1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. ایک موسم ہے تری یاد کا کھو جانے دے
Shaista Mufti

ایک موسم ہے تری یاد کا کھو جانے دے

ایک موسم ہے تری یاد کا کھو جانے دے
دھوپ کے پاؤں تھکے ہیں ذرا سو جانے دے

ترکِ الفت سے کیا میں نے سفر کا آغاز
راستے دشت میں کھو جائیں تو کھو جانے دے

جھیل میں عکس وہی ہے جو نظر آتا ہے
آنکھ پُر نم ہو سرِ بزم تو ہو جانے دے

شام لے آئی ہے پھر شہر کے کوچوں سے پرے
دل کی ویرانیاں وحشت میں سمو جانے دے

دور اندیش ہے دیوانگی دل کی جانم
نام رسوا ہو ترے ساتھ تو ہو جانے دے

رات نے ہجر کی تمہید لکھی ہے دل پر
چہرۂ خواب کو اشکوں میں ڈبو جانے دے