1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. دنیا کی خونیں تمثیل اور ستم ظریفی کا بے رحم ناٹک
Muhammad Naseem

دنیا کی خونیں تمثیل اور ستم ظریفی کا بے رحم ناٹک

کرہ ارض کا یہ وسیع و عریض اسٹیج آج ایک ایسے ہولناک اور سنسنی خیز تمثیل کا مرکز بن چکا ہے جس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ایک طرف دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، فلک بوس عمارتیں اور مادی ترقی کے آسمان چھوتے مینار ہیں تو دوسری طرف انسانیت کی تذلیل، لاشوں کے انبار اور خون سے رنگین وہ ہاتھ ہیں جو دنیا کے ایوانِ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔

عالمی منڈیوں کے چارٹس اور تجارتی کوریڈورز پر مسند نشین ظالم و جابر عناصر ایوانوں میں بیٹھ کر شیمپو کے جام ٹکرا رہے ہیں، عیش و عشرت کے تانے بانے بن رہے ہیں اور دنیا کے وسائل کو اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے بے دردی سے نچوڑ رہے ہیں۔ ان کی محفلوں کی روشنیوں اور رقص و سرود کی آوازوں کے پیچھے دراصل ان مظلوموں اور بے سہاروں کی آہیں دفن ہیں جن کے لہو سے عالمی معیشت کے یہ محل تعمیر کیے گئے ہیں۔ معاشی جنگوں، تجارتی پابندیوں اور منڈیوں کے اس شیطانی کھیل میں غریب اقوام کی زندگیاں محض اعداد و شمار بن کر رہ گئی ہیں۔

ایک طرف صنعتوں کے پہیے تیز تر کرنے کے لیے اسلحے کی فیکٹریاں دن رات اربوں ڈالر کے سودے کر رہی ہیں اور دوسری طرف جنگ زدہ خطوں میں معصوم بچوں کے ٹکڑے اڑائے جا رہے ہیں، ماؤں کی گودیں اجاڑی جا رہی ہیں اور بستیوں کو کھنڈرات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ تجارتی معاہدوں کی پشت پر دراصل وہ خونی معاہدے کارفرما ہیں جو کمزور ممالک کے استحصال کی بنیاد پر تحریر کیے جاتے ہیں، جہاں ایک طرف منافع کی لکیریں آسمان چھوتی ہیں تو دوسری طرف انسانیت کی سانسیں دم توڑتی ہیں۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دنیا کا یہ نظام اتنی ہنر مندی اور سفاکی سے ترتیب دیا گیا ہے کہ ظلم کرنے والے مظلوم کی ہی داد رسی کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور دنیا کے میڈیا کے بڑے بڑے ادارے اس ناٹک کے پردہ پوش بن کر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ حادثات، طوفان، وبائیں اور مصنوعی قحط اس عالمی کھیل کے وہ ہتھیار ہیں جنہیں پس پردہ طاقتیں اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہیں، تاکہ عوام کی توجہ اصل لوٹ مار سے ہٹا کر روزمرہ کے بقا کے مسئلوں میں الجھا دی جائے۔

اس ظالمانہ توازن میں طاقتور ممالک کی تجارتی بندرگاہیں اور اسٹاک ایکسچینجیں روزانہ لاکھوں انسانوں کے خون کی قیمت پر پروان چڑھتی ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس تمام تر تباہی کو امن اور ترقی کا نام دیا جاتا ہے۔ تاریخ کے اس تاریک ترین موڑ پر جب انسان خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی کا سامنا کر رہا ہے، فطرت کے اصول اور کائنات کے نوامیس بھی اس بے لگام ظلم پر ساکت ہیں۔

مظلوموں کی فریادیں فضا میں تحلیل ہو رہی ہیں اور ظالموں کی ہنسی آسمان کو چیر رہی ہے، مگر یہ توازن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ خون کی ہر بوند اور آنسو کا ہر قطرہ وقت کے سینے پر ایک ایسا سوالیہ نشان ثبت کر رہا ہے جس کا جواب اس کائنات کی اٹل حقیقتوں کو دینا ہی ہوگا اور یہی اس دورِ جدید کا سب سے بڑا المیہ اور ہولناک ترین سچ ہے۔