1. ہوم
  2. کالمز
  3. ابنِ فاضل
  4. وہ ایک ڈبہ ٹافیوں کا
Ibn e Fazil

وہ ایک ڈبہ ٹافیوں کا

کینٹین سے ٹافیوں کا ایک ڈبہ غائب ہوا۔ زیادہ سے زیادہ چند سو روپے کا ہوگا۔ مگر اس ایک ڈبے کی قیمت ہم سب نے بہت زیادہ چکائی ہے۔۔ تیرہ برس کے ایک بچے کا چہرہ نیلا پڑ گیا، ایک استاد حوالات پہنچ گیا، ایک تصویر پورے ملک میں گھوم گئی اور قوم حسبِ معمول دو گروہوں میں بٹ گئی۔

ایک گروہ کہتا ہے، ایسے استاد کو نشانِ عبرت بنا دو۔ دوسرا کہتا ہے، استاد کی عزت کا جنازہ نکال دیا، آج کل کے بچے ہیں ہی ایسے۔ عزیزان گرامی، دونوں آدھا سچ بول رہے ہیں اور آدھا سچ اکثر پورے جھوٹ سے زیادہ نقصان کرتا ہے۔

اب ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنے کوشش کرتے ہیں۔۔

جوتا چہرے پر پڑنا مار نہیں، اہانت ہے، ذلت ہے۔ صرف ہماری تہذیب میں ہی نہیں شاید دنیا میں ہر جگہ۔۔ بڑے بڑے جھگڑوں میں لوگ تھپڑ معاف کر دیتے ہیں، جوتا معاف نہیں ہوتا

اب سوچیں، ایک تیرہ سالہ بچہ، کلاس فیلوز کے سامنے، اس استاد کے ہاتھوں جوتے کھا رہا ہے جسے اس نے باپ کی جگہ سمجھنا تھا۔ ہو سکتا ہے اس نے ٹافیاں چرائی ہوں۔ تو کیا ہوا؟ تیرہ برس کا بچہ ٹافیاں چرا لے تو یہ جرم کم اور سوال زیادہ ہے، بھوک تھی؟ دوستوں کا دباؤ تھا؟ محض شرارت تھی؟ گھر میں عسرت تھی، ٹافیوں کی کسک تھی۔۔

استاد کا اصل کام، یہ سوال پوچھنا تھا۔

جوتا تو کوئی بھی مارلیتا ہے، سوال صرف استاد پوچھ سکتا ہے

جو۔۔ وہ نہیں پوچھ پایا۔۔

اس دن مگر بچے نے ایک سبق ضرور ازبر کیا۔۔ ایمانداری کا نہیں، چوری سے پرہیز کا بھی نہیں، سبق یہ تھا کہ طاقتور کمزور کو ذلیل کر سکتا ہے۔۔ چہرے کے نیل چند دن میں اتر جائیں گے، دل پر پڑا نیل شاید ساری عمر نہ اترے۔

دوسری طرف استاد ہے۔۔ کسی کا بیٹا ہے، کسی کا باپ ہے۔ وہ آسمان سے نہیں اترا، اسی معاشرے نے اسے ایسا بنایا ہے۔ ہم میں سے کون ہے جس نے بچپن میں "مولا بخش" کا ذائقہ نہیں چکھا؟

ہمارے والدین استاد کے پاس چھوڑتے ہوئے کہتے تھے: ماس تمہارا، ہڈیاں ہماری۔ وہی بچے بڑے ہو کر استاد بنے اور وہی ڈنڈا اگلی نسل کے حوالے کر دیا۔ تشدد بھی وراثت کی طرح منتقل ہوتا ہے۔ کم تنخواہ، ساٹھ ساٹھ بچوں کی کلاسیں، بچوں کی نفسیات کی کوئی تربیت نہیں اور اوپر سے نتائج کا دباؤ۔ یہ سب اس کے جرم کو جائز نہیں بناتے، مگر اس کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے میں مدد ضرور کرتے ہیں۔۔

