1. ہوم
  2. مختصر
  3. ابنِ فاضل
  4. درخت کی آپ بیتی
Ibn e Fazil

درخت کی آپ بیتی

آپ نے کبھی درخت دیکھا ہے۔۔ یقیناً دیکھا ہوگا۔

اس کا تنا، شاخیں، پتے، پھل۔ مگر کبھی غور سے دیکھا ہے، یقیناً غور سے بھی دیکھا ہوگا۔۔

چلیں آج اسے ایک اور انداز سے دیکھتے ہیں۔۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک درخت اپنی پوری زندگی کی آپ بیتی اپنے اندر لکھتا رہتا ہے؟

بھلا کیسے؟

درخت کے تنے کو کاٹیں۔۔ جو دائرے نظر آتے ہیں، وہ صرف خوبصورت نقش و نگار نہیں ہوتے۔

وہ درخت کی آپ پیتی ہے۔

ایک دائرہ، ایک سال۔

کچھ حلقے چوڑے ہوتے ہیں، کچھ باریک۔

چوڑا حلقہ بتاتا ہے کہ اس سال درخت کو بڑھنے کے لیے نسبتاً بہتر حالات ملے۔ موافق موسم، مناسب خوراک اور دوست ماحول۔۔

باریک حلقہ بتا سکتا ہے کہ اس سال پانی، درجہ حرارت یا دوسرے ماحولیاتی حالات غیر موافق تھے جس کے باعث اس کی نشوونما کی رفتار کو محدود رہی۔۔ گویا یہ مصائب کا مسائل کا سال تھا

مطلب۔۔ درخت بول نہیں سکتا، مگر اس کا تنا بولتا ہے۔

مجھے ایسا لگتا ہے ہماری زندگیوں کے ماہ و سال بھی ان دائروں سے مماثل ہیں، ہم بھی اپنی زندگی میں ایسے ہی دائرے بناتے رہتے ہیں۔

کچھ سال خوشگوار، دوستانہ عروج کی طرف لیجانے والے۔

مگر جیسے بہت تیزی سے گزرتے ہیں۔

اور، کچھ سال ہمیں روک دیتے ہیں۔ پکڑ لیتے ہیں

کچھ سال ہمیں کامیابی دیتے ہیں۔

اور کچھ سال ہمیں صرف مضبوط بناتے ہیں۔

لیکن یاد رہے کہ درخت کے تنے کا سب سے خوبصورت حصہ اس کا صرف ایک حلقہ نہیں ہوتا، بلکہ سارے حلقے مل کر اس کی کہانی کو خوبصورت بناتے ہیں۔

اسی طرح آپ کی زندگی کا ایک مشکل سال بھی آپ کی پوری کہانی نہیں ہے۔

آپ ابھی ختم نہیں ہوئے۔

آپ ابھی بن رہے ہیں۔