آج عالم اسلام کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان کا اگر تحقیقی اور تاریخی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مغربی دنیا کئی محاذوں پر ایک منظم فکری اور تہذیبی حکمت عملی کے تحت سرگرم ہے جس سے اسلام اور مسلمانوں کو فکری، ثقافتی، معاشی اور سیاسی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ، میڈیا، تعلیم اور عالمی سیاست کے مختلف شعبوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
فکری و تعلیمی محاذ پر سب سے پہلا وار اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یعنی استشراق کے نام پر ہوا۔ مغربی مستشرقین نے اسلام اور اسلامی تاریخ پر سینکڑوں کتابیں لکھیں لیکن اکثر کتابوں میں اسلام کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ فلسطینی نژاد مسیحی مفکر ایڈورڈ سعید نے اپنی مشہور کتاب میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ ثابت کیا کہ کیسے مغربی ادب اور نصاب میں مسلمانوں کو پسماندہ، متشدد اور غیر مہذب کے طور پر دکھایا گیا تاکہ نوآبادیاتی قبضے کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ اسی فکری بنیاد پر آج بھی کئی مغربی جامعات میں اسلامیات کا نصاب ایسے زاویے سے پڑھایا جاتا ہے جو اسلام کے حقیقی پیغام امن اور علم سے ہٹ کر ہے اور اس سے نسلوں کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں غلط تصورات پیدا ہوئے ہیں۔
دوسرا بڑا محاذ میڈیا اور فلمی صنعت کا ہے جسے آج اسلاموفوبیا کی صنعت کہا جاتا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں مغربی میڈیا میں مسلمانوں کی منفی تصویر کشی میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ امریکی تحقیقی ادارے نے 2011 میں اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ امریکہ میں چند تھنک ٹینکس اور میڈیا گروپس نے باقاعدہ نیٹ ورک بنا کر اسلاموفوبیا کو فروغ دیا اور اس پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے۔ ہالی ووڈ کی فلموں میں دہائیوں تک مسلمان کردار کو دہشتگرد کے طور پر دکھایا گیا جس نے عام مغربی شہری کے ذہن میں مسلمان کے بارے میں خوف پیدا کیا اور اس کا عملی نقصان یہ ہوا کہ یورپ اور امریکہ میں نفرت انگیز جرائم اور مساجد پر حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔
تیسرا محاذ سیاسی و قانونی ہے جہاں آزادی اظہار کے نام پر مقدسات کی توہین کو معمول بنایا گیا۔ ڈنمارک، فرانس اور سویڈن میں گستاخانہ خاکوں اور قرآن کی بے حرمتی جیسے واقعات نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ دوسری طرف انہی ممالک میں ہولوکاسٹ یا دوسرے مذاہب کی توہین پر سخت قوانین موجود ہیں جس سے مسلمانوں میں دوہرے معیار کا احساس پیدا ہوا اور مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان اعتماد کا بحران بڑھا ہے۔ چوتھا محاذ معاشی و عالمی اداروں کا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی پالیسیوں پر مسلم دنیا میں تنقید کی جاتی رہی ہے کہ کئی مسلم ممالک جو تیل اور وسائل سے مالا مال ہیں آج بھی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف مسلم ممالک پر لگنے والی معاشی پابندیوں نے ان کی ترقی کو روکا ہے جس سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور یہی ماحول انتہا پسندی کے لیے زرخیز زمین بن جاتا ہے۔
پانچواں اور جدید ترین محاذ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل وار کا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں الگورتھم بھی ایک بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔ کئی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ نفرت انگیز مواد اور اسلام مخالف مواد زیادہ وائرل ہوتا ہے اور اس سے نوجوان نسل میں اسلام کے بارے میں غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ان تمام محاذوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اسلام کا حقیقی پیغام جو امن، علم، عدل اور رحمت کا پیغام ہے دنیا کے سامنے صحیح طرح نہیں پہنچ سکا اور عالمی سطح پر مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔
اس کا حل جنگ یا نفرت میں نہیں بلکہ حکمت میں ہے۔ ہمیں اپنا مضبوط میڈیا بنانا ہوگا، اپنی جامعات میں تحقیق کو فروغ دینا ہوگا، بین المذاہب مکالمے کو بڑھانا ہوگا اور اقوام متحدہ میں قانون سازی کے لیے متحدہ کوشش کرنی ہوگی کہ تمام مذاہب کے مقدسات کا احترام یقینی بنایا جائے۔ اسلام نے ہمیشہ دلیل، علم اور امن سے اپنا پیغام پھیلایا ہے آج بھی ہمیں اسی راستے پر چلنا ہوگا۔