خواب ٹوٹ جانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے
عمر کو گنوانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے
زندگی کے محور پر رقص میں ہیں پروانے
اپنے پر جلانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے
سرخ آنکھ جلتی ہے، رت جگوں میں روتی ہے
اشک کو چھپانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے
پھر خیالِ بے پرواہ کھو گیا ہے راہوں میں
گھر کو بھول جانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے
خط ترے جلاتے ہی لکھ رہی ہوں کیا کیا کچھ
حرف کو مٹانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے
گمشدہ سے رستوں پر خود کو یاد کر لینا
جشنِ غم منانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے
ہنس پڑے ہیں ہم صاحب، آپ کی نوازش ہے
دکھ میں مسکرانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے