1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. ابنِ فاضل/
  4. تنازعہ رویت ہلال کا ممکنہ حل

تنازعہ رویت ہلال کا ممکنہ حل

سائنس مذہبی معاملات میں ہر موڑ پر ہماری معاون ہے۔ جب قرآن پاک کہتا ہے کہ ' تب تک کھاؤ اور پیؤ جب تک صبح کا سفید دھاگہ، کالے دھاگے سے جدا نہ ہوجائے' تو ہمیں یہاں تک راہنمائی کرتی ہے کہ ہم تین بج کر انتالیس منٹ تک کھا سکتے ہیں۔ اور اسی طرح جب قرآن پاک کہتا ہے کہ 'اپنا روزہ رات تک مکمل کرو' تو سائنس ہی ہماری مدد کرتی ہے کہ چھ بجکر پچاس منٹ پر روزہ کھولنا ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ چاند کے معاملے میں یہ ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں عید یا رمضان تک نہیں لیکر جاتی۔

بات سادہ سی ہے۔ سورج اور چاند میں بہت سے فرق ہیں۔ سورج کی اپنی روشنی ہے۔ جو بہت تیز بہت مرتکز ہوتی ہے۔ اس روشنی پر سورج سے زمین تک پہنچنے کے درمیان راستہ کے عوامل جیسے کرہ ہوائی، نمی کا تناسب، فضائی آلودگی، کاسموس ریز اور اسی طرح کے دیگر عوامل بہت ہی کم اثر انداز ہوپاتے ہیں۔ سورج ہر روز تھوڑا سا طلوع ہوتا ہے پھر رفتہ رفتہ بڑھتا ہوا مکمل نظر آتا ہے پھر اسی طرح شام میں ہر روز غرب ہوتا ہے۔ لہذا طلوع آفتاب کے متعلق ہمارے پاس قطعی درست معلومات دستیاب ہیں۔

دوسری طرف چاند کی اپنی روشنی نہیں۔ وہ سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے۔ اس لیے اس کی بہت کمزور، بہت دھیمی سی روشنی ہوتی ہے۔ اس مدھم سی روشنی پر راستہ میں موجود عوامل جیسے کرہ ہوائی، ہوا میں نمی کا تناسب، فضائی آلودگی، کاسموس شعاعوں کا ارتکاز اور نوعیت اور اس کے علاوہ بہت سے ایسے عوامل جن کا ابھی ہمیں ٹھیک سے علم بھی نہیں، بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ کہ چونکہ چاند کی گردش کا معاملہ بھی بالحاظ سورج الٹ ہے یعنی یہ زمین کے گرد گردش کرتا ہے اس لیے یہ سورج کی طرح ہرروز طلوع ہوکر مکمل ہوتا ہوا سفر کرتا آہستہ آہستہ غرب نہیں ہوتا، بلکہ زمین کی نسبت سے جو اوامر سورج ایک دن میں سر انجام دیتا ہے چاند وہی اوامر ایک ماہ میں انجام دیتا ہے۔

لہذا اگلے ماہ جب چاند طلوع ہوتا ہے تو زمین سورج کے گرد سفر کرتی ہوئی، اپنے اس مقام سے کہ جہاں وہ پچھلے ماہ طلوع ماہتاب کے وقت تھی، کافی دور جاچکی ہوتی ہے۔ لہذا اگلے ماہ کی طلوع ماہتاب کی معلومات جغرافیائی تبدیلی کی وجہ سے ہماری کسی بھی نتیجہ تک پہنچنے میں اس قدر مدد نہیں کررہی ہوتیں۔ بلکہ آسان الفاظ میں آپ یوں سمجھ لیں کہ جتنا جغرافیائی فرق آج اور کل کے طلوع آفتاب میں ہے اتنے فرق کے ساتھ چاند کو دوبارہ دیکھنے کیلئے سائنسدانوں کو کم از کم چھتیس سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اور چھتیس سال بعد بھی اگر مطلع ابر آلود ہوا تو دوبارہ اسی مقام پر چاند کا ظہور اگلے چھتیس سال بعد ہوگا۔

لہذا یہ سائنس ہی ہمیں بتاتی ہے کہ اپنی تماتر جدت کے باوجود ابھی تک وہ اس قابل نہیں ہوئی کہ سو فیصد درست طور پر ہماری راہنمائی کرسکے کہ چاند کب نظر آئے گا۔ بلکہ وہ ہماری صرف یہ راہنمائی کرتی ہے کہ چاند کی پیدائش کب ہوگی۔ اور کسی بھی مقام پر چاندنظر آنے کیلئے اس کا زمین اور سورج کے ساتھ کتنا زاویہ ہونا چاہیے۔ اور یہ کہ چاند نظر آنے کے امکانات ہیں بھی کہ نہیں۔

