1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. خواب ٹوٹ جانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے
Shaista Mufti

خواب ٹوٹ جانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے

خواب ٹوٹ جانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے
عمر کو گنوانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے

زندگی کے محور پر رقص میں ہیں پروانے
اپنے پر جلانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے

سرخ آنکھ جلتی ہے، رت جگوں میں روتی ہے
اشک کو چھپانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے

پھر خیالِ بے پرواہ کھو گیا ہے راہوں میں
گھر کو بھول جانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے

خط ترے جلاتے ہی لکھ رہی ہوں کیا کیا کچھ
حرف کو مٹانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے

گمشدہ سے رستوں پر خود کو یاد کر لینا
جشنِ غم منانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے

ہنس پڑے ہیں ہم صاحب، آپ کی نوازش ہے
دکھ میں مسکرانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے