1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. اس جہان گرد کو منظر نہیں بھایا کوئی
Shaista Mufti

اس جہان گرد کو منظر نہیں بھایا کوئی

اس جہان گرد کو منظر نہیں بھایا کوئی
ایسا لگتا ہے کہ آسیب کا سایا کوئی

بوجھ بن جائے مسافر تو اسے جانے دو
پاؤں میں وقت کے گرداب کو لایا کوئی

روز و شب ایک تصور میں بسر ہوتے ہیں
ہائے بے تابیِ دل آنکھ کو بھایا کوئی

گنگناتی ہے ہوا، رات کو بجتے ہیں کواڑ
رنگ خوشبو سے مہکتا ہوا آیا کوئی

جب بھی دیکھوں تو سوا اور نظر آتی ہے
عشق تجھ سے ہے کہ چڑھتی ہوئی چھایا کوئی

جاگتا رہتا ہے ہر وقت مری آنکھوں میں
بند آنکھوں میں تصور جو سمایا کوئی