اب سمجھتے ہیں کہ چاند کی پیدائش کیا ہے اور زمین اور سورج کے ساتھ اس کا زاویہ کیا ہے اور یہ کیسے بڑھتا اور کم ہوتا ہے۔ چاند زمین کے گرد اپنا چکر ساڑھے انتیس دن میں مکمل کرتا ہے۔ جب یہ زمین کے گرد گردش کرتا ہوا عین زمین اور سورج کے درمیان پہنچتا ہے کہ یہ تینوں ایک ہی خط پر موجود ہوتے ہیں تو اس وقت زمین چاند اور چاند سورج کے درمیان زاویہ صفر ہوجاتا ہے۔  یہ وقت چاند کی پیدائش کا وقت کہلاتا ہے۔

اب چونکہ چاند زمین کے گرد ایک چکر یعنی 360 ڈگری ساڑھے انتیس دن یعنی 708 گھنٹے میں مکمل کرتا ہے۔ تو ہم آسانی سے حساب لگا سکتے ہیں کہ وہ ایک ڈگری کی ڈسپلیسمنٹ 1.9667 گھنٹے میں کرے گا۔ اب تک جو مشاہدات ہمارے خطے میں کیے گئے ہیں اس کی روشنی میں دس سے بارہ ڈگری پر چاند ہو تو نظر آنے کا امکان ہوتا ہے۔ مطلب اس کی پیدائش سے عمر 19.667 گھنٹے یعنی انیس گھنٹے اور چالیس منٹ ہوتو نظر آسکتا ہے۔۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں یہ حد مختلف ہوتی ہے۔

لیکن یہ صرف ایک فیکٹر ہے۔ اس کے علاوہ غروب آفتاب اور ممکنہ طلوع ماہتاب کے اوقات میں فرق، ماہتاب کی اونچائی بھی بہت اہم۔ فیکٹر ہیں۔ مگر ان سب کا تعلق جغرافیائی حالات سے ہے۔ اگر ایک ہی مقام کو لیکر بات کریں تو یہ جغرافیائی حالات تو فکس ہوگئے، آب آتے ہیں دیگر عوامل۔ جیسے موسمی حالات وغیرہ۔

اب فرض کریں ایک بار اسی عمر کے ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب یا فضائی آلودگی کم تھی تو وہ دکھائی دے گیا لیکن بالکل اسی ڈگری پر اگلی بار نمی کا تناسب یا فضائی آلودگی زیادہ ہوگی تو دکھائی نہیں دے گا۔ یا اسی طرح کاسموس شعاعوں اور دیگر غیر معلوم عوامل کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے سائنس ابھی تک معذور ہے کہ وہ سو فیصد درست راہنمائی کرسکے کہ چاند دکھائی دے گا کہ نہیں۔

چونکہ ایک ہی ڈگری ڈسپلیسمنٹ اور ایک ہی جغرافیائی حد میں کبھی چاند دکھائی دے جاتا ہے اور کبھی نہیں لہذا ہم اس کے موجود ہونے کا کیلنڈر تو بنا سکتے ہیں دکھائی دینے کا نہیں۔ لہذا جب تک سائنس خود یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ وہ اس قابل ہوچکی ہے کہ ان تمام عوامل کا احاطہ کرسکے جو رویت چاند پر اثر انداز ہوتے ہیں تب تک ہمیں صرف چاند دیکھ کر ہی اپنی مذہبی امور طے کرنا ہوں گے۔

اب رہا سوال کہ چاند کو لے کر ہوئے ہر سال کے تنازعات کا کیا حل ہو۔ اور اس امر کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ بہت شوقین اور مذہب سے بے پناہ لگاؤ رکھنے والے مسلمانوں کے رمضان اور بطور خاص طاق رات اور عمومی طور پر عید اور محرم وغیرہ کے ایام کا انتہائی درست تعین کیا جاسکے تو اس سے پہلے ہمیں اس پر بات کرنا چاہیے کہ پورے ملک میں ایک ساتھ عید منانے کی خواہش کیوں ہے۔