قانون کو حرکت میں آنا چاہیے تھا، آیا۔ اچھا کیا۔

مگر افسوس ہتھکڑی لگے استاد کی تصویر جب تماشا بن کر گھومتی ہے تو کیا وہ صرف ایک ملزم کی تصویر تھی، پنجاب کے لاکھوں اساتذہ نے، جو روز دھوپ میں، ٹوٹی کرسیوں پر، بغیر شکوے کے ہمارے بچے پڑھاتے ہیں، ان میں سے پر ایک نے اس تصویر میں اپنا چہرہ دیکھا ہوگا۔

کیا اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے الفاظ بھی ترازو میں تول کر نکلنے چاہئیں، غصہ جتنا بھی جائز ہو، مقتدر حلقوں کی زبان سے نکلا ایک جملہ نامہرباں۔۔ ہزاروں ہاتھوں میں سنگ منصفی بن جاتا ہے۔

استاد کی عزت قوم کا سرمایہ ہے۔ یہ سرمایہ ایک دن میں لٹ جاتا ہے، بنانے میں نسلیں لگتی ہیں۔

تو پھر کیا کریں؟

استاد بھائیو اور بہنو، ایک اصول باندھ لیجیے: غصے میں ہاتھ نہیں اٹھانا اور چہرے پر تو کبھی بھی نہیں۔ جب کسی پر بہت غصہ آئے۔ کسی حرکت سے خون ہی کھول اٹھے۔۔ تو کلاس سے دو منٹ کے لیے باہر نکل جائیں، پانی پی لیں۔

ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں ی۔۔ جو بچہ سب سے زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔ آپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہی اس کو ہے۔

بچوں کے والدین سے بھی گزارش ہے کہ نہ استاد کو مارپیٹ کا لائسنس دیں اور نہ ہی بچے کے سامنے استاد کو ولن بنائیں۔۔ یہ تو مسلمہ کہ بچہ جس استاد کی عزت نہیں کرے گا اس کی بات کو وزن ہی نہیں دے گا تو پھر اس سے کچھ سیکھ کیسے سکتا ہے۔

اور "ہر دلعزیز" حکومت صاحبہ، "مار نہیں پیار" کو اب دیواروں پر لکھنے سے آگے بھی چلیں، اساتذہ کو بچوں کی نفسیات کی تربیت دیں، سکولوں میں کونسلر تعینات کریں۔۔ اساتذہ کو بھی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ ہو سکے تو کلاسیں چھوٹی کریں۔

اور۔ براہ کرم انصاف عدالت میں ہونے دیں، گلی محلوں اور سوشل میڈیا پر نہیں۔

اور ہم سب، تصویریں شیئر کرنے سے پہلے ایک لمحہ رک جائیں۔ ہمارا کام صرف اور تماشا دیکھنا ہے یا کچھ انسانیت کا شائبہ ابھی باقی ہے۔

آخر میں ایک واقعہ۔ مسجدِ نبوی میں ایک دیہاتی آیا اور ایک کونے میں پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ غصے میں اس کی طرف لپکے۔ معلمِ اعظم ﷺ نے انہیں روکا، اسے فارغ ہونے دیا، جگہ پر پانی بہانے کا حکم دیا اور پھر اسے نرمی سے سمجھایا کہ یہ اللہ کا گھر ہے۔

سوچیں مسجد میں پیشاب کرنا بڑا جرم تھا یا کینٹین سے ٹافیاں؟

اور جواب میں نرمی ملی یا جوتا؟

ٹافیوں کا ڈبہ تو کینٹین سے دوبارہ خریدا جا سکتا ہے۔ مگر بچے کا استاد پر اعتماد اور قوم کا استاد کے لیے احترام، کسی کینٹین پر نہیں بکتا۔