمد ﷺ مجھے آسماں سے نہیں خوف مطلق زمیں پر جو دارالاماں ہیں محمد ﷺ میں زم زم کو پی کر جھکاتی ہوں نظرمزید »
دلِ مضطرب تو بھی ہشیار رہناشائستہ مفتی01 ستمبر 2025غزل3368دلِ مضطرب تو بھی ہشیار رہنا بھری انجمن میں نہ بے زار رہنا نہیں شوق غالب ہمیں رت جگوں کا مگر چاند چڑھتے ہی تیار رہنا نہ جانے کہاں بھولی منزل ملے گی دلِ بے خبر مزید »
مجھ کو چھوتا ہے خدا نرم ہواؤں کی طرحشائستہ مفتی02 جولائی 2025حمد0385مجھ کو چھوتا ہے خدا نرم ہواؤں کی طرح ساتھ دھڑکن کے تعلق ہے وفاؤں کی طرح روز کرنوں سے منور مرے دروازے پر مجھ کو روشن نظر آتا ہے فضاؤں کی طرح سرد موسم میں مری رمزید »
جاں سے جائیں تو کیا تماشہ ہوشائستہ مفتی25 جون 2025غزل0363جاں سے جائیں تو کیا تماشہ ہو خوں رلائیں تو کیا تماشہ ہو یوں اچانک تمھاری محفل سے اٹھ کے جائیں تو کیا تماشہ ہو خامشی کے مدھر تلاطم میں گیت گائیں تو کیا تماشہ ہمزید »
سنتے ہیں اُس کی نیند ہے، راتیں چراغ کیشائستہ مفتی18 جون 2025غزل1468سنتے ہیں اُس کی نیند ہے، راتیں چراغ کی منظر بھی خواب ناک ہے، باتیں ایاغ کی موسیٰ کی طرح کون عصا لے کے آ گیا جادو کمال ہے تو بصیرت دماغ کی چڑھتے ہیں ہم بمزید »
بارش تھمی تو کھل گئے اسرارِ آگہیشائستہ مفتی11 جون 2025غزل0347بارش تھمی تو کھل گئے اسرارِ آگہی رنگینیوں میں قید تھے افکارِ آگہی کیا کچھ نہ ہم سے کہہ گئی صر صر کی گفتگو غنچہ کھلا تو کھل گیا گلزارِ آگہی باطل ہوا خیال مزید »