دیکھیں عید منانا یا روزہ رکھنا ایک مذہبی معاملہ ہے۔ اس میں اگر جغرافیائی لحاظ سے رکاوٹیں ہیں تو اس کا حب الوطنی اور قومی یکجہتی سے کوئی معاملہ نہیں۔ جغرافیائی مجبوری کی وجہ سے جیسے لاہور اور کراچی کے لوگ نمازیں آدھ گھنٹے سے بھی زیادہ فرق سے پڑھتے ہیں، سارا ملک روزہ ایک ساتھ نہیں رکھتا اور ایک ساتھ افطار نہیں کرتا تو قومی یکجہتی کو کوئی آنچ نہیں آتی اسی طرح اللہ کریم کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے دو عیدیں منانے سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے یہ بالکل بچگانہ سی بات ہے۔

اب آتے ہیں حل کی طرف۔ اس سلسلے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پاکستان کو رویت ہلال کے لحاظ سے تین مون زونز میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

مون زونز کا میرا نظریہ سمجھنے سے پہلے آپ یہ سمجھ لیجیے کہ چاند کے ظہور کا امکان طول البلد کے حساب سے بہت سے علاقے پر تقریباً یکساں ہوتا ہے۔۔ جبکہ عرض بلد پر اس کے ظہور کے امکانات بدلتے رہتے ہیں۔ لہذا جب گوادر میں چاند نظر آگیا ہے تو ضروری نہیں کہ سکھر میں بھی آئے گا۔ اور لاہور تو اور بھی دور ہے۔ اگر ہم جائزہ لینے کی کوشش کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کراچی سے افقی طور پر دبئی 735 میل دور ہے جبکہ گوادر کا لاہور سے فاصلہ تقریباً 770 میل ہے۔ لہذا جس طرح کراچی والے اکثر دبئی کیساتھ عید نہیں کرتے اسی طرح گوادر اور لاہور کی عید بھی اکثر اوقات ایک دن ممکن نہیں۔

ان سب اشکال کا حل ہے مون زونز۔ دیکھیں پاکستان کا مغرب میں سب آخری علاقہ صوبہ بلوچستان میں زاہدان کی سرحد کے قریب کا علاقہ ہے جبکہ مشرق میں شکر گڑھ کے پاس کا گاوں ہے۔ اگر افقی طور پر اس فاصلہ کی پیمائش کی جائے تو یہ 860 میل بنتا ہے۔ یعنی تقریباً 1380 کلو میٹر۔ اس 1380 کلومیٹر کو تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے تو ہر 460 کلومیٹر پر مشتمل ایک مون زون بنتا ہے۔

پہلا مون زون زاہدان کی سرحد سے لے کر نوشکی تک بنے گا، دوسرا نوشکی سے لیکر راجن پور تک اور تیسرا راجن پور سے لیکر شکر گڑھ سرحد تک۔ ہر زون کے ایک دو شہروں میں رویت ہلال کے دفاتر منتقل کردیں۔ اور سب کمیٹیاں صرف اپنے اپنے زون میں چاند کی شہادتیں اکٹھا کریں۔ اگر زون ون یعنی گوادر میں چاند دکھائی دے جائے اور زون ٹو یعنی کراچی میں نظر نہ آئے رو صرف زون ون کے لوگ عید کریں گے اور زون ٹو اور تھری والے روزہ رکھیں گے۔ اگر زون ٹو نظر آگیا ہے تو زون ون اور ٹو دونوں عید کریں گے۔ اور اگر زون تھری یعنی لاہور یا اسلام آباد میں نظر آگیا ہے تو سارا ملک عید ایک ساتھ کرے گا۔

اور آخری بات کہ جب چاند نکلتا ہے تو وہ بیس کروڑ میں سے دس یا تیرہ لوگوں کو نظر نہیں آتا بلکہ ہزاروں لوگوں کو نظر آتا ہے اور آنا چاہیے۔ لہذا اس پر قانون سازی کی جائے کہ اگر پورے ملک میں صرف تیرہ لوگ یا دس لوگ چاند دیکھنے کے دعویدار ہیں تو وہ اپنے دعویٰ کا ثبوت مہیا کریں ورنہ انہیں سزا دی جائے۔ یہ کوئی مذاق ہے کہ لاکھوں لوگوں کے شعائر کے ساتھ چند لوگ کھلواڑ کریں۔ ساتھ ہی یہ قانون سازی بھی ہونی چاہیے کہ کم از کم دس بیس ہزار لوگ اگر چاند دیکھیں تو وہی رویت ہے۔۔ ورنہ ایک روزہ اور رکھنے میں کیا مضائقہ ہے۔ آخر روزے رکھنے سے ہمارا منشا خوشنودی الہی کا حصول ہی توہے۔